Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نام اور بے نامی

محمد عامر حسینی

نام اور بے نامی

محمد عامر حسینی

MORE BYمحمد عامر حسینی

    نام لیتے ہوئے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کسی شخص یا شے کو دوسروں سے الگ کرکے پہچان لیا ہے۔ ہجوم میں کسی کو پکارا جائے تو وہ پلٹ کر دیکھتا ہے۔ لفافے پر نام لکھ دیا جائے تو پیغام کے لیے ایک منزل مقرر ہوجاتی ہے۔ کسی کتاب کے سرورق پر مصنف کا نام ہو تو متن ایک مخصوص شخص سے منسوب ہوجاتا ہے۔ نام گویا شناخت کی مہر ہے۔ وہ بے شمار اشخاص اور اشیا کے درمیان کسی ایک کو منتخب کرکے ہمارے سامنے حاضر کردیتا ہے۔

    اسمِ خاص کے بارے میں عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عام لفظ سے زیادہ براہ راست ہوتا ہے۔ ”انسان“، ”شہر“ یا ”دریا“ کسی پوری قسم کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جبکہ کسی شخص، شہر یا دریا کا مخصوص نام صرف اسی ایک ہستی سے تعلق رکھتا ہے۔ یوں اسمِ خاص اور اس کے حامل کے درمیان ایسا رشتہ محسوس ہوتا ہے جس میں لغت، تعریف یا تفصیل کی ضرورت نہیں رہتی۔ نام لیا اور ذات حاضر ہوگئی۔

    لیکن نام کی یہ براہِ راست قوت اتنی سادہ نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔ کسی نام کو نام بننے کے لیے اس کا قابلِ شناخت اور قابلِ تکرار ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ صرف ایک مرتبہ ادا ہوسکے اور دوبارہ پہچانا نہ جاسکے تو وہ کسی کو پکارنے، یاد رکھنے یا اس کی طرف اشارہ کرنے کے کام نہیں آسکتا۔ نام اسی وقت ایک شخص کی انفرادیت ظاہر کرتا ہے جب وہ زبان کے ایک مشترک نظام میں داخل ہوکر دوسرے لوگوں کے لیے بھی قابلِ استعمال بن جائے۔

    یہاں ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ اسمِ خاص کسی فرد کو بے مثال اور دوسروں سے منفرد قرار دیتا ہے، لیکن اس انفرادیت کی حفاظت وہ ایک ایسے نشان کے ذریعے کرتا ہے جسے دوسروں کے منہ سے بھی ادا ہونا ہے۔ ایک شخص کا نام اس کے والدین لیتے ہیں، دوست پکارتے ہیں، سرکاری کاغذات میں لکھا جاتا ہے، مخالفین استعمال کرتے ہیں اور اس شخص کی موت کے بعد بھی دہرایا جاتا ہے۔ نام جس ذات کو ایک اور بے بدل قرار دیتا ہے، اسے اسی لمحے عمومی نشانی گردش کے حوالے بھی کردیتا ہے۔

    نام میرے لیے مخصوص ہوسکتا ہے، مگر وہ میری ملکیت نہیں رہتا۔ میں اپنے نام کا پہلا خالق بھی نہیں ہوتا۔ زیادہ تر صورتوں میں نام مجھے کسی دوسرے سے ملتا ہے۔ میری پیدائش سے پہلے اسے میرے لیے سوچ لیا جاتا ہے، اور میرے مکمل شعور میں آنے سے پہلے ہی دوسرے لوگ مجھے اس نام سے پکارنے لگتے ہیں۔ نام میری شناخت بن جاتا ہے، مگر اس کی ابتدا میرے ارادے سے نہیں ہوتی۔ میں زندگی بھر ایک ایسے لفظ کا جواب دیتا ہوں جو مجھے کسی اور نے دیا تھا۔

    ژاک دریدا کی فکر میں یہ نکتہ معمولی نہیں۔ انسان جس نام کو اپنی ذاتی شناخت کی سب سے محفوظ علامت سمجھتا ہے، اس میں دوسرے کی مداخلت آغاز ہی سے موجود ہوتی ہے۔ نام خود اور دوسرے کے درمیان سرحد قائم کرتا ہے، مگر یہ سرحد خود دوسرے کی عطا ہے۔ میں اپنے نام میں اپنے آپ کو پہچانتا ہوں، لیکن یہ پہچان ایک ایسی آواز اور تحریر کے ذریعے ممکن ہوتی ہے جو مجھ سے پہلے بھی موجود تھی اور میرے بعد بھی باقی رہ سکتی ہے۔

