نشان کی دراڑ
لفظ ہمارے سامنے آتا ہے تو بظاہر کسی معنی کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہوتا ہے۔ ہم لفظ ”درخت“ سنتے یا پڑھتے ہیں تو ذہن میں ایک خاص شے، صورت یا تصور ابھرتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لفظ ایک برتن ہے اور معنی اس کے اندر پہلے سے موجود کوئی مواد۔ لفظ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس چھپے ہوئے معنی کو ہمارے سامنے حاضر کردے۔
زبان کے بارے میں یہ تصور بہت پرانا ہے۔ اس میں نشان کو کسی ایسی حقیقت کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے جو نشان سے پہلے مکمل طور پر موجود تھی۔ شے پہلے ہے، پھر اس کا تصور پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد اس تصور کے اظہار کے لیے لفظ آتا ہے۔ لفظ یوں حقیقت کے بعد آنے والا ایک وسیلہ بن جاتا ہے۔ وہ خود معنی پیدا نہیں کرتا، صرف پہلے سے موجود معنی کو منتقل کرتا ہے۔
ژاک دریدا اسی بظاہر سادہ ترتیب میں ایک بنیادی دراڑ دکھاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ کیا معنی واقعی نشان سے پہلے کسی مکمل حالت میں موجود ہوتا ہے؟ کیا لفظ کسی ایسی خود کفیل حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو زبان، فرق اور تعبیر سے آزاد ہو؟ یا معنی اسی وقت وجود میں آتا ہے جب کوئی نشان دوسرے نشانات کے ساتھ ایک رشتے میں داخل ہوتا ہے؟
یہ سوال زبان کے کسی معمولی مسئلے تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق اس پورے فلسفیانہ تصور سے ہے جس میں اصل کو نقل سے، حقیقت کو نشان سے، مدلول کو دال سے اور حضور کو غیاب سے الگ رکھا جاتا ہے۔ اگر نشان صرف ایک ثانوی وسیلہ نہ ہو، بلکہ معنی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہو، تو پھر معنی، اصل اور حضور کے روایتی تصورات بھی اپنی پہلی صورت میں قائم نہیں رہتے۔
فرڈینان ڈی سوسئیر نے جدید لسانیات میں یہ اہم بات واضح کی تھی کہ زبان کا نشان کسی شے اور نام کے سادہ تعلق سے نہیں بنتا۔ نشان کے دو پہلو ہیں: دال اور مدلول۔ دال سے مراد لفظ کی صوتی یا تحریری صورت ہے، جبکہ مدلول اس تصور کو کہا جاتا ہے جو اس لفظ سے وابستہ ہوتا ہے۔ سوسئیر کے نزدیک دال اور مدلول کا تعلق فطری نہیں، بلکہ سماجی اور روایتی ہے۔ لفظ ”درخت“ میں کوئی ایسی قدرتی صفت نہیں جو اسے درخت ہی کا نام بناتی ہو۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کسی لفظ کا معنی صرف اس شے کی وجہ سے نہیں بنتا جس کی طرف وہ اشارہ کرتا ہے۔ لفظ اپنی شناخت زبان کے دوسرے الفاظ سے اختلاف کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ ”رات“ کا معنی صرف کسی خارجی تاریکی سے نہیں بنتا، بلکہ ”دن“، ”صبح“، ”شام“ اور دوسرے متعلقہ الفاظ سے اس کے اختلاف میں بھی تشکیل پاتا ہے۔ زبان میں نشان اپنی مثبت، خود کفیل ماہیت کے باعث نہیں، بلکہ دوسرے نشانات سے فرق کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔
