فاصلے کی زبان
ہم عموماً اس وقت لکھتے ہیں جب ہماری آواز اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔ مخاطب کسی دوسرے کمرے، شہر، زمانے یا دنیا میں ہوتا ہے۔ کبھی وہ ابھی پیدا نہیں ہوا، کبھی رخصت ہوچکا ہے، اور کبھی ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے الفاظ آخرکار کس شخص تک پہنچیں گے۔ تحریر اس فاصلے کے درمیان ایک راستہ بناتی ہے۔ وہ آواز کو اس کے لمحۂ پیدائش سے نکال کر ایسے وقت اور مقام تک پہنچاتی ہے جہاں بولنے والا خود موجود نہیں ہوتا۔
یہی تحریر کی سب سے مانوس قوت ہے، مگر اسی قوت کے اندر اس کا سب سے گہرا خطرہ بھی چھپا ہے۔ تحریر فاصلے پر موجود شخص تک پہنچ سکتی ہے، کیونکہ وہ اپنے لکھنے والے سے جدا ہوسکتی ہے۔ لیکن جو نشان اپنے مصنف سے الگ ہوکر سفر کرسکتا ہے، اسے مصنف اپنے ارادے کی حدود میں ہمیشہ کے لیے قید بھی نہیں رکھ سکتا۔ وہ جس آزادی کے باعث اپنی منزل تک پہنچتا ہے، اسی آزادی کے باعث کسی دوسری منزل، کسی دوسرے مفہوم اور کسی غیر متوقع استعمال کی طرف بھی جاسکتا ہے۔
بولی ہوئی گفتگو میں متکلم اور مخاطب عموماً ایک ہی وقت اور مقام میں موجود ہوتے ہیں۔ اگر کسی لفظ کا مفہوم واضح نہ ہو تو سوال کیا جاسکتا ہے۔ بولنے والا اپنے لہجے، چہرے، ہاتھوں کی حرکت اور سابق گفتگو کے حوالے سے مطلب کی وضاحت کرسکتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا جملہ طنزیہ تھا، سنجیدہ تھا یا محض ایک عارضی ردعمل۔ اس کی جسمانی موجودگی معنی کے گرد ایک زندہ سیاق قائم کرتی ہے۔
تحریر میں یہ فوری سہارا موجود نہیں ہوتا۔ عبارت قاری کے سامنے ہے، مگر مصنف شاید وہاں نہیں۔ اس کا لہجہ سنائی نہیں دیتا۔ چہرے کے تاثرات، وقفے، ہچکچاہٹ اور آہنگ کے وہ باریک فرق غائب ہوسکتے ہیں جو گفتگو میں الفاظ کے مفہوم کو سمت دیتے ہیں۔ قاری کے پاس متن موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ مصنف کی زندہ نگرانی موجود نہیں کہ وہ ہر غلط فہمی پر مداخلت کرسکے۔
اسی لیے تحریر کو اکثر تقریر سے کم تر سمجھا گیا۔ کہا گیا کہ تحریر مردہ نشان ہے۔ وہ سوال کا جواب نہیں دے سکتی، اپنا دفاع نہیں کرسکتی اور یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ اسے کون پڑھے۔ لیکن جس چیز کو تحریر کی کمزوری کہا گیا، وہی اس کی تاریخی قوت بھی ہے۔ اگر عبارت اپنے مصنف کے بغیر قائم نہ رہ سکتی تو کوئی کتاب اپنے عہد سے آگے نہ جاتی، کوئی خط فاصلے کو عبور نہ کرتا اور کوئی وصیت اپنے لکھنے والے کی وفات کے بعد نہ پڑھی جاتی۔
تحریر کا وجود اسی شرط پر قائم ہے کہ وہ اس لمحے سے آزاد ہوسکے جس میں اسے لکھا گیا تھا۔ اگر کسی عبارت کو صرف اسی کمرے، اسی دن، اسی شخص اور اسی کیفیت میں سمجھا جاسکتا جہاں وہ وجود میں آئی، تو وہ حقیقی معنوں میں گردش نہیں کرسکتی۔ متن کو سفر کے قابل ہونے کے لیے اپنے ابتدائی سیاق سے کچھ نہ کچھ جدا ہونا پڑتا ہے۔
