صوت کا فریب
بولتے ہوئے انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے الفاظ براہ راست اس کے باطن سے نکل رہے ہوں۔ آواز اس کے جسم سے پیدا ہوتی ہے، اس کے سانس کے ساتھ حرکت کرتی ہے اور اسی لمحے اس کے اپنے کانوں تک واپس پہنچتی ہے۔ بولنے والا اپنے الفاظ کا خالق بھی معلوم ہوتا ہے اور پہلا سامع بھی۔ اس لیے آواز میں ایک ایسی قربت کا احساس پیدا ہوتا ہے جو تحریر میں بظاہر موجود نہیں۔ تحریر کو کاغذ، روشنائی، حروف اور کسی بیرونی سطح کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ آواز انسان کی اپنی موجودگی سے پھوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
یہی احساس مغربی فلسفے میں صوت کی غیر معمولی مرکزیت کا بنیادی سرچشمہ بنا۔ آواز کو محض ابلاغ کا ایک وسیلہ نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے معنی، شعور اور زندہ حضور کے سب سے قریب قرار دیا گیا۔ بولنے والے اور اس کے معنی کے درمیان کوئی مادی پردہ دکھائی نہیں دیتا۔ جو شخص بول رہا ہے، وہ اپنے کلام کے ساتھ موجود بھی ہے۔ وہ اپنی بات کی وضاحت کرسکتا ہے، غلط فہمی دور کرسکتا ہے اور یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ کا اصل مطلب جانتا ہے۔
تحریر کے ساتھ معاملہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ عبارت لکھنے والے سے جدا ہوجاتی ہے۔ لکھا ہوا نشان اپنے مصنف کے بغیر بھی باقی رہتا، سفر کرتا اور پڑھا جاتا ہے۔ اس لیے فلسفیانہ روایت نے صوت کو اصل اور تحریر کو اس کی نقل قرار دیا۔ آواز زندہ تھی، تحریر مردہ۔ آواز باطن سے جڑی تھی، تحریر خارج میں ثبت تھی۔ آواز میں حضور تھا، تحریر میں غیاب۔ آواز اصل معنی کے قریب تھی، تحریر اس معنی کی نمائندگی کرنے والے نشان کی نمائندگی۔
ژاک دریدا کے نزدیک یہ درجہ بندی کسی معمولی لسانی پسند کا نتیجہ نہیں۔ اس کے پیچھے مغربی فکر کا ایک وسیع مابعدالطبیعاتی نظام موجود ہے۔ یہ نظام معنی، صداقت اور وجود کے لیے کسی ایسے مرکز کی تلاش کرتا ہے جو خود حاضر، قائم بالذات اور فرق سے آزاد ہو۔ کبھی اس مرکز کو خدا کہا گیا، کبھی عقل، کبھی روح، کبھی شعور، کبھی ذات اور کبھی آخری مدلول۔ نام بدلتے رہے، لیکن یہ خواہش قائم رہی کہ معنی کے منتشر سلسلے کے پیچھے کوئی ایسی بنیاد ضرور ہو جو خود کسی دوسری بنیاد کی محتاج نہ ہو۔
دریدا اس خواہش کو لوگوس مرکزیت کہتا ہے۔ لوگوس یہاں صرف کلام یا لفظ نہیں، بلکہ عقل، قانون، صداقت، اصل اور معنی کے سرچشمے کا تصور بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ لوگوس مرکزیت میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ نشانات کی گردش کے پیچھے کوئی ایسا آخری معنی موجود ہے جو خود نشان نہیں، بلکہ تمام نشانات کو معنی عطا کرتا ہے۔ صوت مرکزیت اسی مابعدالطبیعاتی خواہش کی لسانی صورت ہے۔ آواز کو لوگوس کے سب سے قریب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بولنے والا اپنے کلام میں خود کو حاضر محسوس کرتا ہے۔
