Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
P P Srivastava Rind's Photo'

پی.پی سری واستو رند

1950 | نوئیڈا, انڈیا

پی.پی سری واستو رند کے اشعار

367
Favorite

باعتبار

آستینوں میں چھپا کر سانپ بھی لائے تھے لوگ

شہر کی اس بھیڑ میں کچھ لوگ بازی گر بھی تھے

کوئی دستک نہ کوئی آہٹ تھی

مدتوں وہم کے شکار تھے ہم

مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کم

بستی میں بچ گئے تھے مکاں کم بہت ہی کم

آسودگی نے تھپکیاں دے کر سلا دیا

گھر کی ضرورتوں نے جگایا تو ڈر لگا

خواہشوں کی آنچ میں تپتے بدن کی لذتیں ہیں

اور وحشی رات ہے گمراہیاں سر پر اٹھائے

سرخ موسم کی کہانی تو پرانی ہو گئی

کھل گیا موسم تو سارے شہر میں چرچا ہوا

برف منظر دھول کے بادل ہوا کے قہقہے

جو کبھی دہلیز کے باہر تھے وہ اندر بھی تھے

چاہتا ہے دل کسی سے راز کی باتیں کرے

پھول آدھی رات کا آنگن میں ہے مہکا ہوا

وہ فاختہ تھی جسے گولیوں نے بھون دیا

یہ قتل صحن گلستاں میں جارحانہ ہوا

نہ جانے کتنے ہی خبروں نے خودکشی کر لی

چلو کہ آج کا اخبار بھی پرانا ہوا

رات ہم نے جگنوؤں کی سب دکانیں بیچ دیں

صبح کو نیلام کرنے کے لیے کچھ گھر بھی تھے

Recitation

بولیے