مگر سیاق سے جدا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تحریر بے سیاق ہوجاتی ہے۔ کوئی نشان مکمل خلا میں معنی نہیں دیتا۔ ہر عبارت کسی زبان، تاریخی صورت حال، صنف، روایت اور سماجی رشتے کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ لیکن متن کا پہلا سیاق اس کی آخری اور ناقابل تغیر سرحد نہیں بنتا۔ تحریر ایک سیاق سے نکل کر دوسرے سیاق میں داخل ہوتی ہے، اور ہر نیا سیاق اس کے بعض پہلو نمایاں اور بعض مدھم کردیتا ہے۔
ایک سیاسی نعرہ جو کسی خاص احتجاج میں پیدا ہوا ہو، برسوں بعد کسی دوسری تحریک کا حصہ بن سکتا ہے۔ محبت کا جملہ طنز کے طور پر نقل ہوسکتا ہے۔ قانونی عبارت نئے مقدمے میں ایک مختلف سوال کا جواب بن سکتی ہے۔ مذہبی متن مختلف تاریخی زمانوں میں الگ اخلاقی اور سیاسی قرأتیں پیدا کرسکتا ہے۔ عبارت اپنی شناخت مکمل طور پر نہیں کھوتی، لیکن اس کے مفہوم کا دائرہ پہلے موقع تک محدود بھی نہیں رہتا۔
یہیں ژاک دریدا کا سوال سامنے آتا ہے۔ اگر نشان صرف اسی وقت کام کرسکتا ہے جب اسے نئے سیاق میں دہرایا جاسکے، تو کیا کوئی سیاق اس کے معنی کو مکمل طور پر بند کرسکتا ہے؟ دریدا کا جواب یہ نہیں کہ سیاق غیر اہم ہے۔ اس کے برعکس، ہر معنی سیاق میں پیدا ہوتا ہے۔ لیکن کوئی ایسا مکمل سیاق فراہم نہیں کیا جاسکتا جو عبارت کے تمام ممکنہ استعمالات اور آئندہ تعبیرات کو پہلے ہی اپنے اندر بند کرلے۔
ہم کسی جملے کے گرد زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرسکتے ہیں۔ یہ جان سکتے ہیں کہ اسے کس نے، کب، کہاں اور کن حالات میں لکھا۔ مصنف کے دوسرے متون، خطوط اور سوانح سے مدد لے سکتے ہیں۔ اس تاریخی محنت سے قرأت زیادہ ذمہ دار اور دقیق بنتی ہے۔ مگر اس کے بعد بھی یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ متن کا صرف ایک ہی ممکنہ مفہوم ہے اور آئندہ کوئی نیا سیاق اس میں ایسا پہلو ظاہر نہیں کرے گا جو پہلے ہماری نگاہ سے اوجھل تھا۔
اس مقام پر مصنف کے ارادے کی حیثیت بھی بدل جاتی ہے۔ تحریر کسی ارادے کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔ لکھنے والا کچھ کہنا چاہتا ہے، الفاظ منتخب کرتا ہے، جملوں کو ترتیب دیتا ہے اور کسی حقیقی یا مفروضہ مخاطب کا تصور رکھتا ہے۔ دریدا مصنف کے ارادے کو بے معنی قرار نہیں دیتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ارادہ متن کے تمام ممکنہ معانی کا آخری حاکم نہیں رہ سکتا۔
