شاندار تنہائی کا مکین
تنہائی کو ’’شاندار‘‘ کہنا بھی غالباً انہی لوگوں کا کام ہے جنہیں زندگی نے تنہا تو کر دیا ہو مگر ان کی خودداری ابھی اتنی سلامت ہو کہ وہ اس حالت کو شکست کے بجائے ایک فکری امتیاز کا نام دے سکیں۔ عام آدمی اکیلا پڑ جائے تو لوگ اس سے ہمدردی کرتے ہیں، کبھی کھانا بھجوا دیتے ہیں، کبھی مشورہ دیتے ہیں کہ باہر نکلو، لوگوں سے ملو۔ مفکر تنہا ہو تو اس کی تنہائی کے آگے کوئی ایسا صفتی چراغ رکھ دیا جاتا ہے جس سے کمرہ روشن معلوم ہونے لگے۔ سگمنڈ فرائڈ نے اپنی ایک کیفیت کو ’’شاندار تنہائی‘‘ کہا تھا۔ ترکیب واقعی شاندار تھی، تنہائی اپنی جگہ ویسی ہی رہی۔
انیسویں صدی کے آخری برسوں میں فرائڈ کے پاس خیالات بہت تھے، سامعین کم۔ اس نے انسانی ذہن کی ایسی تہہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے وجود کو تسلیم کرنا ہی مہذب آدمی کے لیے خاصا ناگوار تھا۔ انسان اپنے آپ کو عقل، ارادے اور اخلاق کی عمدہ عمارت سمجھتا آیا تھا۔ فرائڈ نے آکر بتایا کہ عمارت کے تہہ خانے میں خواہشیں، خوف، یادیں اور دبی ہوئی کشمکشیں اس طرح جمع ہیں جیسے کسی معزز گھرانے نے ناکارہ سامان نیچے پھینک رکھا ہو اور اوپر بیٹھ کر تہذیب پر گفتگو کر رہا ہو۔
یہ اطلاع خود انسان کے بارے میں تھی، اس لیے انسان نے اسے ذاتی حملہ سمجھا۔ اگر فرائڈ یہ کہتا کہ مریخ کے باشندوں کے لاشعور میں اپنی ماؤں کے متعلق پیچیدہ جذبات ہوتے ہیں تو علمی دنیا شاید نسبتاً اطمینان سے سن لیتی۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ ویانا کے مہذب شہری، استاد، ڈاکٹر، باپ، شوہر، عالم اور بچے سب کو اس کہانی میں شامل کر رہا تھا۔ اس کے نظریے میں کوئی تماشائی نہیں تھا۔ ہر شخص کسی نہ کسی صورت اسٹیج پر کھڑا تھا، اور اکثر ایسے لباس میں جسے وہ مجمع کے سامنے پہننا پسند نہ کرتا۔
فرائڈ کا ابتدائی پیشہ ورانہ سفر اس فاتحانہ انداز میں نہیں ہوا تھا جس سے بعد کی تصویروں میں اس کی شخصیت پہچانی جاتی ہے۔ آج ہم اسے داڑھی، سگار اور ایک ایسی نگاہ کے ساتھ دیکھتے ہیں جو بظاہر سامنے والے کے چہرے سے زیادہ اس کے بچپن کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔ مگر اس باوقار شبیہ کے پیچھے ناکامیوں، مایوسیوں اور علمی بے اعتنائی کا ایک خاصا طویل راستہ تھا۔
وہ تحقیق کے میدان میں وہ مقام حاصل نہ کر سکا جس کی اسے خواہش تھی۔ جامعہ میں مستقل اور بااختیار منصب بھی آسانی سے نہ ملا۔ طبی دنیا نے اس کے کئی دعووں کو یا تو شک سے دیکھا یا اس سہولت کے ساتھ نظر انداز کر دیا جسے بڑے ادارے نئے خیالات کے مقابل اکثر اختیار کرتے ہیں۔ ادارہ کسی نظریے کو فوراً غلط ثابت کرنے کی زحمت نہیں کرتا، پہلے اسے اتنی دیر انتظار کراتا ہے کہ نظریہ ساز خود ہی تھک جائے۔
