محمد عامر حسینی کے مضامین
نام اور بے نامی
نام لیتے ہوئے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کسی شخص یا شے کو دوسروں سے الگ کرکے پہچان لیا ہے۔ ہجوم میں کسی کو پکارا جائے تو وہ پلٹ کر دیکھتا ہے۔ لفافے پر نام لکھ دیا جائے تو پیغام کے لیے ایک منزل مقرر ہوجاتی ہے۔ کسی کتاب کے سرورق پر مصنف کا نام ہو تو متن
شاندار تنہائی کا مکین
تنہائی کو ’’شاندار‘‘ کہنا بھی غالباً انہی لوگوں کا کام ہے جنہیں زندگی نے تنہا تو کر دیا ہو مگر ان کی خودداری ابھی اتنی سلامت ہو کہ وہ اس حالت کو شکست کے بجائے ایک فکری امتیاز کا نام دے سکیں۔ عام آدمی اکیلا پڑ جائے تو لوگ اس سے ہمدردی کرتے ہیں، کبھی کھانا
نشان کی دراڑ
لفظ ہمارے سامنے آتا ہے تو بظاہر کسی معنی کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہوتا ہے۔ ہم لفظ ”درخت“ سنتے یا پڑھتے ہیں تو ذہن میں ایک خاص شے، صورت یا تصور ابھرتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لفظ ایک برتن ہے اور معنی اس کے اندر پہلے سے موجود کوئی مواد۔ لفظ کا کام صرف
خفیہ خانے کی چابی
کارل گستاو ژونگ نے سگمنڈ فرائڈ کے خطوط اپنے مطالعے کے کمرے میں کسی عام الماری، کسی بے ضرر دراز یا کاغذات کے اس ڈھیر میں محفوظ نہیں کیے تھے جہاں انسان عموماً وہ چیزیں رکھتا ہے جن کی اسے آئندہ ضرورت پڑنے کی امید تو ہوتی ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ
صوت کا فریب
بولتے ہوئے انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے الفاظ براہ راست اس کے باطن سے نکل رہے ہوں۔ آواز اس کے جسم سے پیدا ہوتی ہے، اس کے سانس کے ساتھ حرکت کرتی ہے اور اسی لمحے اس کے اپنے کانوں تک واپس پہنچتی ہے۔ بولنے والا اپنے الفاظ کا خالق بھی معلوم ہوتا