خفیہ خانے کی چابی
کارل گستاو ژونگ نے سگمنڈ فرائڈ کے خطوط اپنے مطالعے کے کمرے میں کسی عام الماری، کسی بے ضرر دراز یا کاغذات کے اس ڈھیر میں محفوظ نہیں کیے تھے جہاں انسان عموماً وہ چیزیں رکھتا ہے جن کی اسے آئندہ ضرورت پڑنے کی امید تو ہوتی ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ آئندہ کس صدی میں آئے گا۔ ان خطوط کے لیے دیوار میں ایک الگ خفیہ خانہ بنا ہوا تھا۔ اس پر تالا لگا رہتا اور اس تالے کی چابی ژونگ اپنی جیب میں رکھتے۔
چابی جیب میں رکھنا بظاہر ایک معمولی انتظامی احتیاط ہے، مگر نفسی تجزیے کے ایک بڑے ماہر کے معاملے میں معمولی احتیاط بھی فوراً علامت بننے لگتی ہے۔ دوسرے لوگ چابی جیب میں رکھیں تو محتاط کہلاتے ہیں، ژونگ رکھیں تو قاری سوچنے لگتا ہے کہ آخر اس جیب میں کون سا لاشعور بند تھا۔ مصیبت یہ ہے کہ فرائڈ اور ژونگ کے بارے میں ہم کسی تالے کو صرف تالا اور کسی چابی کو صرف چابی رہنے دینے پر آمادہ نہیں۔ ان دونوں نے دنیا کو یہ بری عادت ڈال دی کہ ہر بند دروازے کے پیچھے کوئی دبی ہوئی خواہش، کوئی قدیم علامت یا کم از کم بچپن کا ایک واقعہ ضرور تلاش کیا جائے۔
اس خفیہ خانے میں فرائڈ کے خطوط کے ساتھ چند دوسری قیمتی اشیا بھی رکھی تھیں۔ انہی میں ایک چاقو کے چار ٹکڑے شامل تھے جو ژونگ کے طالب علمی کے زمانے میں غیبی مظاہر سے متعلق ایک تجربے کے دوران ٹوٹ گیا تھا۔ یوں دیوار کے اندر ایک طرف نفسی تجزیے کے بانی کے خطوط تھے اور دوسری طرف ایک ٹوٹے ہوئے چاقو کی یادگار۔ اس سے بہتر ادبی ترتیب کوئی ناول نگار بھی مشکل سے قائم کر سکتا تھا۔ ایک طرف وہ شخص جس نے خوابوں، لغزشوں اور دبی ہوئی خواہشوں کو انسانی ذہن کی چیر پھاڑ کا آلہ بنایا، دوسری طرف ایک چاقو جو خود چار حصوں میں بٹ چکا تھا۔ درمیان میں ژونگ، جو زندگی بھر فرائڈ کے نظریے اور اپنے ماورائی میلان کے بیچ کوئی ایسا راستہ تلاش کرتا رہا جس پر چلتے ہوئے سائنس بھی ناراض نہ ہو اور روحیں بھی گھر چھوڑ کر نہ جائیں۔
ژونگ نے اپنی بعد کی تحریروں، حتیٰ کہ خود نوشت میں بھی فرائڈ کے ساتھ اس خط و کتابت کا ذکر نہیں کیا۔ فرائڈ نے بھی بعد کے کام میں ان خطوط کی طرف تقریباً خاموشی ہی اختیار کی۔ یہ خاموشی اس لیے دل چسپ ہے کہ دونوں حضرات دوسروں کی خاموشیوں کو بڑی توجہ سے سنتے تھے۔ مریض کسی بات کو چھوڑ دے، کسی نام پر رکے، خواب کی کوئی جزئیات بھول جائے یا گفتگو میں کسی معمولی لفظ کی جگہ دوسرا لفظ استعمال کر دے تو اس بھول کے اندر پوری نفسی تاریخ آباد ہو سکتی تھی۔ مگر جب معاملہ اپنی دوستی کے خطوط کا آیا تو دونوں نے کم و بیش یہ طے کیا کہ بعض خاموشیاں محض خاموشیاں بھی ہوتی ہیں، خصوصاً جب ان کی تعبیر سے اپنا ہی سکون خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔
خطوط کا یہ مجموعہ ایک زرخیز مگر بالآخر سانحہ خیز رشتے کی براہ راست شہادت ہے۔ فرائڈ اور ژونگ کی دوستی اچانک کسی ایک نظری اختلاف کے دھماکے سے تباہ نہیں ہوئی۔ وہ کلاسیکی المیے کی طرح آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف بڑھی۔ آغاز میں باہمی عقیدت تھی، پھر فکری اعتماد، اس کے بعد استاد اور جانشین کا رشتہ، پھر ادارے، انجمنیں، کانگریسیں، نظریاتی سرحدیں، معمولی رنجشیں، نفسیاتی تعبیریں، بڑھتی ہوئی وضاحتیں، اور آخر میں ایسی شائستگی جس کے نیچے دوستی کی لاش صاف دکھائی دیتی تھی۔
جو شخص ان خطوط کو صرف نفسیات کی تاریخ سمجھ کر کھولے گا، اسے ابتدا میں مایوسی ہو سکتی ہے۔ وہ شاید توقع کرے کہ ہر خط میں لاشعور کے کسی نئے براعظم کا نقشہ ملے گا، ہر صفحے پر خوابوں کی کوئی پراسرار کنجی ہوگی، اور ہر تیسرے جملے میں انسانی تہذیب کے باطن کا پردہ اٹھ جائے گا۔ مگر خطوط میں ناشروں کے مسائل بھی ہیں، رسائل کی منصوبہ بندی بھی، انجمنوں کے انتخابات بھی، ساتھیوں کی شکایتیں بھی، سفر کے پروگرام بھی اور وہ تمام چھوٹی بڑی باتیں بھی جن کے بغیر عظیم نظریاتی تحریکیں چل نہیں سکتیں۔
ہمیں عظیم آدمیوں سے عجیب توقعات رہتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فرائڈ صبح اٹھتے ہی لاشعور پر غور شروع کر دیتا ہوگا، ناشتے میں ادیپی عقدہ کھاتا ہوگا اور رات کو لیبیڈو اوڑھ کر سو جاتا ہوگا۔ اسی طرح ژونگ کے بارے میں خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہر وقت کسی قدیم مثالی پیکر کے تعاقب میں جنگلوں، خوابوں یا اساطیر کے درمیان گھومتا ہوگا۔ خطوط بتاتے ہیں کہ عظیم مفکر بھی ناشر کے جواب کا انتظار کرتے ہیں، رسالے کے اخراجات پر پریشان ہوتے ہیں، اپنے مخالفوں کی باتوں پر خفا ہوتے ہیں، دوست کے جواب میں تاخیر کو محسوس کرتے ہیں اور کبھی کبھی علمی تحریک کی نجات کے لیے اجلاس کی صدارت کو نہایت ضروری سمجھنے لگتے ہیں۔
انیلا یاف نے 1952 میں جب یہ خطوط پہلی مرتبہ مسلسل پڑھے تو رات بھر جاگتی رہیں۔ انہیں توقع تھی کہ حکمت، نفسیاتی بصیرت اور گہری معنویت کے موتی ہاتھ آئیں گے۔ صبح ہوئی تو انہیں خاصی مایوسی ہوئی، کیونکہ وہاں بڑی مقدار میں تنظیمی سیاست اور ذاتی تبصرے بھی موجود تھے۔ ژونگ کو یہ مایوسی سن کر خوشی ہوئی۔ ممکن ہے انہیں اطمینان ہوا ہو کہ خطوط نے کم از کم ایک قاری کی روحانی توقعات کا کامیاب تجزیہ کر دیا۔
یہ واقعہ ان خطوط کو پڑھنے کا پہلا اصول سکھاتا ہے: عظیم خط وہ نہیں جس کے ہر جملے میں عظمت بیٹھی ہو۔ عظمت اگر ہر وقت اپنے رسمی لباس میں رہے تو جلد ہی تقریب کی مہمان خصوصی معلوم ہونے لگتی ہے۔ خطوط کی اصل قدر اسی آمیزش میں ہے جہاں نظریہ، تھکن، محبت، ادارہ جاتی سیاست، بدگمانی، شائستگی اور ذاتی کمزوری ایک ہی صفحے پر موجود ہوتے ہیں۔ آدمی اپنی کتاب میں اپنے افکار کی تدوین کر سکتا ہے، خط میں اکثر اپنی بے ترتیبی سمیت داخل ہوتا ہے۔
لیکن کیا خط واقعی بے ساختہ اور سچا ہوتا ہے؟