    اسمِ خاص اپنی تکرار پذیری کے بغیر کام نہیں کرسکتا۔ مگر ہر تکرار اسے نئے سیاق میں داخل کردیتی ہے۔ ایک ہی نام محبت سے لیا جاسکتا ہے، نفرت سے پکارا جاسکتا ہے، عدالتی فیصلے میں لکھا جاسکتا ہے، کتبے پر کندہ ہوسکتا ہے اور تاریخ کی کسی کتاب میں درج کیا جاسکتا ہے۔ حروف وہی رہتے ہیں، مگر نام کا آہنگ، معنوی وزن اور تعلق بدل جاتا ہے۔

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ نام کی کوئی شناخت باقی نہیں رہتی۔ اگر ہر استعمال میں نام مکمل طور پر بدل جائے تو کسی شخص کو پہچاننا ممکن نہ ہو۔ لیکن نام کی شناخت پتھر کی ایسی جامد مہر بھی نہیں جو ہر سیاق میں یکساں رہے۔ وہ کچھ محفوظ رکھتا ہے اور کچھ بدلنے دیتا ہے۔ اس کی یہی دوہری ساخت اسے بیک وقت انفرادی اور قابلِ تکرار بناتی ہے۔

    نام کسی ذات کو مکمل طور پر اپنے اندر قید بھی نہیں کرسکتا۔ کسی شخص کا نام جان لینا اس شخص کو جان لینا نہیں۔ نام پکارنے کی سہولت دیتا ہے، مگر اس کی شخصیت، تاریخ، خواہش، خوف اور داخلی تضادات کا مکمل احاطہ نہیں کرتا۔ نام دروازہ ہوسکتا ہے، پورا گھر نہیں۔ وہ ذات کو سامنے لاتا ہے، مگر اسے مکمل طور پر حاضر نہیں کرتا۔

    یہی مسئلہ اس وقت زیادہ گہرا ہوجاتا ہے جب زبان خدا کا نام لینے کی کوشش کرتی ہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ روایت میں خدا کو نام دیے جاتے ہیں: خالق، قادر، رحیم، مطلق، موجود، واحد اور بے مثال۔ یہ نام خدا کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس کی صفات بیان کرتے ہیں اور انسانی خطاب میں اس کے ذکر کو ممکن بناتے ہیں۔ لیکن اسی روایت میں بار بار یہ احساس بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کسی انسانی نام، تعریف یا تصور میں سما نہیں سکتا۔

    یہاں سلبی الٰہیات سامنے آتی ہے۔ سلبی الٰہیات خدا کو مثبت صفات کے ذریعے مکمل طور پر بیان کرنے کے بجائے یہ کہنے کی کوشش کرتی ہے کہ خدا کیا نہیں ہے۔ وہ محدود نہیں، فانی نہیں، مرکب نہیں، محتاج نہیں اور کسی مخلوق کے مانند نہیں۔ خیال یہ ہے کہ ہر مثبت وصف خدا کو انسانی تصورات کی حدود میں مقید کرسکتا ہے، اس لیے نفی کے ذریعے زبان کو اپنے دعوے سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔

    مگر نفی بھی زبان سے باہر نہیں ہوتی۔ جب ہم کہتے ہیں کہ خدا یہ نہیں یا وہ نہیں تو ہم پھر بھی الفاظ، تصورات اور امتیازات استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ ”نام سے ماورا“ بھی ایک لسانی ترکیب ہے۔ ”ناقابلِ بیان“ کہنا بھی ایک بیان ہے۔ زبان خدا کو اپنے اندر مکمل طور پر حاضر نہیں کرسکتی، مگر اس خاموشی کا اعلان بھی زبان ہی میں کرنا پڑتا ہے۔

    دریدا کی دلچسپی یہ فیصلہ سنانے میں نہیں کہ خدا موجود ہے یا نہیں۔ اس کا سوال یہ ہے کہ نام، حضور اور ماورائیت کے بارے میں ہماری زبان کیسے کام کرتی ہے۔ جب خدا کو ہر نام سے بلند کہا جاتا ہے تو کیا ”خدا“ کا نام خود اس ناموں کے سلسلے سے باہر نکل جاتا ہے؟ کیا کوئی ایسا نام ہوسکتا ہے جو محض نشان نہ ہو، بلکہ جس ذات کو پکارتا ہے اسے بے واسطہ حاضر کردے؟