دریدا اس بصیرت کو قبول کرتا ہے، مگر وہ اسے مزید دور تک لے جاتا ہے۔ اگر نشان کا معنی دوسرے نشانات سے فرق پر قائم ہے تو پھر کوئی نشان اپنے اندر مکمل معنی کیسے رکھ سکتا ہے؟ ہر لفظ کو سمجھنے کے لیے ہمیں دوسرے الفاظ کی طرف جانا پڑتا ہے۔ لغت میں ایک لفظ کے سامنے دوسرے الفاظ لکھے ہوتے ہیں۔ ان دوسرے الفاظ کی وضاحت کے لیے مزید الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ معنی کا یہ سلسلہ کسی ایسے آخری لفظ پر ختم نہیں ہوتا جو خود کسی دوسرے نشان کا محتاج نہ ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ الفاظ بے معنی ہیں یا زبان میں کوئی مفہوم پیدا ہی نہیں ہوتا۔ معنی پیدا ہوتا ہے، ہم ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں اور نشان عملی زندگی میں کام کرتے ہیں۔ لیکن معنی کبھی ایسی بند اور مکمل شے نہیں بنتا جسے ایک نشان اپنے اندر ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلے۔ ہر معنی دوسرے نشان، دوسرے سیاق اور دوسری قرأت کے لیے کھلا رہتا ہے۔
اسی حرکت کو دریدا زیر التواء فرق (ڈیفرانس) کے ذریعے سمجھاتا ہے۔ یہ اصطلاح دو باہم پیوست حرکتوں کو یکجا کرتی ہے۔ پہلی حرکت فرق کی ہے۔ کوئی نشان وہی بنتا ہے جو وہ دوسرے نشانات سے مختلف ہوکر بنتا ہے۔ دوسری حرکت التوا کی ہے۔ نشان کا مکمل معنی فوری طور پر حاضر نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے نشانات کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔
زیر التواء فرق محض یہ نہیں کہ زبان میں الفاظ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ معنی اپنی تکمیل کو آگے سرکاتا رہتا ہے۔ ایک لفظ دوسرے لفظ کی طرف، دوسرا تیسرے کی طرف اور ہر نئی تشریح کسی مزید تشریح کے امکان کی طرف کھلتی ہے۔ معنی غائب نہیں ہوجاتا، مگر مکمل حضور کی صورت بھی اختیار نہیں کرتا۔ وہ بنتا ہے، بدلتا ہے اور اپنے اندر مزید امکانات محفوظ رکھتا ہے۔
ہم کسی جملے کو پڑھتے ہوئے اس کے ابتدائی الفاظ کو یاد رکھتے ہیں اور آنے والے الفاظ کی توقع کرتے ہیں۔ جملے کا موجودہ لفظ اکیلا معنی نہیں دیتا۔ اس میں گزرے ہوئے الفاظ کا اثر اور آنے والے الفاظ کا امکان شامل ہوتا ہے۔ آخری لفظ بعض اوقات پہلے جملے کا مفہوم بدل دیتا ہے۔ اس طرح معنی کسی ایک لمحے میں مکمل طور پر حاضر نہیں ہوتا۔ وہ زمانی حرکت میں پیدا ہوتا ہے۔
یہی کیفیت ایک لفظ کے اندر بھی موجود ہے۔ کوئی لفظ اپنے سابق استعمالات، ادبی روایت، سماجی سیاق اور دوسرے الفاظ سے تعلق سے الگ نہیں ہوتا۔ ہم اسے موجودہ جملے میں پڑھتے ہیں، مگر اس کے ساتھ پرانے معانی کے ہلکے یا گہرے اثرات بھی آتے ہیں۔ ہر نیا استعمال ان اثرات کو جوں کا توں دہراتا نہیں، بلکہ انھیں نئی صورت دیتا ہے۔
دریدا اس اثر کے لیے ”نقش“ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ نقش کو کسی ایسی اصل چیز کا باقی ماندہ نشان نہیں سمجھنا چاہیے جو کبھی مکمل طور پر موجود تھی اور اب غائب ہوگئی ہے۔ نقش اس سے زیادہ بنیادی تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر موجود نشان اپنے اندر اس چیز کا اثر رکھتا ہے جو وہ خود نہیں ہے۔