یہ احساس اتنا فطری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر چھپا ہوا فلسفیانہ مفروضہ دکھائی نہیں دیتا۔ جب میں بولتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا خیال، میرا ارادہ اور میری آواز ایک ہی لمحے میں ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہیں۔ لفظ میرے منہ سے نکلتا ہے اور میں اسے فوراً سن لیتا ہوں۔ اس لمحے مجھے کسی مترجم، کاتب یا بیرونی وسیلے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ گویا میری آواز میرے معنی کو کسی فاصلے کے بغیر میرے سامنے حاضر کردیتی ہے۔
لیکن کیا یہ قربت واقعی بے فاصلہ ہے؟ کیا بولنے والا اپنے الفاظ کے معنی کو پوری طرح اپنے اختیار میں رکھتا ہے؟ کیا آواز محض اسی لمحے اور اسی شخص سے تعلق رکھتی ہے جو اسے ادا کررہا ہے؟ دریدا کی مداخلت انھی سوالات سے شروع ہوتی ہے۔
ایک لفظ صرف اسی صورت میں لفظ ہے جب وہ پہلے سے زبان کے ایک مشترک نظام کا حصہ ہو۔ میں کوئی ایسا لفظ ایجاد نہیں کرسکتا جو صرف ایک لمحے، صرف میرے لیے اور صرف میری موجودگی میں معنی رکھتا ہو۔ اس نشان کو پہچانا جاسکنا چاہیے۔ اسے پہلے بھی استعمال کیا گیا ہو یا کم از کم اسے دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہو۔ میری آواز میرے جسم سے نکل سکتی ہے، لیکن وہ الفاظ جو میں بولتا ہوں صرف میرے نہیں ہوتے۔ وہ میرے پیدا ہونے سے پہلے زبان میں موجود تھے اور میرے بعد بھی استعمال ہوتے رہیں گے۔
اس لیے بولنے والا اپنے کلام کا مطلق سرچشمہ نہیں۔ وہ ایک ایسی زبان میں بولتا ہے جو اس سے پہلے موجود ہے۔ اس زبان کے الفاظ اپنے ساتھ پرانے استعمالات، سماجی معانی، بھولی ہوئی نسبتیں اور دوسرے لوگوں کی آوازیں لے کر آتے ہیں۔ میں لفظ کا انتخاب کرسکتا ہوں، مگر اس لفظ کی پوری تاریخ کو ختم نہیں کرسکتا۔ میں اپنے جملے کا ارادہ رکھ سکتا ہوں، لیکن ان تمام مفاہیم پر قابو نہیں پاسکتا جو میرا جملہ کسی اور سیاق میں پیدا کرسکتا ہے۔
یہ بات گفتگو کے عام تجربے میں بھی سامنے آتی ہے۔ ہم بولتے کچھ ہیں، دوسرا شخص سنتا کچھ اور ہے۔ ہم فوراً وضاحت کرتے ہیں کہ ہمارا مطلب یہ نہیں تھا۔ کبھی لہجہ مفہوم بدل دیتا ہے، کبھی سیاق، کبھی مخاطب کی یادداشت اور کبھی ایک لفظ کا ایسا پہلو سامنے آجاتا ہے جس کا بولنے والے نے ارادہ نہیں کیا تھا۔ اگر صوت معنی کو مکمل طور پر حاضر کردیتی تو گفتگو میں غلط فہمی کی گنجائش نہ ہوتی۔ ہر سننے والا وہی معنی حاصل کرتا جو بولنے والے کے ذہن میں موجود تھا۔
گفتگو میں بولنے والے کی موجودگی یقیناً اہم ہے۔ وہ جواب دے سکتا اور وضاحت کرسکتا ہے۔ لیکن ہر وضاحت بھی نئے الفاظ میں کی جاتی ہے، اور نئے الفاظ بھی نئی تعبیر کی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔ اگر ایک جملہ غلط سمجھا گیا تو ہم دوسرا جملہ بولتے ہیں۔ دوسرا جملہ پہلے کی تشریح کرتا ہے، مگر وہ خود بھی نشانات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یوں معنی کسی ایسی آخری وضاحت تک نہیں پہنچتا جس کے بعد تعبیر کی ضرورت ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔
یہاں دریدا ابلاغ کا انکار نہیں کرتا۔ لوگ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں، معاہدے کرتے ہیں، سوالوں کے جواب دیتے ہیں اور مشترک زندگی قائم کرتے ہیں۔ لیکن یہ تفہیم کبھی ایسی شفاف مطابقت نہیں بنتی جس میں ایک شعور کا پورا مفہوم کسی کمی یا تبدیلی کے بغیر دوسرے شعور میں منتقل ہوجائے۔ ابلاغ ممکن ہے، مگر اس کی تکمیل کی کوئی آخری ضمانت نہیں۔ اس میں ہمیشہ فرق، سیاق اور دوبارہ تعبیر کا امکان موجود رہتا ہے۔
صوت مرکزیت کا سب سے گہرا مقام وہ تجربہ ہے جس میں انسان خود کو بولتے ہوئے سنتا ہے۔ بیرونی مخاطب کے ساتھ گفتگو میں غلط فہمی ممکن ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنے دل میں خود سے بات کرتے ہوئے کسی فاصلے کی گنجائش نہیں رہتی۔ میں جانتا ہوں کہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔ میں اپنی خاموش آواز سنتا ہوں اور معنی فوراً میرے سامنے موجود ہوتا ہے۔ یہاں نہ کوئی بیرونی سامع ہے، نہ کاغذ، نہ تحریر، نہ غلط قاری۔
فلسفیانہ روایت نے اس باطنی خود کلامی کو شعور کی خود حضوری کا نمونہ سمجھا۔ انسان اپنے آپ کو سنتا ہے اور اسی لمحے اپنے آپ کے قریب رہتا ہے۔ آواز خارج میں کسی مستقل شے کی صورت اختیار نہیں کرتی۔ وہ پیدا ہوتی اور اسی لمحے سن لی جاتی ہے۔ اس طرح بولنے اور سننے کے درمیان فاصلہ تقریباً مٹ جاتا ہے۔ شعور خود اپنے لیے کلام بھی ہے اور سماعت بھی۔
مگر خاموش خود کلامی میں بھی لفظ وہی رہتا ہے جسے دوسروں کے سامنے بولا جاسکتا ہے۔ میرے باطن کا نشان بھی قابل شناخت ہونا چاہیے۔ اگر وہ کسی بھی صورت میں دہرایا نہ جاسکے تو میں خود بھی اسے ایک نشان کے طور پر نہیں پہچان سکتا۔ پہچاننے کا مطلب ہے کہ موجودہ لفظ کو کسی سابق یا ممکنہ تکرار کے ساتھ جوڑا جائے۔ جو شے صرف ایک مرتبہ، کسی فرق کے بغیر اور کسی تکرار کے امکان کے بغیر ظاہر ہو، وہ میرے لیے معنی خیز نشان نہیں بن سکتی۔
اس طرح تکرار کا امکان شعور کی انتہائی نجی خود کلامی میں بھی داخل ہوجاتا ہے۔ میں اپنے لفظ کو اسی لیے سمجھتا ہوں کہ وہ صرف اس لمحے کا بے مثال واقعہ نہیں۔ وہ زبان کے نظام میں ایک قابل تکرار نشان ہے۔ لیکن تکرار کبھی خالص یکسانیت نہیں ہوتی۔ ایک ہی لفظ دوبارہ ادا کیا جائے تو وقت بدل چکا ہوتا ہے، سیاق بدل چکا ہوتا ہے اور بولنے والا بھی عین وہی نہیں رہتا جو پچھلے لمحے تھا۔
آواز جس لمحے پیدا ہوتی ہے، اسی لمحے گزرنے بھی لگتی ہے۔ لفظ کا پہلا جز ختم ہوئے بغیر آخری جز سنائی نہیں دے سکتا۔ ایک پورا لفظ سننے کے لیے ہمیں اس آواز کا نقش محفوظ رکھنا پڑتا ہے جو ابھی گزر چکی ہے۔ موجودہ صوت کے اندر ماضی کی ہلکی سی غیر موجودگی پہلے ہی شامل ہوتی ہے۔ آنے والا صوتی جز ابھی موجود نہیں، مگر موجودہ حصے کی تکمیل اس کی توقع پر منحصر ہے۔ یوں جس لمحے کو خالص حال سمجھا جاتا ہے، وہ گزرے ہوئے اور آنے والے وقت کے رشتے سے بنا ہوتا ہے۔
