مستنصر حسین تارڑ کا تعارف
شناخت: ممتاز سفرنامہ نگار، ناول نویس، ڈراما نگار، کالم نگار اور پاکستان کے مقبول ترین معاصر ادیبوں میں شمار ہونے والی ہمہ جہت ادبی شخصیت
مستنصر حسین تارڑ 1 مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی تعلق گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے ہے، تاہم ان کی زندگی اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز لاہور رہا۔ بچپن لکشمی مینشن، بیڈن روڈ میں گزرا جہاں اردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو ان کے پڑوسی تھے۔ ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں حاصل کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے مختلف ممالک کا سفر کیا جہاں انھیں فلم، تھیٹر اور ادب کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ تقریباً پانچ برس یورپ میں قیام کے بعد ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرکے وطن واپس آئے۔
مستنصر حسین تارڑ نے ادب کی متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی، ان کی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز 1957ء میں سوویت یونین کے سفر سے ہوا، جس کی روداد انہوں نے 'لنڈن سے ماسکو تک' اور بعد ازاں ناولٹ 'فاختہ' کی صورت میں پیش کی۔ تاہم انہیں شہرتِ دوام ان کے سفر نامے 'نکلے تری تلاش میں' (1971ء) سے ملی، جسے قارئین اور ناقدین دونوں نے بے حد پسند کیا۔ اس کتاب نے اردو سفرنامے کو ایک نیا اسلوب عطا کیا جس میں منظر نگاری، ذاتی تجربہ، مزاح، مکالمہ اور تہذیبی مشاہدہ ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ’’اندلس میں اجنبی‘‘، ’’خانہ بدوش‘‘، ’’کے ٹو کہانی‘‘، ’’نانگا پربت‘‘، ’’چترال داستان‘‘، ’’ہنزہ داستان‘‘، ’’نیویارک کے سو رنگ‘‘، ’’ماسکو کی سفید راتیں‘‘، ’’الاسکا ہائی وے‘‘ اور ’’لاہور سے یارقند تک‘‘ ان کے اہم سفرنامے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں سے ان کی گہری وابستگی تھی اور اسی نسبت سے ایک جھیل کو ’’تارڑ جھیل‘‘ کا نام دیا گیا۔
ناول نگاری میں بھی مستنصر حسین تارڑ نے غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ ان کا ناول ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ بے حد مقبول ہوا اور اس کے پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوئے۔ ’’بہاؤ‘‘ کو ان کی شاہکار تخلیق تصور کیا جاتا ہے جس میں وادیٔ سندھ کی ایک قدیم تہذیب کو تخلیقی اور لسانی سطح پر نئی زندگی دی گئی ہے۔ ’’راکھ‘‘ سقوطِ ڈھاکا اور بعد کے سیاسی و سماجی حالات کے پس منظر میں تحریر کیا گیا اہم ناول ہے، جب کہ ’’خس و خاشاک زمانے‘‘، ’’اے غزالِ شب‘‘، ’’قلعہ جنگی‘‘، ’’قربت مرگ میں محبت‘‘ اور ’’ڈاکیا اور جولاہا‘‘ بھی ان کے نمایاں ناولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے ناولوں میں تاریخ، تہذیب، یادداشت، جغرافیہ اور انسانی نفسیات ایک منفرد اسلوب کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
ادب کے ساتھ ساتھ مستنصر حسین تارڑ نے ٹی وی ڈراموں، اداکاری اور میزبانی کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ پی ٹی وی کی صبح کی نشریات ’’صبح بخیر‘‘ کے پہلے میزبان کے طور پر انھیں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور وہ ’’چاچا جی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ انھوں نے ’’آدھی رات کا سورج‘‘ سمیت متعدد ڈرامے تحریر کیے اور کئی ڈراموں میں اداکاری بھی کی۔ بعد کے برسوں میں مختلف ٹی وی چینلز پر سفر اور سماجی موضوعات پر پروگرام کرتے رہے۔ کالم نگاری میں بھی ان کا منفرد اسلوب نمایاں ہے اور ’’تارڑ نامہ‘‘، ’’گزارا نہیں ہوتا‘‘، ’’الو ہمارے بھائی ہیں‘‘ اور ’’کارواں سرائے‘‘ جیسے مجموعے ان کی نثری شوخی، مزاح اور مشاہدے کی بہترین مثالیں ہیں۔
مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں صدارتی تمغأ حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا۔ ان کے ناول ’’راکھ‘‘ کو 1999ء میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ ملا، جبکہ 2002ء میں دوحہ، قطر میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n85018185