اس کی ایک سادہ وجہ یہ ہے کہ مصنف اپنے ارادے کو بھی زبان ہی میں ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ کہے کہ ”میرا مطلب یہ تھا“، تو یہ وضاحت بھی ایک نئے جملے کی صورت اختیار کرے گی۔ اس نئے جملے کو بھی سمجھنا ہوگا۔ ممکن ہے وہ سابقہ عبارت کا مفہوم واضح کردے، لیکن یہ وضاحت خود تعبیر سے بالاتر نہیں ہوگی۔ مصنف کی تشریح اہم شہادت ہے، مگر ایسا آخری فرمان نہیں جو متن کی تمام دوسری ذمہ دار قرأتوں کو منسوخ کردے۔
تحریر اپنے مصنف کے غیاب میں بھی کام کرتی ہے۔ یہاں غیاب سے صرف جسمانی موت مراد نہیں۔ مصنف زندہ ہوسکتا ہے، مگر ہر قاری کے پاس موجود نہیں۔ وہ دوسرے شہر میں، کسی اور کام میں یا اپنی تحریر سے برسوں دور ہوسکتا ہے۔ زیادہ بنیادی بات یہ ہے کہ متن کو متن بننے کے لیے مصنف کی مسلسل موجودگی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ عبارت کی قابل قرأت ہونے کی شرط ہی یہ ہے کہ وہ اپنے لکھنے والے کی عدم موجودگی میں بھی پڑھی جاسکے۔
اس عدم موجودگی کو کسی حادثاتی کمی کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اگر مصنف کی موجودگی لازمی ہو تو تحریر بعید ابلاغ کا وسیلہ نہیں رہتی۔ وہ صرف گفتگو کی ایک ناقص نقل بن کر رہ جاتی۔ تحریر کی اپنی قوت اسی وقت سامنے آتی ہے جب نشان اپنے سرچشمے سے جدا ہوکر کسی نامعلوم وقت میں دوبارہ فعال ہوسکے۔
اس لحاظ سے تحریر بعید ابلاغ ہے۔ وہ ایک زمانے اور مقام سے دوسرے زمانے اور مقام تک نشان بھیجتی ہے۔ لیکن ”بعید“ صرف جغرافیائی فاصلہ نہیں۔ ایک ہی کمرے میں لکھا ہوا نوٹ بھی اس لمحے کے لیے چھوڑا جاسکتا ہے جب لکھنے والا وہاں موجود نہ ہوگا۔ کوئی شخص اپنے مستقبل کے لیے ڈائری لکھ سکتا ہے۔ انسان اپنے ہی آئندہ وجود کو ایک دوسرے مخاطب کی طرح خط بھیج سکتا ہے۔
وقت گزرنے کے بعد لکھنے والا خود بھی اپنے پرانے متن کا اجنبی قاری بن سکتا ہے۔ وہ عبارت پڑھ کر حیران ہوسکتا ہے کہ اس نے یہ بات کیوں لکھی تھی۔ اسے بعض جملے یاد نہیں رہتے، بعض ارادے بدل چکے ہوتے ہیں اور بعض الفاظ ایک نیا مفہوم اختیار کرلیتے ہیں۔ یہاں مصنف اور قاری ایک ہی جسمانی شخص ہیں، مگر وقت نے ان کے درمیان فاصلہ پیدا کردیا ہے۔
تحریر صرف دوسروں سے نہیں، خود اپنے سابق وجود سے بھی رابطے کا وسیلہ ہے۔ مگر یہ رابطہ کامل خود حضوری واپس نہیں لاتا۔ پرانی ڈائری پڑھتے ہوئے انسان اپنے ماضی سے ملتا ہے، لیکن یہ ملاقات بھی ایک فاصلے میں ہوتی ہے۔ لکھا ہوا ”میں“ اور پڑھنے والا ”میں“ مکمل طور پر ایک نہیں رہتے۔ تحریر ماضی کو محفوظ کرتی ہے، مگر اسے موجودہ لمحے میں جوں کا توں زندہ نہیں کرتی۔
یہاں زیرِ التوا فرق (ڈیفرانس) کی حرکت زمانی صورت اختیار کرتی ہے۔ معنی ایک لمحے میں مکمل نہیں ہوتا۔ عبارت اپنے لکھے جانے کے وقت کچھ کہتی ہے، مگر اس کی آئندہ قرأتیں اس کے معنی کی تاریخ میں شامل ہوتی رہتی ہیں۔ متن کسی واحد حال میں بند نہیں رہتا۔ اس کا مفہوم ماضی کے نقش اور مستقبل کے امکان کے درمیان حرکت کرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعد کی ہر قرأت اصل متن پر من مانی مسلط کرسکتی ہے۔ متن کی اپنی لفظی ساخت، نحوی ترتیب، تاریخی زبان اور داخلی رشتے ہر تعبیر پر حدود عائد کرتے ہیں۔ ذمہ دار قرأت متن کی مزاحمت کو سنتی ہے۔ وہ عبارت کو وہ بات کہنے پر مجبور نہیں کرتی جس کی کوئی لسانی یا تاریخی بنیاد موجود نہ ہو۔
