Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Haji Laq Laq's Photo'

حاجی لق لق

1898 - 1961 | لاہور, پاکستان

مشہور اردو ادیب، اپنے طنز و مزاح اور خوبصورت نثر کے لئے جانے جاتے ہیں۔

مشہور اردو ادیب، اپنے طنز و مزاح اور خوبصورت نثر کے لئے جانے جاتے ہیں۔

حاجی لق لق کے اشعار

44
Favorite

باعتبار

نام کے ساتھ ایک دو الفاظ کی دم چاہیئے

شعر پھیکا ہی سہی لیکن ترنم چاہیئے

سامنے اغیار کے بے پردہ اور مجھ سے حجاب

گلگلوں سے ہے اسے پرہیز اور گڑ کھائے ہے

یہ جراثیم عشق مر نہ سکے

ہم نے ٹیکے کرا کے دیکھ لیا

بن کے لیڈر سو رہے تو زندگی کس کام کی

امن قائم ہو گیا تو لیڈری کس کام کی

بن گیا کالج بھی بزم مہ وشاں

مرد عورت کا قرینہ ایک ہے

اس جہاں میں کہاں وفا لق لقؔ

خوب ٹھونک اور بجا کے دیکھ لیا

ترا مریض ہوں میں ڈاکٹر کا گھر نہ بتا

یہ درد عشق ہے ظالم کوئی بخار نہیں

شاعروں میں اب کہاں اچھے برے کا امتیاز

لاؤڈ اسپیکر نے سب کا بول بالا کر دیا

جھڑتی ہیں ان کے منہ سے جو منظوم گالیاں

سن سن کے واہ واہ کئے جا رہا ہوں میں

اب بھی وہ کہہ رہے ہیں کہ میرے بزرگ ہو

کچھ بھی ہوا نہ شیو کرانے سے فائدہ

نقش پائے یار کو چوموں تو چوموں کس طرح

ہو برا پتلون کا مجھ سے نہ بیٹھا جائے ہے

ان کے منہ سے دو کالمی گالی

قند ہے قند بھی مکرر ہے

ان کا دربان بن تو جاؤں مگر

موٹروں کا شمار کون کرے

قیس بننے سے ہم رہے لق لقؔ

سوٹ کو تار تار کون کرے

میں بھی اے جاں کوئی ہریجن تھا

بزم سے کیوں اٹھا دیا تو نے

تو وہ گل ہے کہ جس میں بو ہی نہیں

تو تو گوبھی کا پھول ہے پیارے

کسے داستان مصارف سناؤں

میں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں

عہد جدید میں نئے سامان عشق ہیں

کیا لطف عشق بازی کا جو فون پر نہ ہو

رقیب رو سیہ کی گت بنانا سہل ہے لیکن

ٹھٹھک جاتا ہوں میں جب مجھ کو تھانہ یاد آتا ہے

گرد کو بھی میں اس کی پا نہ سکا

یار موٹر خرام نے مارا

فصل گل میں چلے گا ساغر مے

ہو گئی گر ادھار کی صورت

نہ مانو مری التجا کو نہ مانو

رسالے میں سب کچھ چھپا چاہتا ہے

ٹپک پڑی ہے ترے منہ سے رال کیوں اے جاں

یہ ہے مرا جگر سوختہ کباب نہیں

سامنے میرے ملی دلبر نے چہرے پر کریم

اس طرح گویا وہ میرے دل پہ مکھن مل گیا

Recitation

بولیے