آمنہ ابوالحسن کا تعارف
آمنہ ابوالحسن کا اصل نام سیدہ آمنہ بانو ہے۔ ان کی ولادت 10 مئی 1941ء کو حیدر آباد، تلنگانہ میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام ابوالحسن سید علی ہے اور شریکِ حیات کا نام مصطفیٰ علی اکبر ہے۔ ان کی تصانیف کی تعداد اس طرح ہے: کہانی (1965)، سیاہ سرخ سفید (1968)، تم کون ہو؟ (1974)، واپسی (1981ء)، آواز (1985ء)، بائی فوکل (1990ء)، یادش بخیر (1994ء)، پلس مائنس، مہک۔
مضمون نگار: جاوید شاہ آباد کے مطابق
”حیدر آباد کی فکشن نگار خواتین میں آمنہ ابوالحسن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ سید آمنہ بانو جو آمنہ ابوالحسن کے نام سے ادبی دنیا میں پہچانی جاتی ہیں، حیدر آباد کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں 10 مئی 1941 کو پیدا ہوئیں۔ ان کے نانا اپنے وقت کے جید عالم تصور کیے جاتے تھے۔ آمنہ ابوالحسن کے والد کا نام ابوالحسن سید علی تھا۔ آمنہ ابوالحسن کے بچپن میں ہی ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ اپنے والد کے زیر سایہ انہوں نے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ ان کے والد ابوالحسن سید علی مرحوم نامور قانون داں اور سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما بھی تھے۔ مصنفہ کی شادی دورانِ تعلیم ہی جناب مصطفی علی اکبر صاحب سے ہوئی جو آل انڈیا ریڈیو میں نیوز ریڈر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ آمنہ ابوالحسن 9 اپریل 2005 کو سرائے فانی سے عالم لافانی کو منتقل ہو گئیں۔ آمنہ ابوالحسن کو بچپن ہی سے کہانی لکھنے کا شوق تھا۔ ان کی پہلی کہانی ”ننھی کلی“ کے عنوان سے بچوں کے لیے شائع ہونے والے رسالے میں چھپی تھی، اس وقت موصوفہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھیں۔ کہانی شائع ہونے کے بعد ان کے قلم میں خود اعتمادی آگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی تخلیقات یکے بعد دیگرے منظرِ عام پر آنے لگیں۔ انہوں نے متعدد ناول لکھے جنھیں اردو ادب میں بہترین ناول تسلیم کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ”سیاہ سرخ سفید“،”تم کون ہو“،”واپسی“،”مہک“، ”یادش بخیر“وغیرہ۔
آمنہ ابوالحسن کا سب سے پہلا ناول”سیاہ سرخ سفید“ 1968 میں نیشنل بک ڈپو، مچھلی کمان حیدر آباد سے شائع ہو کر منظر عام پر آیا۔ یہ ناول 224 صفحات پر مشتمل ایک رومانی ناول ہے۔ ان کا دوسرا ناول ” تم کون ہو“ 1974 میں نیشنل پرنٹنگ پریس، چار کمان، حیدر آباد سے شائع ہوایہ ناول 164 صفحات پر مشتمل ایک معاشرتی ناول ہے۔ان کا ایک اور ناول ” واپسی“1981 میں موڈرن پبلشنگ ہاوس ،گول مارکٹ سے شائع ہوا۔ ”یادش بخیر“1994 میں موڈرن پبلشنگ ہاوس ، دریا گنج، نئی دہلی سے شائع ہوا۔ ناول ” یادش بخیر “ میں قدیم تہذیب اور جدید دونوں رجحانات پائے جاتے ہیں۔ مصنفہ نے ناول میں کہیں کہیں خود کلامی سے کام لیا ہے اور اس کے وسیلے سے کرداروں کے افکار و تصورات کی ترجمانی کی ہے۔“