آواز میں حضور ضرور ہے، لیکن ایسا حضور نہیں جو غیاب سے پاک ہو۔ وہ اپنی تشکیل کے لیے اس آواز کے نقش کا محتاج ہے جو گزر چکی، اور اس آواز کی توقع کا بھی جو ابھی نہیں آئی۔ خالص حال کے اندر ماضی اور مستقبل کے یہ اثرات نہ ہوں تو کوئی لفظ، جملہ یا نغمہ سمجھ میں نہیں آسکتا۔ ایک الگ تھلگ صوتی نقطہ معنی پیدا نہیں کرتا۔ معنی ترتیب، فرق، وقفے اور زمانی حرکت سے بنتا ہے۔
یہی وہ حرکت ہے جسے دریدا زیرِ التوا فرق (ڈیفرانس) کے ذریعے نمایاں کرتا ہے۔ معنی فرق سے بنتا ہے، کیونکہ ایک نشان وہی ہے جو دوسرے نشانات سے مختلف ہے۔ لیکن معنی ملتوی بھی ہوتا ہے، کیونکہ ہر نشان اپنی وضاحت کے لیے کسی دوسرے نشان کی طرف بھیجتا ہے۔ زیرِ التوا فرق محض اتنا نہیں کہ دو الفاظ الگ ہیں، اور نہ صرف اتنا کہ معنی دیر سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ وہ حرکت ہے جس میں فرق پیدا ہونا اور معنی کا آگے سرکنا ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتے۔
صوت اس حرکت سے آزاد نہیں۔ ایک لفظ کی صوتی شناخت بھی دوسری آوازوں سے اس کے فرق پر قائم ہوتی ہے۔ اگر تمام صوتیں ایک جیسی ہوں تو کوئی لفظ پہچانا نہیں جاسکتا۔ آواز کو معنی خیز ہونے کے لیے اختلافی نظام میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے صوت خود کوئی بے واسطہ اصل نہیں، بلکہ فرق کے رشتوں میں تشکیل پانے والا نشان ہے۔
فلسفیانہ روایت نے تحریر کو آواز کا ضمیمہ سمجھا۔ ضمیمہ بظاہر ایسی اضافی شے ہے جو کسی مکمل اصل کے بعد آتی ہے۔ بولی ہوئی زبان پہلے سے مکمل موجود ہے، پھر اسے محفوظ کرنے کے لیے تحریر شامل کی جاتی ہے۔ تحریر ایک بیرونی سہارا ہے جو آواز کی غیر موجودگی میں اس کی جگہ لیتا ہے۔
لیکن ضمیمے کی ضرورت خود ایک سوال پیدا کرتی ہے۔ اگر اصل مکمل اور خود کفیل ہے تو اسے کسی اضافے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ تحریر آواز کو اس لیے محفوظ کرتی ہے کہ آواز گزر جاتی ہے۔ وہ دور موجود شخص تک نہیں پہنچ سکتی۔ وہ بولنے والے کی موت کے بعد باقی نہیں رہتی۔ ضمیمہ جس کمی کو پورا کرنے آتا ہے، اس کمی کا امکان پہلے ہی اصل میں موجود ہوتا ہے۔
تحریر صرف باہر سے آکر آواز کو خراب نہیں کرتی۔ وہ اس عدم پائیداری کو ظاہر کرتی ہے جو آواز میں پہلے سے موجود ہے۔ صوت زندہ ہے، مگر اسی زندہ ہونے کے باعث فنا پذیر بھی ہے۔ وہ وقت میں پیدا ہوتی اور وقت میں مٹتی ہے۔ تحریر آواز کی جگہ اس وقت لیتی ہے جب آواز موجود نہیں رہتی، مگر اس کا یہ عمل بتاتا ہے کہ صوتی حضور کبھی مستقل اور خود کفیل نہیں تھا۔
یہاں دریدا صوت اور تحریر کی روایتی درجہ بندی کو محض الٹ نہیں دیتا۔ اس کا مقصد یہ کہنا نہیں کہ آواز ہمیشہ جھوٹی اور تحریر ہمیشہ سچی ہے، یا یہ کہ تحریر اصل اور تقریر اس کی نقل ہے۔ ایسی الٹ پھیر پرانی ثنویت کو ختم نہیں کرتی، صرف اس کے دونوں سروں کی جگہ بدل دیتی ہے۔
ردِ تشکیل کی حرکت زیادہ پیچیدہ ہے۔ پہلے وہ دکھاتی ہے کہ فلسفیانہ نظام ایک عنصر کو برتر اور دوسرے کو کمتر کیسے بناتا ہے۔ پھر یہ ظاہر کرتی ہے کہ برتر عنصر اپنی تشکیل ہی کے لیے اس کمتر عنصر کی ان خصوصیات کا محتاج ہے جن سے وہ خود کو پاک سمجھتا تھا۔ صوت کو تحریر پر برتری اس لیے دی گئی کہ وہ زندہ، حاضر اور براہ راست ہے۔ مگر صوت بھی تکرار، فرق، زمانی التوا، سیاق اور ممکنہ غیر موجودگی کے بغیر نشان نہیں بن سکتی۔
