حاجی لق لق کے اشعار
نام کے ساتھ ایک دو الفاظ کی دم چاہیئے
شعر پھیکا ہی سہی لیکن ترنم چاہیئے
سامنے اغیار کے بے پردہ اور مجھ سے حجاب
گلگلوں سے ہے اسے پرہیز اور گڑ کھائے ہے
یہ جراثیم عشق مر نہ سکے
ہم نے ٹیکے کرا کے دیکھ لیا
بن گیا کالج بھی بزم مہ وشاں
مرد عورت کا قرینہ ایک ہے
اس جہاں میں کہاں وفا لق لقؔ
خوب ٹھونک اور بجا کے دیکھ لیا
ٹپک پڑی ہے ترے منہ سے رال کیوں اے جاں
یہ ہے مرا جگر سوختہ کباب نہیں
سامنے میرے ملی دلبر نے چہرے پر کریم
اس طرح گویا وہ میرے دل پہ مکھن مل گیا