اے۔ حمید کے افسانے
اور پل ٹوٹ گیا
یہ محبت کی ایک عجیب کہانی ہے۔ دو دوست اتفاق سے ایک ہی لڑکی سے محبت کرتے ہیں لیکن اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ لڑکی دونوں دوستوں سے یکساں محبت کرتی ہے۔ ایک دوست جب پانچ سال کے لئے بیرون ملک چلا جاتا ہے تو اس لڑکی کی شادی دوسرے دوست سے ہو جاتی ہے لیکن شادی کے کچھ دن بعد ہی لڑکی مر جاتی ہے اور مرتے وقت اپنے شوہر سے وعدہ لیتی ہے کہ وہ اس کی موت کی اطلاع اپنے دوست کو نہیں دے گا۔
ایک رات
بے یار و مددگار سرد ٹھنڈی رات میں سر چھپانے کے لیے جگہ تلاش کرتے ایک ایسے شخص کی کہانی، جسے مسجد سے نکالے جانے پر راستے میں ایک دوسرا شخص مل جاتا ہے۔ اس سے مل کر وہ سوچتا ہے کہ اس کے مسئلے کا حل ہو گیا مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اسی کی طرح پناہ کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ وہ اسے ساتھ لیکر ایک چائے خانے میں چلا جاتا ہے اور وہاں اپنی کہانی سناتا ہے۔ اس کی کہانی سے وہ اتنا متاثر ہوتا ہے کہ اپنے حالات بدلنے کے لیے بھوکا اور تنہا ہی بےرحم دنیا سے ٹکرانے کے لیے نکل پڑتا ہے۔
منزل منزل
یہ افسانہ ادھوری محبت، تقدیر کے فیصلوں اور یادوں کے دوام کی ایک سحر انگیز رومانوی داستان ہے۔ کہانی کا تانا بانا راوی اور 'راجدہ' نامی لڑکی کے گرد گھومتا ہے، جن کے درمیان گزرا ہوا وقت محبت کے عروج اور گہرے جذباتی لگاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، راجدہ کی زندگی میں اس کے چچا زاد بھائی کی اچانک آمد اور پھر بے بسی کے عالم میں اس سے شادی، دونوں کے درمیان مستقل جدائی کا سبب بن جاتی ہے۔ برسوں بعد ایک گھریلو خاتون کے روپ میں راجدہ سے دوبارہ ملنے کے باوجود، راوی مادی دنیا کی دوریوں سے ماورا ہو کر اپنے تخیل اور روح میں بسی 'اپنی راجدہ' کی غیر فانی یادوں میں جینے کا حوصلہ اور تخلیقی توانائی تلاش کر لیتا ہے۔
مٹی کی مونا لیزا
کہانی میں سماجی تفریق، اونچ نیچ کا فرق، غریب اور امیر کی زندگی کی مصیبتوں اور آسانیوں کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔ ایک طرف اونچا طبقہ ہے جو آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ پڑھنے لکھنے، گھومنے پھرنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جا رہا ہے۔ وہیں غریب طبقہ بھی ہے جسے اپنے بچوں کی فیس، ان کی دوائیوں اور دوسری ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہے۔ ان گھروں کی عورتیں سارا دن کام کرنے کے بعد تھک ہار کر جب رات کو سوتی ہیں تو ان کے چہروں پر بھی مونا لیزا کی مسکان تیر جاتی ہے۔
شاہدرے کی ایک شام
معاشی کمزوریوں کے باعث ناکام حسرتوں والی محبتوں کے المیہ کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا راوی ایک افسانہ نگار ہے۔ ایک رسالہ کا ایڈیٹر اس سے سنسنی خیز کہانی لکھنے کی فرمائش کرتا ہے۔ یکسوئی کی خاطر وہ نور جہاں کے مقبرہ میں جاتا ہے لیکن وہاں اسے اپنی محبوبہ کا خیال ستاتا ہے جو صرف معاشی کمزوری کی وجہ سے اس کی بیوی نہ بن سکی تھی اور پھر اسے ان ہزاروں نور جہاؤں کا خیال آتا ہے جو اپنے اپنے مزاروں میں دفن ہیں۔ مقبرے کی چہار دیواری سے نکلتے وقت افسانہ نگار محسوس کرتا ہے کہ وہ نور جہاں کے بارے میں کبھی کوئی کہانی نہیں لکھ سکے گا۔