یہ سوال اتنا آسان نہیں جتنا پرانے ادبی مورخ سمجھتے تھے۔ خط کو اکثر مصنف کا نجی اور اصلی چہرہ کہا جاتا ہے، گویا شائع شدہ کتاب میں وہ نقاب پہنتا ہے اور دوست کو خط لکھتے ہوئے اچانک اس کا چہرہ مکمل طور پر بے پردہ ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان تنہائی میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے، اور خط تو بہرحال کسی کو لکھا جاتا ہے۔ اس کا ایک مخاطب ہوتا ہے۔ مخاطب کی موجودگی جملے کے لباس، لہجے، طوالت اور خاموشی کو بدل دیتی ہے۔
فرائڈ جب ژونگ کو لکھتا ہے تو صرف اپنے خیالات نہیں بھیجتا، وہ اپنے آپ کو استاد، بانی، دوست، باپ، بیمار، مظلوم سائنس دان اور کبھی مستقبل کی تحریک کے نگہبان کے طور پر بھی ترتیب دیتا ہے۔ ژونگ جب جواب دیتا ہے تو وہ صرف علمی مسئلہ حل نہیں کر رہا، وہ عقیدت مند شاگرد، آزاد خیال محقق، وفادار ساتھی، محتاط معالج اور آہستہ آہستہ ابھرتا ہوا حریف بھی بن رہا ہے۔
خط اپنے لکھنے والے کا چہرہ دکھاتا ضرور ہے، مگر وہ چہرہ خط لکھنے سے پہلے دھویا، سنوارا اور مخاطب کے ذوق کے مطابق کسی خاص زاویے سے روشن بھی کیا جا چکا ہوتا ہے۔ بعض اوقات بے ساختگی بھی بڑی محنت سے تیار کی جاتی ہے۔ کوئی شخص لکھتا ہے، ’’میں آپ سے بالکل صاف گوئی کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں‘‘، اور قاری جان لیتا ہے کہ صاف گوئی اب باقاعدہ لباس پہن کر کمرے میں داخل ہونے والی ہے۔
فرائڈ اور ژونگ کے خطوط اسی لیے مکاتیبی فکشن کی طرح پڑھے جانے کے مستحق ہیں۔ انہیں فکشن کہنا یہ نہیں کہ واقعات جھوٹے ہیں یا خط نویسوں نے کہانیاں گھڑی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان خطوط میں کردار بنتے ہیں، رشتہ پلاٹ اختیار کرتا ہے، خطابات بدلتے ہیں، بعض جملے پیش گوئی کا رنگ لیتے ہیں اور بعد کے واقعات ابتدائی عبارتوں کو ایسی معنویت عطا کرتے ہیں جس سے خود لکھنے والے اس وقت بے خبر تھے۔
پہلا منظر ایک نسبتاً تنہا فرائڈ کا ہے۔ اس کی اہم کتاب ’’تعبیر خواب‘‘ شائع ہو چکی ہے مگر وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی اسے امید تھی۔ علمی دنیا اس کے جنسی نظریات سے خفا، متوحش یا کم از کم اتنی شائستہ ضرور تھی کہ انہیں سن کر موضوع بدل دیتی۔ بروئر سے رفاقت ختم ہو چکی تھی۔ فلیس کے ساتھ گہری دوستی بھی انجام کو پہنچ چکی تھی۔ فرائڈ نے اس کیفیت کو ’’شاندار تنہائی‘‘ کہا۔
’’شاندار تنہائی‘‘ ایک بہت عمدہ ترکیب ہے۔ یہ تنہائی کو ایسا کوٹ پہنا دیتی ہے جس کے بٹن سونے کے ہوں۔ عام آدمی اکیلا ہو تو بے چارہ کہلاتا ہے، بڑا مفکر اکیلا ہو تو اس کی تنہائی بھی شاندار ہو جاتی ہے۔ مگر نام بدلنے سے شام چھوٹی نہیں ہوتی۔ فرائڈ کو قاری، رفیق، گواہ اور ایسے ساتھی درکار تھے جو اس کے کام کو صرف سمجھیں نہیں بلکہ اسے علمی دنیا کے سامنے ایک تحریک کی صورت بھی دے سکیں۔
دوسری طرف زیورخ میں ایک نوجوان ژونگ تھا، جو برگ ہولزلی ہسپتال میں کام کر رہا تھا۔ اس نے پہلے ’’تعبیر خواب‘‘ پڑھی اور ایک طرف رکھ دی، کیونکہ سمجھ میں نہ آئی۔ چند برس بعد دوبارہ اٹھائی تو اسے احساس ہوا کہ کتاب اس کے اپنے خیالات سے کتنی گہری مطابقت رکھتی ہے۔ عظیم کتابوں کے ساتھ اکثر یہی ہوتا ہے۔ پہلی مرتبہ قاری کتاب کو نہیں سمجھتا، دوسری مرتبہ کتاب قاری کو سمجھنے لگتی ہے۔
