محمد عامر حسینی کے افسانے
سرخ حاشیے
بارش اس روز جامعہ کی پرانی عمارتوں پر اس طرح گر رہی تھی جیسے کسی نے شہر کی ساری مٹی کو ایک ہی رات میں دھو ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ اشاعتی مرکز کے عقبی دروازے پر کھڑا ٹرک بھیگ رہا تھا اور اس کے اندر کتابوں کے چھیالیس ڈبے اپنی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر
اندر کی ہوا
رات کے دو بج کر اڑتیس منٹ پر سلیم اختر کے فون کی بیٹری دو فیصد رہ گئی تھی۔ اسکرین کی نیلی روشنی میں اس کے ہاتھ کی پشت پر ابھری رگیں کسی پرانے شہر کے نقشے کی طرح دکھائی دے رہی تھیں۔ کلائی کے قریب جلی ہوئی جلد کا چھوٹا سا نشان، جو ماسکو کی ایک برفانی
فرق: پروفیسر امین مغل کی یاد میں ایک افسانہ
صبح سے بارش ہو رہی تھی، یا کم از کم مترجم کو بعد میں یہی یاد رہا۔ کونسل کی عمارت کے شیشوں پر پانی کی باریک لکیریں بہتی تھیں اور ان کے پیچھے شہر اپنی جگہ قائم رہنے کے باوجود مسلسل ٹوٹتا رہتا تھا۔ ایک سرخ بس شیشے کے ایک خانے میں داخل ہوتی، پانی اسے درمیان
استری کی سانس
استری پہلے سانس لیتی تھی، پھر تھوکتی تھی۔ آپاں رخسانہ اس کے پیچھے لگا سرخ بٹن دباتیں تو اس کے کالے پیٹ میں کوئی چیز گڑگڑاتی۔ پھر نوک کے قریب بنے سوراخوں سے سفید بھاپ نکلتی اور کپڑے پر لیٹ جاتی۔ بھاپ میں کلف، پسینے، گرم لوہے اور جلے ہوئے دھاگے کی ملی