لفظ ”دن“ اپنے اندر ”رات“ کی مکمل موجودگی نہیں رکھتا، لیکن رات سے اس کا فرق اس کی شناخت میں کام کررہا ہوتا ہے۔ اگر ”رات“ اور دوسرے زمانی الفاظ کا اختلافی نظام موجود نہ ہو تو ”دن“ بھی اپنا موجودہ معنی حاصل نہیں کرسکتا۔ جو لفظ سامنے موجود ہے، اس کی شناخت ان غیر حاضر الفاظ کے اثر سے بنتی ہے جو اس لمحے جملے میں لکھے یا بولے نہیں گئے۔
نقش اس غیر حاضر دوسرے کی وہ تاثیر ہے جو حاضر نشان کی تشکیل میں شامل رہتی ہے۔ اس لیے حضور کبھی خالص حضور نہیں ہوتا۔ جو چیز ہمارے سامنے موجود ہے، وہ اپنے اندر دوسری چیزوں کے اختلافی اثرات رکھتی ہے۔ اس کی شناخت صرف اس بات سے نہیں بنتی کہ وہ کیا ہے، بلکہ اس بات سے بھی بنتی ہے کہ وہ کیا نہیں ہے۔
مگر ”کیا نہیں ہے“ کو سادہ نفی نہیں سمجھنا چاہیے۔ دوسرا نشان صرف باہر کھڑا ہوا مخالف نہیں ہوتا۔ وہ پہلے نشان کے معنی کے اندر خاموشی سے کام کررہا ہوتا ہے۔ حاضر کی شناخت غائب کے بغیر قائم نہیں ہوتی۔ اصل اپنے نام نہاد حاشیے، دوسرے، نقل یا ضمیمے سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتی۔
یہاں دریدا کی فکر کسی ثنویت کو محض الٹ نہیں دیتی۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ حضور کی جگہ غیاب کو نیا حاکم بنادیا جائے، یا اصل کو رد کرکے نقل کو اصل قرار دیا جائے۔ اگر غیاب کو نیا مطلق مرکز بنادیا جائے تو وہی پرانی مابعدالطبیعاتی منطق برقرار رہے گی۔ صرف اس کے الفاظ بدل جائیں گے۔
دریدا کی مداخلت زیادہ باریک ہے۔ وہ دکھاتا ہے کہ حضور اپنے اندر غیاب کا نقش رکھتا ہے، اصل اپنی تشکیل میں اس چیز کی محتاج ہے جسے وہ نقل کہتی ہے، اور مرکز حاشیے کے بغیر اپنی شناخت قائم نہیں کرسکتا۔ ثنویت کے دونوں سرے الگ الگ خالص اکائیاں نہیں رہتے۔ ہر ایک میں دوسرے کا اثر پہلے ہی داخل ہوتا ہے۔
اس مقام پر تحریر کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے۔ تحریر اب صرف کاغذ پر ثبت حروف کا نام نہیں رہتی۔ دریدا اس وسیع تر ساخت کے لیے ”آرکی تحریر“ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ آرکی تحریر کو تاریخی اعتبار سے سب سے پہلی تحریر یا کسی قدیم رسم الخط کا نام نہیں سمجھنا چاہیے۔ ”آرکی“ یہاں کسی زمانی ابتدا کی طرف اشارہ نہیں کرتا، بلکہ ایک بنیادی شرط کو ظاہر کرتا ہے۔
آرکی تحریر اس عمومی ساخت کا نام ہے جس میں فرق، نقش، تکرار اور زمانی التوا پہلے ہی کام کررہے ہوتے ہیں۔ رسمی تحریر، یعنی حروف اور الفاظ کا لکھا جانا، اسی وسیع تر ساخت کی ایک صورت ہے۔ بولی ہوئی زبان بھی آرکی تحریر سے باہر نہیں، کیونکہ صوتی نشان بھی دوسرے نشانات سے فرق، تکرار اور عدم موجودگی کے امکان کے ذریعے معنی پیدا کرتا ہے۔
اگر کوئی لفظ صرف ایک مرتبہ بولا جاسکتا اور کبھی دوبارہ پہچانا نہ جاسکتا تو وہ زبان کا نشان نہ بنتا۔ نشان کو نشان بننے کے لیے اس کا قابل تکرار ہونا ضروری ہے۔ وہ دوسرے وقت، دوسرے شخص اور دوسرے سیاق میں دوبارہ استعمال ہوسکے۔ لیکن یہی تکرار اسے اپنے پہلے موقع سے جدا بھی کردیتی ہے۔ وہ پہچانا وہی جاتا ہے، مگر ہر مرتبہ کسی نئی حالت میں سامنے آتا ہے۔
اس طرح نشان کی شناخت میں بیک وقت یکسانیت اور اختلاف دونوں شامل ہوتے ہیں۔ اگر وہ بالکل بدل جائے تو پہچانا نہیں جائے گا، اور اگر ہر مرتبہ مکمل طور پر وہی رہے تو نیا استعمال ممکن نہیں ہوگا۔ نشان اپنی زندگی اسی کشمکش میں حاصل کرتا ہے۔ وہ دہرایا جاتا ہے، مگر ہر تکرار اسے نئی نسبتوں میں داخل کردیتی ہے۔