لیکن متن کی مزاحمت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس میں صرف وہی معنی ہے جو مصنف نے پہلے ذہن میں رکھا تھا۔ زبان مصنف کے ارادے سے وسیع ہے۔ ایک استعارہ ایسے رشتے پیدا کرسکتا ہے جن کا لکھنے والے کو مکمل شعور نہ ہو۔ ایک لفظ اپنے ساتھ وہ تاریخ لے کر آتا ہے جسے مصنف نے ایجاد نہیں کیا۔ عبارت میں تضاد، خاموشی یا ضمنی مفہوم پیدا ہوسکتا ہے جو اس کے صریح دعوے کو پیچیدہ بنادے۔
تحریر کے اس سفر میں مخاطب کی حیثیت بھی غیر مستحکم ہوتی ہے۔ لکھنے والا کسی خاص شخص کو سامنے رکھ سکتا ہے، مگر عبارت صرف اسی شخص کے لیے قابل قرأت نہیں رہتی۔ خط پکڑا جاسکتا ہے، کتاب قرض دی جاسکتی ہے، نجی نوٹ شائع ہوسکتا ہے اور کسی محدود مجلس کے لیے لکھی گئی تقریر تاریخی دستاویز بن سکتی ہے۔
یہ ممکنہ دوسرا قاری تحریر میں ابتدا ہی سے موجود ہوتا ہے۔ جب ہم کسی شخص کے لیے لکھتے ہیں تو نشان ایسی زبان میں لکھتے ہیں جسے اصولاً دوسرے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ مکمل طور پر نجی نشان، جسے صرف ایک ہی شخص ایک ہی لمحے میں سمجھ سکے اور جو کسی دوسرے موقع پر پہچانا نہ جاسکے، تحریر کے طور پر قائم نہیں رہ سکتا۔
اس لیے مخاطب کی غلطی یا تبدیلی محض بیرونی حادثہ نہیں۔ تحریر کی گردش کا امکان اپنے ساتھ غلط مخاطب تک پہنچنے کا امکان بھی لاتا ہے۔ لفافے پر درست نام اور پتہ درج ہوسکتا ہے، پھر بھی خط گم ہوسکتا ہے، کسی دوسرے کے ہاتھ لگ سکتا ہے یا برسوں بعد دریافت ہوسکتا ہے۔ لیکن زیادہ پیچیدہ صورت یہ ہے کہ خط درست شخص تک پہنچ کر بھی اس معنی میں نہ پہنچے جس کا مصنف نے ارادہ کیا تھا۔
ترسیل اور تفہیم ایک ہی چیز نہیں۔ خط کا جسمانی طور پر پہنچ جانا ضروری نہیں کہ اس کا مفہوم بھی اسی طرح وصول ہوجائے۔ مخاطب اپنے تجربے، خوف، خواہش اور سابق تعلق کی روشنی میں عبارت پڑھتا ہے۔ جس جملے کو لکھنے والے نے تسلی سمجھا تھا، قاری اسے بے اعتنائی سمجھ سکتا ہے۔ جسے مصنف نے دوستانہ مزاح جانا، وہ تحقیر محسوس ہوسکتا ہے۔
گفتگو میں بھی یہ خطرہ موجود ہے، مگر تحریر میں مصنف اکثر فوری اصلاح نہیں کرسکتا۔ یہی بے بسی متن کو قاری کے حوالے کرتی ہے۔ تحریر میں مصنف کی غیر موجودگی قاری کو مطلق حاکم نہیں بناتی، لیکن اسے ایک ذمہ داری ضرور دیتی ہے۔ اسے متن کے الفاظ، سیاق اور اختلافی امکانات کے درمیان فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔
قاری محض محفوظ شدہ معنی وصول نہیں کرتا۔ وہ معنی کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ متن کو ازسرنو اپنی مرضی سے لکھ دیتا ہے۔ قرأت ایک ملاقات ہے جس میں عبارت اور قاری دونوں کام کرتے ہیں۔ متن اپنی زبان، تاریخ اور ساخت کے ساتھ آتا ہے، قاری اپنے سوالات، زمانے اور تجربے کے ساتھ۔
ہر قرأت متن کو کسی نئے حال میں لے آتی ہے۔ قدیم فلسفیانہ عبارت جدید سیاسی سوال کے سامنے ایک مختلف پہلو دکھا سکتی ہے۔ ماضی کی نظم نئے اجتماعی سانحے کے بعد الگ طرح سنائی دے سکتی ہے۔ متن وہی ہوتا ہے، مگر دنیا جس میں اسے پڑھا جارہا ہے بدل چکی ہوتی ہے۔ نئی دنیا متن کے الفاظ کو بدلتی نہیں، لیکن ان کی بازگشت بدل دیتی ہے۔
اسی وجہ سے تحریر تاریخ میں باقی رہ سکتی ہے۔ اگر اس کا مفہوم صرف پہلے مخاطب اور پہلے سیاق کے ساتھ بند ہو تو بعد کے قارئین کے لیے وہ محض ایک مردہ نشان ہوگی۔ متن زندہ اس لیے رہتا ہے کہ وہ اپنے ابتدائی موقع سے کچھ فاصلہ اختیار کرسکتا ہے۔ لیکن یہی زندگی اسے تبدیلی، اختلاف اور تنازع کے سامنے بھی کھول دیتی ہے۔
تحریر کی بقا کسی عجائب گھر میں محفوظ شے کی بقا نہیں۔ متن صرف اس وقت زندہ نہیں کہ اس کا کاغذ سلامت ہے۔ وہ تب زندہ ہوتا ہے جب اسے دوبارہ پڑھا، نقل، ترجمہ، بحث اور نئے سیاق میں استعمال کیا جائے۔ ہر قرأت اس کی بقا بھی ہے اور اس میں تبدیلی کا امکان بھی۔
ترجمہ اس صورت حال کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ایک زبان کا متن دوسری زبان میں منتقل ہوتا ہے تو وہ اپنی پہلی صوت، نحو اور ثقافتی نسبتوں کا کچھ حصہ کھو دیتا ہے، مگر نئی زبان میں نئے امکانات حاصل کرتا ہے۔ ترجمہ اصل کا مکمل بدل نہیں، لیکن محض ناقص نقل بھی نہیں۔ وہ متن کو ایک دوسری زندگی دیتا ہے۔
اگر اصل متن اپنے معنی میں مکمل طور پر خود کفیل ہوتا تو ترجمے کی ضرورت صرف الفاظ بدلنے تک محدود رہتی۔ لیکن ترجمہ ظاہر کرتا ہے کہ معنی کسی ایک لفظی جسم میں مکمل طور پر بند نہیں۔ مترجم کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کس امکان کو نمایاں اور کس نقصان کو قبول کرے۔ ہر ترجمہ اصل سے وفاداری کی کوشش میں اس کی ایک نئی قرأت بھی بن جاتا ہے۔
تحریر کے فاصلے کو ختم کرنے کا خواب جدید ذرائع ابلاغ میں بار بار سامنے آتا ہے۔ فوری پیغام، برقی خط، صوتی ریکارڈنگ اور تصویری رابطہ ایسا محسوس کراتے ہیں جیسے غیاب تقریباً ختم ہوگیا ہو۔ پیغام چند لمحوں میں دنیا کے دوسرے کنارے تک پہنچ جاتا ہے۔ مخاطب کے جواب کا انتظار بھی بہت مختصر ہوسکتا ہے۔
مگر رفتار فاصلے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی۔ فوری پیغام بھی غلط شخص کو بھیجا جاسکتا ہے، سیاق سے کاٹ کر نقل ہوسکتا ہے اور بعد میں ایسے مفہوم میں استعمال ہوسکتا ہے جس کا بھیجنے والے نے تصور نہیں کیا تھا۔ برقی تحریر کی بے مثال رفتار نے اس کی تکرار اور گردش کے امکانات کو کم نہیں، کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
