Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shoaib Ghaffar's Photo'

شعیب غفار

1933 | لندن, برطانیہ

اردو شاعری کے انگریزی مترجم اور خودنوشت نگار

اردو شاعری کے انگریزی مترجم اور خودنوشت نگار

شعیب غفار کا تعارف

اصلی نام : شعیب اے غفار

پیدائش : 12 Dec 1933 | حیدر آباد, تلنگانہ

شناخت: مترجم، مرتب، خودنوشت نگار، مشاورتی پیٹرولیم انجینئر، ادبی محقق

شعیب غفار ایک ہمہ جہت اور غیر معمولی شخصیت کے حامل ادیب و مترجم ہیں، جنہوں نے طویل اور عالمی سطح پر پھیلے ہوئے پیشہ ورانہ کیریئر کے ساتھ ساتھ ادب، زبان اور تہذیب سے گہرا اور دیرپا رشتہ قائم رکھا۔ وہ 1933ء میں برطانوی ہندوستان کی سب سے بڑی نوابی ریاست، حیدرآباد دکن، میں پیدا ہوئے—وہ ریاست جو نظامِ حیدرآباد کی حکمرانی میں برطانوی سلطنت کی ایک اہم اتحادی تھی۔

انہوں نے چار برس کی عمر میں قرآن مجید کی تلاوت سیکھ لی اور بعد ازاں خود تعلیم کے ذریعے عربی، اردو، فارسی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ ادب، فنون، شاعری، تاریخ، فلسفہ اور زبانوں سے ان کی دل چسپی عمر بھر برقرار رہی۔ عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد سے مکینیکل انجینئرنگ میں فارغ التحصیل ہوئے، جہاں اس زمانے میں ذریعۂ تعلیم اردو تھا۔ 1953ء میں حیدرآباد کے ہندوستان میں انضمام کے بعد انہوں نے پاکستان ہجرت کی۔

شعیب غفار نے برما اینڈ شیل آئل کمپنی (برطانیہ) کے تحت مغربی اور مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں قدرتی گیس کی صنعت کے قیام اور فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، نیز برطانیہ کے نارتھ سی آئل فیلڈ کی ابتدائی ترقی میں بھی ان کی خدمات شامل رہیں۔ ایک مالی طور پر محروم بیس سالہ نوجوان کی حیثیت سے زندگی کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے صرف تعلیم اور عزم کی بنیاد پر ایک عالمی کیریئر تشکیل دیا، جو ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، لیبیا، برطانیہ، امریکہ اور نیدرلینڈز تک پھیلا ہوا ہے۔

ان کی خودنوشت While It Lasts: The Story of a Long Life in Short Stories دسمبر 2023ء میں شائع ہوئی، جو محض ذاتی یادداشت نہیں بلکہ بیسویں صدی کی بڑی سیاسی و سماجی تبدیلیوں، بالخصوص تقسیمِ ہند، کی ایک چشم دید اور مستند روداد بھی ہے۔

یکم فروری 2024ء کو شمالی لندن میں پیش آنے والے ایک المناک آتش زدگی کے حادثے میں ان کی 62 برس کی شریکِ حیات زینب کا انتقال ہو گیا۔ انہیں بچانے کی کوشش میں شعیب غفار خود شدید زخمی ہوئے اور سات ہفتے تک کوما میں رہتے ہوئے وینٹی لیٹر پر رہے۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے مرحومہ اہلیہ کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اردو شاعری کے تراجم اور صوتی نقل (Transliteration) کے ایک بڑے ادبی منصوبے کا آغاز کیا۔

اس سلسلے میں ان کی پانچ کتابوں پر مشتمل تصنیفی کاوش Prominent Urdu Poets and a Selection of Their Poetry نہایت اہم ہے، جس میں آٹھ صدیوں پر محیط پچاس نامور اردو شعرا کے منتخب کلام کو اصل متن، رومن نقل اور انگریزی ترجمے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اردو-ہندی کے وسیع حلقۂ قارئین اور عالمی سطح پر اردو شاعری کے حسن کو قابلِ فہم بنانا ہے۔

اس وقت شعیب غفار انگریزی کی سو سے زائد منتخب نظموں کے اردو ترجمے، بچوں کے لیے کہانیوں، اور نثر کے دیگر منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں:
“تھکا ہوا ہوں مگر ریٹائر نہیں۔”

موضوعات

Recitation

بولیے