راجندر سنگھ بیدی کے مضامین
بیدی کے فن کی استعاراتی اور اساطیری جڑیں
اردو افسانے میں اسلوبیاتی اعتبار سے جو روایتیں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا جو اہم رہی ہیں، تین ہیں۔ پریم چند کی، منٹو کی اور کرشن چندر کی۔ پریم چند کے اسلوب کا تعلق اس عظیم عوامی روایت سے ہے جو پراکرتوں کے سمندر منتھن سے برآمد ہوئی تھی اور جسے
بیدی کا فن: ’ایک چادر میلی سی‘ کے حوالے سے
اس ناولٹ کے متعلق بیدی کا بیان یہ ہے کہ اس میں میں نے وہ زندگی پیش کی ہے جسے میں نے بہت زیادہ قریب دے دیکھا ہے۔ یہ کہانی میرے اپنے گاؤں کی ہے اور اس کے بہت سے کردار حقیقی ہیں، پھر ملک راج آنند کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ، ’’فن اُسی وقت سے بلند پا
افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل
میں معافی چاہوں گا کہ اس مضمون کو کھولنے کے لیے مجھے اپنی ذات میں سے ہوکر گزرنا پڑ رہا ہے۔ آپ اس لیے بھی درگزر کریں گے کہ اتنی بڑی مخلوق کی میں بھی اکائی ہوں ایک، اس لیے سب کو سمجھنے کے لیے میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ پہلے میں آپ کو سمجھ لوں۔ افسانوی
چلتے پھرتے چہرے
اس وقت میں صرف ایک ہی چہرے کی بات کر رہا ہوں جو بہت ’’چلتا پھرتا ہے۔۔۔‘‘ اور وہ چہرہ آج کل کے عام نوجوانوں کا ہے۔۔۔ چنانچہ میرے بیٹے کا بھی۔ اپنے بیٹے کا چہرہ دکھانے کی کوشش میں، اگر کہیں بیچ میں آپ کو میرا چہرہ بھی دکھائی دینے لگے تو برا مت مانیےگا۔
چند لمحے بیدی کی ایک کہانی کے ساتھ: ایک باپ بکاؤ ہے
راجندر سنگھ بیدی کے کردار اکثر و بیشتر محض زمان ومکاں کے نظام میں مقید نہیں رہتے بلکہ اپنے جسم کی حدود سے نکل کر ہزاروں لاکھوں برسوں کے انسان کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ اس طرح ایک معمولی واقعہ، واقعہ نہ رہ کر انسان کے ازلی اور ابدی رشتوں کے بھیدوں کا اشاریہ
فلم بنانا کھیل نہیں
فلم یوں تو کھیل ہے، لیکن اس کا بنانا کھیل نہیں۔ ارادے اور روپ ریکھا سے لے کر فلم بنانے تک بیچ میں بیسیوں، سیکڑوں ایسی رکاوٹیں آتی ہیں کہ بڑے دل گردے والا آدمی بھی دم توڑ سکتا ہے۔ سوشل فلم باقی دوسری فلموں سے الگ نہیں، لیکن زیادہ مشکل اس لیے ہے کہ