تحریر کا وسیع تر فلسفیانہ مفہوم اسی مقام پر سامنے آتا ہے۔ یہاں تحریر سے مراد صرف قلم سے لکھے ہوئے حروف نہیں۔ یہ نشان کی وہ عمومی ساخت ہے جس میں کوئی معنی اپنی ذات میں مکمل، فوری اور خالص طور پر حاضر نہیں ہوتا۔ اس ساخت میں ہر نشان کسی دوسرے نشان سے فرق رکھتا، کسی سابق نشان کا نقش اٹھائے پھرتا اور کسی آئندہ نشان کی طرف کھلتا ہے۔
اس مفہوم میں آواز بھی تحریر سے باہر نہیں رہتی۔ بولی ہوئی زبان کو بھی شناخت، تکرار اور فرق درکار ہیں۔ آواز کو سننے کے لیے وقت، وقفہ اور یاد کا نقش ضروری ہے۔ بولنے والا اپنے ارادے کو مکمل طور پر زبان سے باہر کھڑا ہوکر اس پر مسلط نہیں کرتا۔ وہ زبان کے اندر بولتا ہے، اور زبان اس کے الفاظ کو ایسے امکانات دیتی ہے جو اس کی نیت سے وسیع ہوتے ہیں۔
صوت کا فریب یہ نہیں کہ آواز سرے سے حقیقت نہیں رکھتی، یا بولنے والا اپنے کلام میں کبھی موجود نہیں ہوتا۔ فریب اس یقین میں ہے کہ یہ موجودگی خالص، مکمل اور غیاب سے آزاد ہے۔ بولنے والے کا حضور حقیقی ہوسکتا ہے، لیکن وہ فرق، زمان اور تکرار سے تشکیل پاتا ہے۔ اس کے اندر وہ چیزیں پہلے ہی کام کررہی ہوتی ہیں جنھیں فلسفے نے صرف تحریر سے منسوب کیا تھا۔
آواز ہمیں اپنے قریب لاتی ہے، لیکن یہ قربت کبھی ایسی مطلق یکجائی نہیں جس میں خود اور نشان ایک ہوجائیں۔ لفظ ادا ہوتے ہی مشترک زبان کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ سنا جاسکتا، دہرایا جاسکتا، یاد رکھا جاسکتا اور دوسرے معنی میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ صوت اپنے سرچشمے سے نکلتے ہی اس امکان کے حوالے ہوجاتی ہے کہ اسے کوئی دوسرا شخص، دوسرا زمانہ اور دوسرا سیاق اپنے اندر لے لے۔
اسی لیے تحریر کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے کاغذ اور قلم سے آگے جانا پڑتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بولی ہوئی زبان پہلے ہے یا لکھی ہوئی زبان۔ سوال یہ ہے کہ معنی پیدا ہونے کی بنیادی شرط کیا ہے۔ اگر ہر معنی فرق، تکرار، نقش اور زمانی التوا سے بنتا ہے تو خالص صوتی حضور کا خواب برقرار نہیں رہتا۔ آواز بھی اسی عمومی نشانی ساخت میں سانس لیتی ہے جسے فلسفیانہ روایت نے تحریر کے نام سے حاشیے پر رکھا تھا۔
فلسفے نے صوت میں اپنے لیے ایک محفوظ گھر تلاش کیا تھا۔ اسے امید تھی کہ یہاں معنی اپنے سرچشمے کے ساتھ موجود رہے گا، شعور اپنے آپ سے جدا نہیں ہوگا اور لفظ اپنے ارادے سے باہر نہیں نکلے گا۔ دریدا اس گھر کو منہدم کرکے اس کی جگہ کوئی نیا قلعہ تعمیر نہیں کرتا۔ وہ صرف اس کی دیواروں میں موجود وہ دراڑیں نمایاں کرتا ہے جن سے دوسرے کی آواز، گزرے ہوئے لمحے کا نقش اور آنے والے معنی کا امکان پہلے ہی اندر داخل ہوچکے ہیں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.