مشاعرےاورمجرےکا فرق

مجتبی حسین

مشاعرےاورمجرےکا فرق

مجتبی حسین

MORE BY مجتبی حسین

    دہلی کے ایک ہفتہ وار رسالہ نے اردو مشاعروں کے زوال پر مختلف شاعروں اور دانشوروں کے بیانات کو شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کے تازہ شمارہ میں اردو کے بزرگ شاعر حضرت خمار بارہ بنکوی کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مشاعرہ کے زوال کے دیگر اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے آج کے دور کی شاعرات کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ‘‘آج کے شاعرات نے مشاعرہ کو مجرا بنا دیا ہے۔ پہلے میں مشاعرہ میں جاتا تھا تو عمر بڑھتی تھی۔ مگر اب مشاعروں میں جانے سے عمر گھٹنے لگی ہے۔’’

    حضرت خمار بارہ بنکوی ماشاءاللہ اب اسی (82)کے پیٹے میں ہیں۔اور پچھلے ساٹھ برسوں سے ملک کے مشاعروں میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ جتنے مشاعرے انہوں نے پڑھے ہیں، اتنی تو کتابیں بھی ہم نے نہ پڑھی ہوں گی۔اپنی عمر، تجربہ اورعلم کےاعتبار سے ان کا شمار ہمارے بزرگوں میں ہوتا ہے۔ اور وہ ہمارے پسندیدہ شاعروں میں سے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی حالات ایسےپیدا ہوجاتے ہیں کہ بزرگوں سے اختلاف کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سرظفراللہ خان نے ایک بار پطرس بخاری سے پوچھا‘‘بتائیے کے طنبورے اور تان پورے میں کیا فرق ہوتا ہے؟’’اس پر پطرس بخاری نے سر ظفراللہ خاں سے پوچھا ‘‘حضور! یہ بتائیے کہ اب آپ کی عمر کیا ہے؟’’سر ظفراللہ خاں بولے‘‘پچھتر(75) برس کا ہوچکاہوں۔’’یہ سن کر پطرس بخاری نے نہایت اطمینان سے کہا‘‘حضور!جب آپ نے اپنی زندگی کے پچھتر برس طنبورے اور تان پورے کا فرق جانے بغیرگذاردیئے تو پانچ دس برس اورصبرکر لیجئے۔ ایسی بھی کیا جلدی ہے۔’’خمار بارہ بنکوی نےاب جو یہ کہا ہے کہ موجودہ دور کی شاعرات نے مشاعرے اورمجرے کے فرق کو ختم کردیا ہے اور یہ کہ مشاعروں میں شرکت کرنے سے اب ان کی عمر گھٹنے لگی ہے تو اس سلسلہ میں ہماری دست بستہ عرض یہ ہے کہ وہ ایسی غیرضروری باتوں پرغورکرکےاپنی عمرکو مزید گھٹنے نہ دیں۔ یہ کیا ضروری ہے کہ وہ اپنی عمر کو بڑھانے کی آس میں مشاعروں میں شرکت کرتے رہیں۔ مانا کہ خمار بارہ بنکوی ہمارے بزرگ ہیں لیکن ہم ان کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرتے کہ آج کی شاعرات نے مشاعرے اورمجرے کےفرق کوختم کردیا ہے کیونکہ ہماراخیال ہےکہ مشاعرےاورمجرے میں اب بھی ایک واضح فرق موجود ہے۔وہ اس طرح کہ مجرے میں طوائفیں اس طرح بن سنورکراورسج دھج کر پیش نہیں ہوتیں جیسی ہماری خاتون شعراء مشاعروں میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔

    ماشاءاللہ ہم نے بھی دنیا دیکھی ہے اورہم عمر کی اس منزل میں ہیں جہاں ہم اپنی عمر کے ہند سے کاغذ پرلکھتے ہیں تو یہ ہندے تک ایک دوسرےسےمنہ موڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری عمراب خدا کے فضل سے 62برس کی ہو چکی ہے اور ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ 2 اور 6 کے ہندسوں میں کیسی ان بن پیدا ہو چکی ہے کہ ایک کا منہ مغرب کی طرف تو دوسرے کا مشرق کی طرف۔ عمر کی یہ وہ منزل ہوتی ہے جہاں آدمی نہ صرف اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگتا ہے بلکہ اپنے گناہوں کا اعتراف بھی کر لیتا ہے۔ خمار صاحب نے ہوسکتا صرف مشاعروں میں شرکت کی ہو لیکن ہم نےاپنی زندگی میں (جو خمار صاحب کی عمر کے لحاظ سے مختصرہی کہلائے گی) مشاعروں اور مجروں دونوں میں شرکت کی ہے بلکہ ایک مجرے والی کے گھرپرمشاعروں کی صدارت بھی کی ہے۔ جوانی میں آدمی کیا نہیں کرتا۔ یہ 1968ء کی بات ہے۔ اب آپ سے کیا چھپائیں کہ اس مجرے والی کے ہاں، جو ادب کا بہت اچھا ذوق رکھتی تھی مشاعرہ رات میں دس بجے مقرر ہوتا تھا تو ہم آٹھ بجے ہی مشاعرہ کی صدارت کرنے کے لئے پہنچ جاتے تھے۔ مشاعرہ تو رات کے بارہ بجے برخواست ہوجاتا تھا لیکن ہماری صدارت بسا اوقات رات میں دو بجے تک جاری رہتی تھی۔ سامعین کے لئے شطرنجیاں بعد میں بچھتی تھیں، پہلے مسند صدارت بچھائی جاتی تھی جو سب سےآخرمیں اٹھائی جاتی تھی۔ خدا جھوٹ نہ بلوائےان مشاعروں میں بھی ہم نے ہمیشہ شعرہی سنے۔کبھی مجرانہیں دیکھا جبکہ آج کےمشاعروں میں ہم بعض خاتون شعراء کی عنایت سے مشاعرہ کم سنتے ہیں اورمجرا زیادہ دیکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ہم نے مجرے والیوں کو کبھی اتنا بے باک (بلکہ بے باق)، بے حیا، بے شرم مگرساتھ ہی ساتھ ایسا بے پناہ نہیں پایا جیسا کہ مشاعروں میں ہماری بعض شاعرات نظرآتی ہیں۔ خدا کی قسم مجرے والیاں تو بے حد شریف، پاکباز اورحیادارہوتی ہیں۔ ان بیچاری شریف بیبیوں کو تو اپنے گانے بجانے سے مطلب ہوتا ہے جب کہ بعض شاعرات کی شاعری میں شاعری کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی جتنی کہ‘‘ماورائےشاعری’’کی ہوتی ہے۔ ان کا سارا دارومدا ‘‘ماورائے شاعری’’پر ہی ہوتا ہے۔ ہمارے ایک ندیدے دوست ہیں جنہوں نے پانچ چھ برس پہلے ایک مشاعرہ میں ایسی ہی کسی ‘‘ماورائے شاعری شاعرہ’’کو سننے کے بعد آنکھیں پھاڑپھاڑ کر ہم سے کہا تھا‘‘بخدا کیا شعر کہتی ہے کہ بس دیکھتے رہ جائیے۔’’ ہم نے کہا‘‘مگرشعرکاتعلق دیکھنے سے نہیں سننے سے ہوتا ہے۔’’بولے‘‘مگر اس شاعرہ کا یہی تو کمال ہے کہ اس کے شعر سننے کے نہیں دیکھنے کے ہوتے ہیں۔بالکل ہاتھی کے دانتوں والا معاملہ ہے۔ بہرہ آدمی بھی اس کے کلام کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ شاعری ہوتوایسی۔ بعضے شعرتوایسے نکالتی ہے کہ بلا مبالغہ شعروں سے لپٹ جانے اورانہیں اپنی بانہوں میں سمیٹ لینے کوجی چاہے۔ اردو میں آج تک کسی نے ایسے شعر نہیں کہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے شعروں سے کما حقہ لطف اندوز ہونے کے لئے آنکھوں کا زیادہ سے زیادہ اور کانوں کا کم سے کم استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اگراس کی شاعری کانوں سے سنی جائے تو ہوسکتا ہے کہ بعض مصرعے بحر سے خارج نظرآئیں، وزن بھی کہیں کہیں گررہا ہو۔ لیکن اگرآپ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھیں تو واللہ و ہ سراپا پابند بحرنظرآتی ہے۔ وزن میں ایسی جکڑی ہوئی اور تنی ہوئی ہے کہ خود دیکھنے والے کا وزن گر گرجائے اور سنبھالے نہ سنبھلے۔ وہ ترنم سے کلام نہیں سناتی بلکہ کلام سے ترنم سناتی ہے۔ صرف وہ ہی نہیں بولتی بلکہ اس کا انگ انگ بولتا ہے۔ شعراس کے سالم بدن میں مچلنے اورتھرکنے، ٹھمکنے اور ہمکنے لگتا ہے اورشعرکا مطلب اس کے پورے سیاق وسباق کے ساتھ اس کی خمار آلودہ آنکھوں میں یوں چھلکنے لگتا ہے کہ دیکھنے والا آنکھ مارے بنا نہیں رہ سکتا۔ ہائے ہائے ظالم شعر سناتی ہے تو لگتا ہے کہ خود سراپاغزل بن گئی ہے۔’’