    اسمِ الٰہی بھی پڑھا، لکھا، دہرایا اور مختلف زبانوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ وہ عبادت، مناجات، فلسفہ، قانون، جنگ، محبت اور سیاست کے مختلف سیاقوں میں آتا ہے۔ ایک ہی نام زبانوں اور زمانوں میں مختلف معنوی اثرات پیدا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اس ہستی کی یکتائی کا اعلان کرتا ہے جس کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن خود ایک قابلِ تکرار نشان کی صورت اختیار کرتا ہے۔

    یہاں خدا کا نام کسی عام شے کا نام نہیں بن جاتا۔ فرق برقرار رہتا ہے۔ لیکن اس نام کا لسانی وقوع نشان کی ان بنیادی شرائط سے مکمل طور پر آزاد بھی نہیں ہوسکتا جن کے ذریعے کوئی لفظ پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ نام اپنے مدلول کو مکمل طور پر اپنے اندر بند نہیں رکھتا۔ وہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے، اسے پکارتا ہے اور اسی پکار میں اس فاصلے کی گواہی بھی دیتا ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    سلبی الٰہیات اسی مشکل کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے۔ وہ ہر مثبت نام کو منسوخ کرتی ہے، مگر منسوخی کے بعد ایک اور نام، ایک اور نفی یا ایک اور عبارت سامنے آجاتی ہے۔ خدا کو ”لامحدود“ کہا جائے تو لامحدودیت کا انسانی تصور ساتھ آتا ہے۔ اسے ”غیر متعین“ کہا جائے تو تعین کی نفی خود ایک تعین بن جاتی ہے۔ ہر نام اپنی حد کا انکشاف کرتا ہے، لیکن ناموں سے مکمل فرار ممکن نہیں ہوتا۔

    یہ وہ مقام ہے جہاں نام اور بے نامی ایک دوسرے کے سادہ مخالف نہیں رہتے۔ بے نامی نام کی مکمل عدم موجودگی نہیں۔ وہ نام کے اندر پیدا ہونے والی وہ دراڑ ہے جو بتاتی ہے کہ نام اپنی مسمیٰ ذات کو پورا نہیں کرسکتا۔ نام ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر خطاب اور یاد ممکن نہیں۔ مگر نام ناکافی بھی ہے، کیونکہ جسے وہ پکارتا ہے وہ اس کے حروف اور صوتی حدود سے زیادہ ہے۔

    یہی دوہرا تعلق انسانی ناموں میں بھی موجود ہے۔ ہم نام کے بغیر ایک دوسرے کو سماجی دنیا میں شناخت نہیں دے سکتے، لیکن نام کو ذات کا مکمل بدل بنا دیں تو انسان اپنے سرکاری اندراج، خاندانی نسبت یا تاریخی شہرت میں قید ہوجاتا ہے۔ نام شناخت عطا کرتا ہے، مگر شناخت کو بند بھی کرسکتا ہے۔ وہ کسی کو یاد رکھتا ہے، مگر اس کی کثرت کو ایک لفظ میں محدود بھی کر دیتا ہے۔

    تحریر نام کے اس تضاد کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ کسی خط پر نام لکھنے سے ایک منزل قائم ہوتی ہے۔ پیغام کسی مخصوص شخص کے لیے روانہ ہوتا ہے۔ بظاہر نام اس امر کی ضمانت ہے کہ خط درست پتے پر پہنچے گا اور وہی شخص اسے پڑھے گا جس کے لیے اسے لکھا گیا تھا۔

    لیکن ہر خط کے ساتھ گم ہوجانے، تاخیر سے پہنچنے، غلط شخص کے ہاتھ لگنے یا اپنے مطلوبہ مخاطب تک کبھی نہ پہنچنے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ یہ امکان محض ڈاک خانے کی بدانتظامی نہیں۔ تحریر اپنے مصنف سے جدا ہوکر سفر کرتی ہے، اس لیے اس کی منزل کبھی مکمل طور پر مصنف کے اختیار میں نہیں رہتی۔ پتہ لکھا جاسکتا ہے، راستہ مقرر کیا جاسکتا ہے، لیکن وصولی کی قطعی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