آرکی تحریر اسی بنیادی تکرار پذیری، فرق اور نقش کی ساخت ہے۔ یہ حروفی تحریر سے پہلے اس معنی میں نہیں کہ انسانی تاریخ میں کسی زمانے پر موجود تھی، بلکہ اس معنی میں کہ حروفی اور صوتی دونوں نشان اسی کے باعث ممکن ہوتے ہیں۔ وہ زبان کے باہر موجود کوئی الگ شے نہیں۔ وہ زبان، یادداشت، شعور اور تجربے کے اندر کام کرنے والی اختلافی حرکت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دریدا تحریر کو کسی پہلے سے مکمل زبان پر چڑھائی گئی بیرونی تہہ نہیں سمجھتا۔ روایتی تصور میں زبان پہلے بولی جاتی ہے، پھر اسے محفوظ کرنے کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ تحریر اس ترتیب میں بعد کی، اضافی اور ثانوی چیز ہے۔ لیکن اگر بولی ہوئی زبان بھی فرق، نقش، تکرار اور التوا سے بنتی ہے تو وہ خود اس عمومی تحریری ساخت سے آزاد نہیں رہتی۔
آرکی تحریر کا تصور یہ نہیں کہ ہر بولی ہوئی بات حقیقتاً کاغذ پر لکھی ہوئی ہے۔ یہ بھی نہیں کہ گفتگو اور نوشتے کے تمام عملی فرق ختم ہوجاتے ہیں۔ بولنے اور لکھنے کے مادی، سماجی اور ابلاغی طریقے مختلف رہتے ہیں۔ ایک آواز لمحے میں فنا ہوسکتی ہے، جبکہ تحریری نشان دیر تک باقی رہ سکتا ہے۔ گفتگو میں فوری جواب ممکن ہے، تحریر میں مصنف غائب ہوسکتا ہے۔
دریدا ان عملی اختلافات سے انکار نہیں کرتا۔ اس کا سوال اس بنیادی ساخت سے متعلق ہے جس کے بغیر نہ گفتگو نشان بن سکتی ہے اور نہ تحریر۔ دونوں کو قابل شناخت ہونے کے لیے تکرار، فرق اور دوسرے سیاق میں منتقل ہونے کی صلاحیت درکار ہے۔ اسی سطح پر بولی ہوئی اور لکھی ہوئی زبان ایک زیادہ بنیادی نشانی منطق میں شریک ہوجاتی ہیں۔
اس منطق کو سمجھنے کے لیے اصل کے تصور پر دوبارہ غور کرنا ضروری ہے۔ عام طور پر اصل کو ایسی پہلی اور مکمل موجودگی سمجھا جاتا ہے جس کے بعد نقل آتی ہے۔ نقل کی قدر اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہ اصل سے کتنی وفادار ہے۔ لیکن اگر اصل صرف اس وقت اصل کہلاسکتی ہے جب اسے دہرایا، پہچانا یا نقل کیا جاسکے تو نقل کا امکان اس کے بعد نہیں، اس کی شناخت میں پہلے سے شامل ہے۔
کوئی واقعہ اس وقت منفرد واقعہ بنتا ہے جب اسے کسی نہ کسی صورت میں پہچانا جاسکے۔ پہچان کے لیے سابق یا ممکنہ تکرار ضروری ہے۔ اس طرح اصل کی انفرادیت بھی تکرار کے امکان سے آزاد نہیں۔ جس چیز کو خالص، واحد اور ناقابل نقل اصل سمجھا گیا تھا، اس کے اندر نقل کیے جانے کی شرط پہلے ہی موجود ہوتی ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دریدا کے نزدیک اصل نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں۔ اس کا اعتراض زیادہ مخصوص ہے۔ وہ ایسی خالص اصل کے تصور پر سوال اٹھاتا ہے جو ہر فرق، نشان، تکرار اور تعلق سے پہلے خود اپنے اندر مکمل ہو۔ جو کچھ اصل کہلاتا ہے، وہ بھی نسبتوں کے ایک نظام میں اپنی اصل حیثیت حاصل کرتا ہے۔