ژونگ نے فرائڈ کے کام کا دفاع بھی کیا اور ابتدا ہی سے اپنی احتیاطیں بھی محفوظ رکھیں۔ وہ فرائڈ کی دریافتوں سے متاثر تھا، مگر جنس کو انسانی ذہن کا واحد یا ہمہ گیر مرکز تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ یعنی رفاقت کے پہلے مصافحے ہی میں اختلاف کی انگلی بھی موجود تھی، اگرچہ اس وقت دونوں نے اسے بدتمیزی سمجھ کر نمایاں نہیں کیا۔
اپریل 1906 میں ژونگ نے اپنی کتاب ’’تشخیصی تداعی مطالعات‘‘ فرائڈ کو بھیجی۔ فرائڈ نے 11 اپریل کو پہلا باقاعدہ خط لکھا اور کتاب کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ بے صبری میں کتاب پہلے ہی خرید چکا تھا۔ یہ چھوٹی سی بات تعلق کے ابتدائی افسانے کو ایک خوب صورت انسانی لمس دیتی ہے۔ شاگرد ابھی اپنی کتاب استاد کی خدمت میں بھیج رہا تھا اور استاد بازار سے اسے پہلے ہی گھر لا چکا تھا۔
اس کے بعد تقریباً چھ مہینے خاموشی رہی۔ تعلقات کی تاریخ میں چھ ماہ کی خاموشی کبھی محض مصروفیت ہوتی ہے، کبھی تقدیر کو مسودہ مکمل کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اکتوبر میں فرائڈ کی کتاب ژونگ کے پاس پہنچی، جواب آیا اور پھر وہ مراسلت شروع ہوئی جو تقریباً سات برس تک علمی و شخصی رفاقت کا مرکزی وسیلہ بنی رہی۔
ان خطوط میں دونوں ایک دوسرے کی تحریروں پر تبصرہ کرتے ہیں، مریضوں کے مقدمات زیر بحث لاتے ہیں، خوابوں، ہسٹیریا، تداعی خیال، جنس، بھوک، پیرا نویا اور ڈیمینشیا پری کوکس پر گفتگو کرتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ذاتی و خاندانی خبریں بھی داخل ہوتی ہیں۔ ساتھیوں کے بارے میں تعریف، تشویش، بدگمانی اور کبھی نہایت باریک زہر میں بجھے ہوئے تبصرے بھی ملتے ہیں۔ خط کی میز پر سائنس اور غیبت ایک دوسرے کے قریب بیٹھ جاتے ہیں، اور دونوں کے درمیان کوئی مستقل سرحد قائم کرنا آسان نہیں رہتا۔
یہی وہ مواد ہے جس نے ان خطوط کو ایک زندہ انسانی دستاویز بنایا۔ اگر یہاں صرف نظریات ہوتے تو ہم دو کتابیں پڑھ رہے ہوتے۔ خطوط میں نظریات کے ساتھ انتظار، ناراضی، احتیاط، خوشامد، عقیدت، حسد، خوف اور محبت بھی موجود ہیں، اس لیے ہم دو آدمیوں سے ملتے ہیں۔
مگر دونوں کے بیٹوں نے ان خطوط کی اشاعت کے معاہدے میں شرط رکھی کہ انہیں ’’تاریخی دستاویزات‘‘ کی طرح برتا جائے تاکہ غیر جانب داری قائم رہے۔ یہ شرط بظاہر معقول تھی۔ وارثوں کو اندیشہ تھا کہ آنے والے مدیر کہیں خطوط کو نفسیاتی ناول، باپ بیٹے کے المیے یا دو عظیم اناؤں کی کشتی نہ بنا دیں۔ بدقسمتی سے خطوط نے خود ہی ان تمام امکانات کا مواد مہیا کر رکھا تھا۔
تاریخی دستاویز کو غیر جانب داری سے پڑھنے کی خواہش قابل احترام ہے، مگر کوئی دستاویز خود غیر جانب دار نہیں ہوتی۔ خط لکھنے والا انتخاب کرتا ہے کہ کیا کہنا ہے، کس ترتیب سے کہنا ہے، کن الفاظ میں کہنا ہے اور کیا بالکل نہیں کہنا۔ خط محفوظ کرنے والا فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا خط سنبھالنا ہے اور کون سا ضائع ہونے دینا ہے۔ وارث طے کرتے ہیں کہ کب شائع ہوگا۔ مدیر حذف کرتا ہے، حاشیہ لگاتا ہے، ترتیب بناتا ہے۔ پھر قاری آتا ہے اور اپنے زمانے کے سوال اس پر رکھ دیتا ہے۔
