aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
1935 | پنچ کولہ, انڈیا
مزاحیہ اور طنزیہ شاعر،غالب کی زمینوں میں اپنی ہزل گوئی کے لیے مشہور،ڈپٹی سکریٹری (ریٹائرڈ) محکمہ قانون حکومت ہریانہ
2Favorite
باعتبار
نیتا ہے دل کا چاہے تو دل سے نکال دے
لیکن ہمارے گھپلوں کی فرد سزا نہ مانگ
راس آتا ہی نہیں ہم کو سکوں
شانتی کو بھنگ کرنا چاہئے
جو زخم جدائی کے دیئے ان پہ مری جاں
سستا سا ہی مرہم تو لگانے کے لئے آ
میری مسرتوں کا سبب بس یہی تو ہے
میں رشوتوں کے بیچ میں حائل نہیں رہا
پیسے کا مول تول ہے اب عشق کا نہیں
محبوب بھی بھروسے کے قابل نہیں رہا
جب سے بڑھا ہے شہر میں موتوں کا سلسلہ
ہم راہ اپنے رکھتا ہوں اک نوحہ گر کو میں
دل میں خیال شادی نہ آئے دھیان رکھ
اے رازؔ جان بوجھ کے گھر کی بلا نہ مانگ
جب سے اکڑ کے رازؔ میں پڑھنے لگا ہوں شعر
میں بھی پڑھے لکھوں میں ہوں جاہل نہیں رہا
مقطع ہے تو ہی رازؔ کی اس تازہ غزل کا
اس بار جو آئے تو نہ جانے کے لئے آ
دل لگی کی بات ڈھلتی عمر میں
رازؔ کی صورت تو دیکھا چاہئے
You have exhausted 5 free content pages per year. Register and enjoy UNLIMITED access to the whole universe of Urdu Poetry, Rare Books, Language Learning, Sufi Mysticism, and more.
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books