نقش اس نظام کو کسی ٹھوس بنیاد میں تبدیل نہیں ہونے دیتا۔ اگر ہر نشان میں دوسرے کا نقش ہے تو کوئی نشان اپنے اندر پوری طرح بند نہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ معنی بے مہار ہوجاتا ہے اور ہر لفظ کسی بھی معنی میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ نشان کے معانی تاریخی، لسانی اور سماجی رشتوں سے محدود ہوتے ہیں۔ ہر تعبیر ممکن نہیں، لیکن کوئی تعبیر آخری اور ہر آئندہ سیاق سے محفوظ بھی نہیں۔
دریدا کے ناقدین بعض اوقات یہ سمجھتے ہیں کہ اگر معنی مستقل اور مکمل نہیں تو پھر صداقت، تفہیم اور تنقید سب ناممکن ہوجاتے ہیں۔ لیکن زیر التواء فرق معنی کو ختم نہیں کرتا۔ وہ اس طریقے کو واضح کرتا ہے جس میں معنی پیدا ہوتا ہے۔ اگر فرق نہ ہو تو زبان میں کوئی شناخت ممکن نہیں۔ اگر التوا نہ ہو تو جملہ، استدلال، یادداشت اور تعبیر ممکن نہیں۔ جو چیز معنی کو غیر مکمل رکھتی ہے، وہی معنی کی پیدائش کی شرط بھی ہے۔
نشان کی دراڑ اس کی خرابی نہیں، اس کی امکان پذیری ہے۔ نشان اگر اپنے اندر مکمل بند ہو تو کسی دوسرے شخص، وقت یا سیاق تک نہیں پہنچ سکتا۔ وہ صرف ایک نقطے پر مقید رہ جائے گا۔ نشان اسی لیے سفر کرتا ہے کہ وہ اپنے سرچشمے سے جدا ہوسکتا ہے۔ وہ اسی لیے زندہ رہتا ہے کہ ہر نئی قرأت میں نئے تعلقات قائم کرسکتا ہے۔
لیکن یہی آزادی خطرہ بھی پیدا کرتی ہے۔ نشان غلط سمجھا جاسکتا ہے، اپنے پہلے سیاق سے نکالا جاسکتا ہے اور ایسے مطلب میں استعمال ہوسکتا ہے جس کا مصنف نے ارادہ نہیں کیا تھا۔ معنی کی یہ غیر یقینی کوئی بیرونی حادثہ نہیں۔ یہ اسی تکرار پذیری کا دوسرا پہلو ہے جس کے بغیر نشان وجود ہی نہیں رکھ سکتا۔
نشان کی قوت اور کمزوری ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ وہ اس لیے معنی پہنچاتا ہے کہ اپنے پہلے لمحے سے باہر جاسکتا ہے، اور اسی لیے اپنے پہلے معنی سے مختلف بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ وہ اس لیے محفوظ رہتا ہے کہ دہرایا جاسکتا ہے، مگر ہر تکرار اسے بدلنے کا امکان بھی پیدا کرتی ہے۔ وہ اس لیے پہچانا جاتا ہے کہ اس میں کچھ باقی رہتا ہے، مگر وہ باقی رہنے والی چیز بھی نئے فرقوں میں داخل ہوتی رہتی ہے۔
یہاں تحریر معنی کے کسی تیار شدہ محل کی محافظ نہیں رہتی۔ وہ اس تعمیر کی حرکت بن جاتی ہے جس میں معنی عارضی طور پر شکل اختیار کرتا ہے۔ ہر شکل اپنے اندر دوسرے امکانات، گزرے ہوئے نشانات اور آنے والی قرأتوں کے لیے ایک دراڑ رکھتی ہے۔ یہ دراڑ معنی کو تباہ نہیں کرتی۔ وہ اسے زندہ رکھتی ہے۔
نشان کبھی تنہا نہیں آتا۔ اس کے ساتھ دوسرے نشانات کا خاموش ہجوم، پچھلے استعمالات کی بازگشت اور آئندہ تعبیر کا امکان آتا ہے۔ جو لفظ سامنے موجود ہے، وہ اپنے اندر ان چیزوں کے نقش رکھتا ہے جو سامنے موجود نہیں۔ اسی لیے نشان کسی مکمل حضور کا شفاف آئینہ نہیں۔ وہ حضور اور غیاب، یاد اور فراموشی، تکرار اور اختلاف کے درمیان پیدا ہونے والی ایک حرکت ہے۔
فلسفہ جس مقام پر ایک آخری معنی، خالص اصل یا مکمل حضور تلاش کرتا ہے، نشان وہاں ایک دراڑ کھول دیتا ہے۔ اس دراڑ کے پار کوئی مکمل خلا نہیں، بلکہ نشانات، رشتوں اور زیر التواء فرق کی مسلسل حرکت ہے۔ معنی اسی حرکت میں پیدا ہوتا ہے، اور اسی میں اپنی آخری تکمیل سے محروم رہتا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.