تاریخ کے کاغذ پر ہر شخص اپنی انگلی کا نشان چھوڑتا ہے، غیر جانب داری عموماً وہ رومال ہے جس سے بعد میں یہ نشانات صاف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ژونگ نے 1952 میں ان خطوط کو ژونگ انسٹیٹیوٹ کے سپرد کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی کچھ نہ کچھ تاریخی اہمیت ضرور ہے، اگرچہ ان کا مواد اہم نہیں۔ یہ جملہ اپنی معصوم تضاد آرائی میں ژونگ کے بہترین جملوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ مواد اہم نہیں، مگر تاریخی اہمیت موجود ہے، خطوط شائع کرنے کے لائق نہیں، مگر فروخت بھی نہ کیے جائیں، خود نوشت میں ذکر نہ ہو، مگر دیوار کے خفیہ خانے میں محفوظ رہیں، چابی ہمیشہ جیب میں رہے۔
انسان جن چیزوں کو بھول جانا چاہتا ہے، انہیں کبھی کبھی سب سے محفوظ جگہ پر رکھتا ہے۔
ممکن ہے ژونگ واقعی سمجھتے ہوں کہ خطوط میں ناشروں، انجمنوں، ساتھیوں اور روزمرہ معاملات کی تفصیلات زیادہ ہیں اور آفاقی حکمت کے جواہر کم۔ مگر خط کی اہمیت ہمیشہ اس بات میں نہیں ہوتی کہ لکھنے والا کون سا ابدی اصول بیان کر رہا ہے۔ کبھی معمولی اطلاع ہی پورا کردار ظاہر کر دیتی ہے۔ کسی جواب میں تاخیر پر شکایت، کسی ساتھی کے بارے میں ایک چبھتا ہوا فقرہ، کسی لقب کی تبدیلی یا کسی وضاحت کی غیر معمولی طوالت نظریے کی دس عبارتوں سے زیادہ معنی رکھ سکتی ہے۔
خطوط میں عظمت اور معمولی پن کی یہی آمیزش انہیں فکشن کے قریب لاتی ہے۔ ناول میں بھی کردار صرف بڑی تقریریں نہیں کرتے۔ وہ دروازہ کھولتے ہیں، دیر سے آتے ہیں، غلط نام لیتے ہیں، جواب نہیں دیتے، بات بدل دیتے ہیں۔ انہی چھوٹی حرکات سے ان کا باطن بنتا ہے۔ فرائڈ اور ژونگ کے خطوط میں بھی اصل ڈراما ہمیشہ بڑے نظری اختلاف کے اعلان میں نہیں، بعض اوقات کسی سلام، کسی تاخیر یا کسی ضرورت سے زیادہ شائستہ وضاحت میں چھپا ہے۔
ہم اس سلسلے میں ان خطوط کو عدالت کے کاغذات کی طرح نہیں پڑھیں گے کہ آخرکار فیصلہ صادر کیا جائے: فرائڈ قصوروار تھا یا ژونگ۔ عظیم دوستیوں کے ملبے میں ایک ملزم تلاش کرنا آسان اور بے فائدہ کام ہے۔ دونوں نے اس تعلق میں محبت بھی کی، فائدہ بھی اٹھایا، اختیار بھی چاہا، سمجھا بھی، غلط سمجھا بھی اور آخرکار جدائی سے تخلیقی قوت بھی حاصل کی۔
فرائڈ کو ژونگ میں صرف شاگرد نہیں، جانشین دکھائی دیا۔ ژونگ کو فرائڈ میں صرف استاد نہیں، علمی باپ نظر آیا۔ ایسے رشتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ باپ چاہتا ہے بیٹا بڑا ہو، مگر گھر کی بنیادی تعریف تبدیل نہ کرے، بیٹا چاہتا ہے باپ اسے تسلیم کرے، مگر ہمیشہ بیٹا کہہ کر نہ پکارے۔ نظریات بعد میں آتے ہیں، خاندانی استعارہ پہلے ہی کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے۔