    الغرض ہمارے ندیدے دوست نےاُس شاعرہ کے بارے میں اور بھی بہت سی باتیں کہی تھیں لیکن ہم انہیں یہاں مزید اس لئے بیان نہیں کریں گےکہ انہیں لکھنے میں بیٹھے ہیں توخود ہماری طبیعت کے مچلنےاوربہکنے کےآثارنمودار ہونے لگے ہیں۔ اس لئے اپنے ندیدے دوست کے بیان کو ہم یہاں ختم کرتے ہیں۔

    ابھی پچھلے مہینہ ہمارے دوست اور اردو کے بہی خواہ پروفیسر ستیہ پال آنند نے ہمیں امریکہ سے خط لکھا تھا، جس میں ایک مشاعرہ کی روداد بیان کی گئی تھی۔انہوں نے بتایا تھا کہ امریکہ کے ایک مشاعرہ میں ایسی ہی ایک شاعرہ جب کلام سنانے لگی تو ایک سامع کو جو حاضرین میں بیٹھا ہوا تھا اس کا کوئی شعر اتنا پسندآیا کہ اس نے اظہار پسندیدگی کے طور پر محفل میں بیٹھے بیٹھے ہی شاعرہ کو دور ہی سے دس ڈالر کا کرنسی نوٹ دکھایا۔ اس پرشاعرہ ڈائس سے اترکرخراماں خراماں دس ڈالر کو حاصل کرنے کی غرض سے کرنسی نوٹ کے پاس گئی۔ اسے حاصل کیا اور کرنسی نوٹ کو سینہ کےعین اوپرمگر بلاؤز کے اندر رکھتے ہوئے پھر سے وہی شعر سنانا شروع کردیا۔ ذرا غور کیجئے کہ سامع نے ‘‘مکررارشاد’’کا کیا خوبصورت نعم البدل دریافت کیا ہے۔ سچ ہے امریکی ڈالرمیں بڑی طاقت ہوتی ہے۔