جو عبارت ایک شخص کے لیے لکھی گئی تھی، وہ ایک لمحے میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ اسکرین شاٹ، نقل اور باز اشاعت متن کو اس کے پہلے مخاطب اور موقع سے جدا کردیتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی نے تحریر کے پرانے خطرے کو ختم نہیں کیا۔ اس نے صرف اس کی رفتار، پیمانہ اور سیاسی اثر بڑھا دیا ہے۔
تحریر فاصلے کی دشمن نہیں۔ وہ فاصلے کی زبان ہے۔ وہ جدائی کو ختم کیے بغیر اس کے پار رابطہ قائم کرتی ہے۔ اگر وہ فاصلہ مکمل طور پر مٹادے تو تحریر کی ضرورت ختم ہوجائے۔ اس کا کام دو شعوروں کو ایک دوسرے میں تحلیل کرنا نہیں، بلکہ ان کے درمیان ایسا راستہ قائم کرنا ہے جس پر معنی سفر کرسکے۔
یہ سفر ہمیشہ خطرے کے ساتھ ہوتا ہے۔ عبارت دیر سے پہنچ سکتی ہے، غلط پڑھی جاسکتی ہے اور اپنے پہلے ارادے سے مختلف معنی پیدا کرسکتی ہے۔ مگر خطرے سے پاک پیغام ایسا پیغام ہوگا جو اپنے سرچشمے سے کبھی جدا نہ ہو، اور جو جدا نہ ہوسکے وہ کسی دوسرے تک پہنچ بھی نہیں سکتا۔
تحریر کی آزادی اس کی بے وفائی نہیں، اس کی امکان پذیری ہے۔ وہ مصنف کے ارادے کو ختم نہیں کرتی، مگر اسے ایک وسیع لسانی اور تاریخی زندگی میں داخل کردیتی ہے۔ مصنف لکھ کر اپنے الفاظ کو ایسی دنیا کے حوالے کرتا ہے جہاں وہ ان کی ہر منزل، قاری اور تعبیر کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔
یہ حوالگی مکمل دست برداری بھی نہیں۔ متن اپنے الفاظ، ترتیب اور خاموشیوں کے ذریعے آئندہ قارئین سے کچھ مطالبات کرتا ہے۔ وہ ہر معنی قبول نہیں کرتا۔ لیکن وہ کسی ایک معنی پر ہمیشہ کے لیے بند بھی نہیں ہوجاتا۔ تحریر قاری کو آزادی دیتی ہے، مگر اس آزادی کے ساتھ متن کے سامنے جواب دہی بھی وابستہ ہے۔
ہر عبارت ایک مقررہ مقام سے روانہ ہوتی ہے، مگر اس کی پوری تقدیر روانگی کے لمحے میں نہیں لکھی ہوتی۔ وہ وقت، مقام اور قارئین کے درمیان سفر کرتے ہوئے نئی نسبتیں قائم کرتی ہے۔ بعض منزلیں اسے بدل دیتی ہیں، بعض اس کے پوشیدہ امکان ظاہر کرتی ہیں، اور بعض اسے غلط سمجھ کر بھی اس کی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
فاصلے کے بغیر تحریر نہیں۔ غیاب کے بغیر اس کی بقا نہیں۔ نئے سیاق کے بغیر اس کی تاریخ نہیں۔ تحریر اپنے مصنف سے جدا ہوکر یتیم نہیں ہوتی، بلکہ اسی جدائی میں اپنی دوسری زندگی شروع کرتی ہے۔ وہ کسی آواز کی قبر بھی ہوسکتی ہے اور اس آواز کا مستقبل بھی، کسی گزرے ہوئے لمحے کا نشان بھی اور ابھی نامعلوم مخاطب کی طرف کھلتا ہوا دروازہ بھی۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.