یہ مراسلت ایک عظیم فکری رفاقت کی داستان ہے، مگر ساتھ ہی اس امر کی بھی کہ نظریہ انسان کو اپنی کمزوریوں سے مکمل نجات نہیں دیتا۔ دوسروں کے خوابوں کی تعبیر کرنے والا اپنے خواب کی بعض تفصیلات چھپا سکتا ہے۔ انتقال کی اصطلاح وضع کرنے والا اپنے شاگرد سے تعلق میں اس کے عمل کو پوری طرح نہ پہچان سکے۔ نارسیسیت کا نظریہ قائم کرنے والا اپنے نظریے پر اختلاف کو ذاتی زخم محسوس کر سکتا ہے۔ اجتماعی لاشعور کی طرف بڑھنے والا شاگرد اپنی انفرادی آزادی کی قیمت کا حساب دیر سے لگا سکتا ہے۔
یہ کوئی منافقت نہیں، شاید انسان ہونے کی بنیادی شرط ہے۔ علم ہمیں اپنی کمزوریوں کے نام تو دے دیتا ہے، ان سے فوری نجات نہیں دلاتا۔ ماہر امراض قلب کو بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے، اور ماہر نفسیات اپنی دوستی کے بعض عوارض پہچاننے میں ناکام رہ سکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کی ناکامی بعد میں دوسروں کے لیے ایک پوری کتاب بن جاتی ہے۔
اس سلسلے میں ہم خطوط کے نظریاتی مندرجات کو بھی پڑھیں گے، مگر ان کے پیچھے موجود رشتے کی حرارت اور سردی کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ جنس کا سوال کس طرح علمی اختلاف سے بڑھ کر وفاداری کی آزمائش بنا، اسطورے اور مذہب کی طرف ژونگ کا میلان فرائڈ کو نظریاتی انحراف کیوں محسوس ہوا، تحریک کے عہدے اور رسائل کس طرح لاشعور کی عالمی فتح کے ساتھ ساتھ ذاتی اقتدار کا مسئلہ بھی بنے، اور کیوں ایک وقت آیا جب دونوں نے ایک دوسرے کے اختلاف کو دلیل کے بجائے نفسی علامت کی طرح پڑھنا شروع کر دیا۔
جب کوئی شخص آپ کی ہر بات کو آپ کے کمپلیکس کی علامت قرار دینے لگے تو مکالمہ مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ دلیل دیں، وہ تشخیص سنائے۔ آپ اختلاف کریں، وہ مزاحمت دریافت کر لے۔ نفسی تجزیے کی سب سے خطرناک گھڑی شاید وہ ہوتی ہے جب نظریہ مخالف کو سمجھنے کے بجائے اسے خاموش کرنے کے کام آنے لگے۔
لیکن ابھی ہم اس آخری کمرے تک نہیں پہنچے۔ ابھی چابی ژونگ کی جیب میں ہے، خطوط دیوار کے اندر ہیں، اور دوستی اپنے اختتام سے بہت پہلے کے لمحوں میں زندہ ہے۔ فرائڈ ویانا میں اپنے قاری، ساتھی اور وارث کا انتظار کر رہا ہے۔ زیورخ میں ایک نوجوان معالج ’’تعبیر خواب‘‘ کو دوسری مرتبہ اٹھا چکا ہے اور اسے پہلی بار معلوم ہوا ہے کہ بعض کتابیں ہم سے پہلی ملاقات میں اپنا تعارف نہیں کراتیں۔
خفیہ خانہ بالآخر کھل گیا۔ خطوط تاریخ کے سامنے آگئے۔ مگر ہر تالا کھلنے کے بعد راز مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔ کبھی صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ راز کے اندر ایک اور دروازہ ہے۔
اس اگلے دروازے کے پیچھے ویانا کا ایک آدمی اپنی ’’شاندار تنہائی‘‘ میں بیٹھا ہے۔ ابھی اسے خبر نہیں کہ زیورخ سے آنے والی ایک کتاب اس کی تنہائی کو رفاقت میں، رفاقت کو تحریک میں، اور تحریک کو ایک دن المیے میں بدل دے گی۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.