    دریدا کے ہاں پوسٹ کارڈ اس صورت حال کا گہرا استعارہ بن جاتا ہے۔ پوسٹ کارڈ بظاہر کسی خاص مخاطب کے لیے لکھا جاتا ہے، مگر اس کا متن دوسروں کی نگاہ کے لیے بھی کھلا ہوتا ہے۔ اسے ڈاک تقسیم کرنے والا پڑھ سکتا ہے، غلط گھر میں پہنچ سکتا ہے اور برسوں بعد کسی ایسے شخص کو مل سکتا ہے جس کا اصل مراسلے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ پیغام اپنی منزل رکھتا ہے، لیکن راستے میں اپنی ممکنہ بے منزلی بھی ساتھ لے کر چلتا ہے۔

    یہ کہنا غلط ہوگا کہ کوئی پیغام کبھی اپنی منزل تک پہنچتا ہی نہیں۔ خطوط پہنچتے ہیں، مخاطب انھیں پڑھتے ہیں اور جواب دیتے ہیں۔ دریدا کی بصیرت یہ ہے کہ پہنچ جانا اسی وقت ایک معنی خیز واقعہ ہے جب نہ پہنچنے کا امکان بھی حقیقی ہو۔ اگر پیغام اپنے پتے سے کبھی الگ نہ ہوسکتا تو اسے بھیجنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ ترسیل کا مفہوم فاصلے، خطرے اور ممکنہ گم شدگی سے بنتا ہے۔

    مطلوبہ مخاطب تک پہنچنے کے بعد بھی خط اپنی تقدیر مکمل نہیں کرتا۔ پڑھنے والا اسے ایسے معنی میں لے سکتا ہے جس کا لکھنے والے نے ارادہ نہ کیا ہو۔ وہ خط کسی تیسرے شخص کو دکھا سکتا ہے، اس کے الفاظ نقل کرسکتا ہے، اسے محفوظ کرسکتا ہے یا پھاڑ سکتا ہے۔ وصول کنندہ پیغام کی آخری منزل نہیں، ایک نیا روانگی مقام بھی بن سکتا ہے۔

    نام خط کو کسی شخص کی طرف بھیجتا ہے، مگر اس شخص کو خط کے معنی کا مطلق مالک نہیں بناتا۔ جس طرح مصنف اپنے متن کے تمام آئندہ استعمالات کو قابو نہیں کرسکتا، اسی طرح مخاطب بھی اس کے آخری معنی کا فیصلہ ہمیشہ کے لیے نہیں کرسکتا۔ ہر قرأت ایک وصولی بھی ہے اور ایک نئی روانگی بھی۔

    یہی وجہ ہے کہ تحریر میں اطاعت کا مسئلہ بھی سادہ نہیں رہتا۔ لکھنے والا اکثر یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی ایسی پکار، مطالبے یا ذمہ داری کا جواب دے رہا ہے جو اس کے مکمل اختیار میں نہیں۔ کوئی واقعہ، یاد، زخم، دوسرا انسان یا ابھی نامعلوم قاری اسے لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ جانتا نہیں کہ یہ حکم کہاں سے آیا ہے، مگر اس سے مکمل طور پر آزاد بھی نہیں ہوسکتا۔

    یہ اخلاقی اطاعت کسی واضح حاکم کے فرمان کی تعمیل نہیں۔ اگر حکم دینے والا پوری طرح سامنے ہو، اس کا مقصد معلوم ہو اور جواب پہلے سے مقرر ہو تو لکھنا محض نقل یا فرمان برداری بن جائے گا۔ حقیقی تحریری ذمہ داری وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں پکار سنائی تو دیتی ہے، مگر اس کا ماخذ اور مطلوبہ جواب مکمل طور پر معلوم نہیں ہوتا۔

    لکھنے والا کسی ایسے دوسرے کو جواب دیتا ہے جو موجود بھی ہوسکتا ہے، غیر موجود بھی، زندہ بھی، مردہ بھی، معلوم بھی، نامعلوم بھی۔ اس کی تحریر کسی مقررہ قاری تک پہنچ سکتی ہے اور کسی ایسے شخص تک بھی جس کا وہ تصور نہیں کرسکتا۔ اسی لیے تحریر ایک عجیب اطاعت ہے: وہ کسی حکم کی پابندی کرتی ہے، لیکن اس حکم کو آخری اور مکمل لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی۔