    ہمیں اس وقت اپنی جوانی کے دنوں کے ایک صحافی دوست یاد آگئے جو ان دنوں سعودی عرب میں نہایت کامیاب اورشریفانہ زندگی گذاررہے ہیں۔ بالکل اسم بامسمیٰ بن گئے ہیں۔جوانی کے دنوں میں انہیں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نئی بات سوجھتی تھی۔ آج سے تیس پینتیس برس پہلےانہوں نے حیدرآباد کے رویندرابھارتی تھیٹر میں ایک ایسا مشاعرہ منعقد کیا تھا جس میں صرف خاتون شعراء نے شرکت کی تھی اورجس میں ان کےکہنے کے مطابق ملک بھر کی ممتازخاتون شعراء شریک ہوئی تھیں۔ ہمیں اب بھی ان خاتون شعراءکےکچھ نام یاد ہیں جیسےناز کانپوری، پونم کلکتوی، سلطانہ بارہ بنکوی، زیبا مرادآبادی، نجمہ ناگپوری، چترا بھوپالی وغیرہ۔ مشاعرہ سے پہلے اخباروں میں بطور تشہیران شاعرات کی جان لیوا تصویریں (جن کے تراشے پچھلے سال تک ہمارے پاس محفوظ تھے) کچھ ایسے اہتمام سے شائع ہوئیں کہ کئی ثقہ اور سنجیدہ حضرات نے بھی اس مشاعرہ میں شرکت کو ضروری سمجھا۔ ایسے حضرات میں ہم بھی شامل تھے۔مشاعرہ کچھ اتنا کامیاب رہا کہ رویندر بھارتی تھیٹر کی چھتوں کا اڑنا باقی رہ گیا تھا۔ (چھتیں اس لئے بھی نہیں اڑیں کہ ان دنوں یہ تھیٹر نیا نیا بنا تھا اور مضبوط بھی تھا۔) مشاعرہ کے بعد ہم کسی وجہ سے کچھ دیر رک گئے اور جب باہر نکلے تو دیکھا کہ مشاعرہ گاہ کے باہر زیبا مرادآبادی، نجمہ ناگپوری،اور پونم کلکتوی ایک رکشا والے سے حیدرآباد کے ایک مخصوص محلہ تک چلنے کے لئے کرائے کے مسئلے پرتکرارکررہی ہیں۔ سچ پوچھئے تواس مشاعرہ میں ہمیں مشاعرہ کا ہی لطف آیا تھا مجرے کا نہیں۔ تیس پینتیس برس میں ہمارے ہاں مشاعرہ کی روایت اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں مجرہ پیچھے رہ گیا ہے اورمشاعرہ آگے کو نکل گیا ہے۔ اس لئے کہ مجرے کے کچھ آداب ہوتے ہیں جن کا اب تک بھی پاس ولحاظ رکھا جاتا ہے لیکن مشاعرہ کے آداب جو کبھی ہوا کرتے تھے اب باقی نہیں رہے۔

    حضرت خماربارہ بنکوی سے ہمیں دلی ہمدردی ہے کہ ایسے مشاعروں میں جاکران کی عمربڑھنے کے بجائے کم ہونےلگی ہے۔ ہم تو خیرکبھی بھی کسی مشاعرہ میں یہ سوچ کرنہیں گئے کہ یہاں جانے سے ہماری عمر بڑھے گی۔ اگر مشاعروں میں جانے سے عمر بڑھ سکتی تو علم طب نے آج اتنی ترقی نہ کی ہوتی۔ ہر کوئی ہسپتال جانے کے بجائے مشاعرہ میں بھرتی ہوجاتا ۔ ہم تو خیر خود بھی شاعر نہیں ہیں اورنہ ہی شاعری سے کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ بس کبھی کبھار بعض مخصوص شاعرات کو دیکھنے کے لئے مشاعروں میں چلے جاتے ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ اس سے ہماری عمر بڑھتی ہے یا گھٹتی ہے۔ لیکن اتنا ضرورجانتے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو پھر سے جوان محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اب بھلا بتائیے اس عمرمیں یہ ایک تبسم بھی کسے ملتا ہے۔

    ***

    مآخذ:

    • Book: Aakhir Kar (Pg. 109)
    • Author: Mujtaba Hussain
    • مطبع: Educational Publishing House (1997)
    • اشاعت: 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY