Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Haji Laq Laq's Photo'

حاجی لق لق

1898 - 1961 | لاہور, پاکستان

مشہور اردو ادیب، اپنے طنز و مزاح اور خوبصورت نثر کے لئے جانے جاتے ہیں۔

مشہور اردو ادیب، اپنے طنز و مزاح اور خوبصورت نثر کے لئے جانے جاتے ہیں۔

حاجی لق لق کے اشعار

42
Favorite

باعتبار

نام کے ساتھ ایک دو الفاظ کی دم چاہیئے

شعر پھیکا ہی سہی لیکن ترنم چاہیئے

سامنے اغیار کے بے پردہ اور مجھ سے حجاب

گلگلوں سے ہے اسے پرہیز اور گڑ کھائے ہے

بن کے لیڈر سو رہے تو زندگی کس کام کی

امن قائم ہو گیا تو لیڈری کس کام کی

اب بھی وہ کہہ رہے ہیں کہ میرے بزرگ ہو

کچھ بھی ہوا نہ شیو کرانے سے فائدہ

ترا مریض ہوں میں ڈاکٹر کا گھر نہ بتا

یہ درد عشق ہے ظالم کوئی بخار نہیں

شاعروں میں اب کہاں اچھے برے کا امتیاز

لاؤڈ اسپیکر نے سب کا بول بالا کر دیا

جھڑتی ہیں ان کے منہ سے جو منظوم گالیاں

سن سن کے واہ واہ کئے جا رہا ہوں میں

نقش پائے یار کو چوموں تو چوموں کس طرح

ہو برا پتلون کا مجھ سے نہ بیٹھا جائے ہے

میں بھی اے جاں کوئی ہریجن تھا

بزم سے کیوں اٹھا دیا تو نے

تو وہ گل ہے کہ جس میں بو ہی نہیں

تو تو گوبھی کا پھول ہے پیارے

کسے داستان مصارف سناؤں

میں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں

عہد جدید میں نئے سامان عشق ہیں

کیا لطف عشق بازی کا جو فون پر نہ ہو

Recitation

بولیے