    زیرِ التوا فرق (ڈیفرانس) اس اطاعت کے اندر بھی کام کرتا ہے۔ حکم کا معنی فوراً مکمل نہیں ہوتا۔ لکھنے والا اپنے جواب کے ذریعے یہ دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس سے کیا چاہا گیا تھا۔ مگر جواب خود ایک نئی تحریر بن کر کسی اور تعبیر، کسی اور مخاطب اور کسی اور ذمہ داری کی طرف کھل جاتا ہے۔ حکم اور جواب کے درمیان کوئی ایسا لمحہ نہیں آتا جس میں تمام ابہام ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔

    بعض اوقات ایک مانوس فقرہ بھی اسی لسانی بے قراری کو ظاہر کردیتا ہے۔ ”زندگی کمانا“ جیسے روزمرہ محاورے میں زندگی معاشی ضرورت کی شے بن جاتی ہے۔ اگر اسی ترکیب کو لفظی طور پر ”زندگی جیتنا“ پڑھا جائے تو ایک دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے: کیا زندگی کوئی مقابلہ ہے جسے جیت لیا جائے؟ کیا اسے حاصل کیا جاتا ہے، گزارا جاتا ہے، کمایا جاتا ہے یا وہ پہلے ہی کسی نامعلوم قرض اور عطیے کی صورت میں ہمیں دی جاچکی ہے؟

    زبان کا ایک معمولی محاورہ اپنے اندر ایسے معانی رکھ سکتا ہے جن پر روزمرہ استعمال پردہ ڈال دیتا ہے۔ لفظ کو اس کی مانوس جگہ سے ذرا سا ہٹایا جائے تو اس کے اندر چھپی ہوئی دوسری آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ لکھنے والا سمجھتا ہے کہ وہ زبان استعمال کررہا ہے، مگر زبان بھی اس کے جملوں میں ایسے امکانات پیدا کرتی ہے جو اس کے پہلے ارادے میں شامل نہیں تھے۔

    نام کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ ہم نام کے ذریعے کسی کو پکارنا چاہتے ہیں، مگر نام اپنی تاریخ، تکرار اور آئندہ امکانات کے ساتھ آتا ہے۔ ہم خدا کو نام دینا چاہتے ہیں، مگر نام اپنی حد کا انکشاف کردیتا ہے۔ ہم خط پر منزل لکھتے ہیں، مگر تحریر راستے میں کسی دوسری زندگی کا آغاز کرسکتی ہے۔ ہم حکم کا جواب دینا چاہتے ہیں، مگر جواب ہمیں حکم کے نئے مفہوم سے روبرو کردیتا ہے۔

    نام اس لیے ناکام نہیں کہ وہ اپنی مسمیٰ ذات کو مکمل طور پر اپنے اندر نہیں سما سکتا۔ اگر نام اور ذات میں کوئی فاصلہ نہ ہو تو نام اشارہ، خطاب یا یادداشت کا وسیلہ ہی نہ بن سکے۔ نام اسی فاصلے کی بدولت نام ہے۔ وہ ذات نہیں، ذات کی طرف پکار ہے۔ پکار میں قربت کی خواہش بھی ہے اور فاصلے کا اعتراف بھی۔

    بے نامی بھی محض خاموشی نہیں۔ وہ ہر نام کے اندر موجود وہ زیادتی ہے جسے نام اپنے اندر بند نہیں کرسکتا۔ شخص اپنے نام سے زیادہ ہے۔ خدا اپنے تمام ناموں سے بلند ہے۔ متن اپنے عنوان اور مصنف کے نام سے زیادہ امکانات رکھتا ہے۔ مخاطب اس پتے سے زیادہ ہے جو لفافے پر درج کیا گیا ہے۔

    نام کسی کو حاضر کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اسی کوشش میں بتاتا ہے کہ مکمل حضور ممکن نہیں۔ وہ غیر حاضر کو پکارتا ہے، دور کو قریب لاتا ہے اور فراموشی کے خلاف ایک نشان قائم کرتا ہے۔ پھر بھی وہ جسے پکارتا ہے اسے مکمل طور پر اپنی ملکیت نہیں بناسکتا۔

    نام کی عظمت اسی ناکامی میں ہے۔ وہ آخری قبضہ نہیں، ایک نسبت ہے۔ وہ ذات پر بند ہونے والا دروازہ نہیں، اس کی طرف کھلنے والی راہ ہے۔ وہ منزل لکھتا ہے، مگر سفر کو ختم نہیں کرتا۔ نام ہمیں دوسرے تک پہنچنے کا امکان دیتا ہے، اور اسی وقت یاد دلاتا ہے کہ دوسرا کبھی صرف ہمارے دیے ہوئے نام میں مکمل نہیں ہو جاتا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے