Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

ماچس لکھنوی

1918 - 1970

ماچس لکھنوی کے اشعار

463
Favorite

باعتبار

اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچسؔ لیکن

آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے

وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی

یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے

واعظ نے مجھ میں دیکھی ہے ایمان کی کمی

واعظ میں صرف دم کی کسر دیکھتا ہوں میں

جس مولوی کو آگے پڑھانا تھا میرا عقد

ٹھہرا ہے ان کا عقد اسی مولوی کے ساتھ

ڈھونڈئیے خیر سے جا کر کوئی موٹی سسرال

ہاتھ جو مفت میں آئے تو وہ مال اچھا ہے

حکم بیگم کے چلا کرتے ہیں جیلر کی طرح

اب مرا گھر بھی مجھے جیل ہوا جاتا ہے

واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا

ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھوٹ رہی ہے

تعداد میں ہیں عورتیں مردوں سے زیادہ

قوالیاں موجود ہیں قوال ندارد

جیسے اسلام میں ہے رسم مسلمانی کی

ویسے ہی عشق میں ہے چاک گریبانی کی

جو بھی ہارے گا وہی گالیاں دے گا اس کو

جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

نظم جہاں کو زیر و زبر دیکھتا ہوں میں

مادہ کے اختیار میں نر دیکھتا ہوں میں

اس قدر صرف الٰہی مرے خون دل کا

اب محبت کا بجٹ فیل ہوا جاتا ہے

اللہ رے رعب و داب جنوں بھاگتا ہے وہ

جس کی طرف اٹھا کے نظر دیکھتا ہوں میں

سائے کی تمنا میں جہاں بیٹھ گیا ہوں

چندیا پہ وہیں تاک کے دیوار گری ہے

مرے پر اس کو سو درے نہ کہئے پھر تو کیا کہئے

ترے عاشق کی میت ڈاکٹر خانے میں رکھی ہے

حوادث جب کسی کو تاک کر چانٹا لگاتے ہیں

تو ہفتوں کیا مہینوں کھوپڑی سہلائی جاتی ہے

بتوں پر میں اگر مائل ہوں وہ حوروں پہ مائل ہیں

جناب شیخ میں بھی یہ حماقت پائی جاتی ہے

Recitation

بولیے