فرائڈ آسانی سے تھکنے والوں میں سے نہ تھا۔ البتہ اسے دوستوں، ہم خیالوں اور فکری رفاقت کی ضرورت رہتی تھی۔ تنہائی اس کے لیے محض خارجی حالت نہیں تھی، شاید وہ ایک ایسی نفسی جگہ بھی تھی جس سے وہ بار بار نکلنا چاہتا اور ہر بار کسی گہری رفاقت کے خاتمے کے بعد دوبارہ اسی میں لوٹ آتا۔
جوزف بروئر کے ساتھ تعاون نے ’’مطالعۂ ہسٹیریا‘‘ جیسی بنیادی کتاب کو جنم دیا۔ بروئر، فرائڈ کے لیے محض ساتھی طبیب نہیں تھا۔ اس اشتراک میں ایک نئے طریق علاج، نئی زبان اور ذہن کو دیکھنے کے نئے امکان کے ابتدائی خدوخال بنے۔ مگر یہ رفاقت بھی برقرار نہ رہ سکی۔ اختلافات نے تعاون کی جگہ لے لی اور فرائڈ ایک بار پھر اپنی دریافتوں کے ساتھ تنہا کھڑا تھا۔
فرائڈ کی فکری زندگی میں دوستی کبھی صرف دوستی نہیں رہی۔ وہ علمی تصدیق، جذباتی سہارا اور اپنے نظریے کے مستقبل کی ضمانت بھی بن جاتی تھی۔ اسی لیے رفاقت کا خاتمہ محض ایک شخص کی جدائی نہ رہتا، گویا نظریے کی عمارت سے ایک دیوار نکل جاتی۔ فرائڈ پھر خود ہی معمار بھی بنتا، مزدور بھی، اور بعض اوقات اس دیوار کے گرنے کی نفسیاتی تعبیر بھی خود ہی لکھتا۔
بروئر کے بعد ولہلم فلیس سے تعلق نے اس کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت اختیار کی۔ فلیس برلن میں ناک، کان اور گلے کا ماہر تھا، مگر فرائڈ کے لیے رفتہ رفتہ اس سے بہت زیادہ بن گیا۔ دونوں کے درمیان طویل خط و کتابت ہوئی۔ فرائڈ اپنے خیالات، تجربات، خوف، جسمانی کیفیتوں اور نظری امکانات کو اس کے سامنے کھولتا رہا۔ ان خطوط سے محسوس ہوتا ہے کہ اسے مخاطب کی کتنی ضرورت تھی۔ نظریہ شاید ایک ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے، مگر اسے اپنی حقیقت پر یقین کرنے کے لیے کبھی کبھی دوسرے ذہن کی آنکھ درکار ہوتی ہے۔
یہ رشتہ بھی 1902 کے قریب اختتام کو پہنچا۔ یوں فرائڈ کی شاندار تنہائی میں ایک اور شاندار اضافہ ہوگیا۔ وہ انسان کے باطن میں تکرار کی مجبوری تلاش کر رہا تھا، اور اس کی اپنی زندگی میں گہری فکری دوستی، شدید انحصار اور پھر جدائی کی ترتیب خود کو دہرا رہی تھی۔ دوسروں کے نفسی نمونے دریافت کرنے والے شخص کی زندگی بھی نمونوں سے خالی نہیں ہوتی، فرق صرف یہ ہے کہ اپنے نمونے کو پہچاننا ہمیشہ زیادہ مشکل رہتا ہے۔
اسی تنہائی میں فرائڈ نے 1897 میں اپنے لاشعور کا تجزیہ شروع کیا۔ یہ کام اپنی نوعیت میں بے حد جرأت مندانہ بھی تھا اور قدرے خطرناک بھی۔ مریض کے سامنے بیٹھ کر اس کی یادوں، لغزشوں اور خوابوں کا تجزیہ کرنا ایک بات ہے، اپنی ہی یادوں کے درمیان اترنا دوسری۔ معالج اور مریض جب ایک ہی شخص ہوں تو فیس کا مسئلہ تو حل ہو جاتا ہے، غیر جانب داری کا نہیں۔
خود تجزیے کا یہ سفر بالآخر ’’تعبیرِ خواب‘‘ کی صورت میں سامنے آیا۔ کتاب 1899 کے آخر میں شائع ہوئی، اگرچہ اس پر سن اشاعت 1900 درج کیا گیا۔ شاید نئی صدی کے دروازے پر کتاب کو رکھنا ناشر یا مصنف دونوں کو مناسب لگا ہوگا۔ بعض کتابیں صرف شائع نہیں ہوتیں، انہیں تاریخ میں ایک موزوں مقام پر کھڑا بھی کیا جاتا ہے۔ فرائڈ کی خواہش تھی کہ اس کتاب کو محض خوابوں کی تعبیر کے قدیم فن کا نیا نسخہ نہ سمجھا جائے۔ یہ اس کی پوری فکری عمارت کی بنیاد تھی۔
خواب فرائڈ کے لیے مستقبل کی پیش گوئی، غیبی پیغام یا کھانے کی زیادتی کا نتیجہ نہیں تھے۔ وہ دبی ہوئی خواہش کی ایسی تکمیل تھے جو شعور کے دربان سے بچنے کے لیے بھیس بدل کر آتی ہے۔ خواب سچ بولتا ہے، مگر سیدھی زبان میں نہیں۔ وہ علامت، تحریف، نقل مکانی اور اختصار سے کام لیتا ہے۔ گویا لاشعور بھی کسی محتاط خط نویس کی طرح جانتا ہے کہ اصل بات کہنا خطرناک ہو تو جملہ تھوڑا گھما دینا چاہیے۔
’’تعبیرِ خواب‘‘ پر فوری طور پر وہ ہنگامہ برپا نہیں ہوا جس کا آج اس کے تاریخی مرتبے کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے۔ تنقیدی ردعمل ناکافی رہا، فروخت بھی معمولی ہوئی۔ بڑے انقلابی کاموں کی اشاعت کے بعد اکثر مصنف کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا نے فی الحال انقلاب کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔ کتاب جس تہذیب کو بدلنے آئی تھی، وہ دکان پر خاموش پڑی رہی۔
فرائڈ کے لیے اس کتاب کی قدر بازار یا ناقد کی توثیق سے طے نہیں ہوتی تھی۔ وہ اسے اپنا اہم ترین سائنسی کارنامہ اور اپنی مکمل فکری عمارت کی بنیاد سمجھتا تھا۔ اس نے اسے علمی عزم اور ذاتی صاف گوئی دی۔ دنیا اسے قبول کرے یا نہ کرے، وہ اپنے نظریے کے مرکز تک پہنچ چکا تھا۔ تنہائی اب محض اس لیے نہیں تھی کہ اس کے پاس ساتھی کم تھے، اس میں یہ یقین بھی شامل ہوگیا تھا کہ وہ ایسی حقیقت دیکھ رہا ہے جسے دوسرے دیکھنے سے گریزاں ہیں۔
یہ یقین کسی مفکر کی طاقت بھی ہوتا ہے اور خطرہ بھی۔ اگر دنیا آپ کی بات نہ مانے تو دو امکانات ہیں: یا آپ غلط ہیں، یا دنیا ابھی آپ کی سطح تک نہیں پہنچی۔ بڑے نظریہ ساز دوسرے امکان کو نسبتاً زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ درست بھی ہوتے ہیں، جس سے ان کے بعد آنے والے نظریہ سازوں کا اعتماد بلا وجہ بڑھ جاتا ہے۔
فرائڈ کی مشکل یہ تھی کہ وہ اپنی مخالفت کو محض علمی اختلاف کے طور پر نہیں دیکھتا تھا۔ نفسی تجزیے کی منطق نے اسے یہ امکان بھی دیا کہ مخالف کی دلیل کے پیچھے کسی قسم کی مزاحمت، خوف یا دبی ہوئی خواہش تلاش کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی جنس کے نظریے سے اتفاق نہ کرے تو شاید مسئلہ نظریے میں نہیں، اس شخص کی اپنی مزاحمت میں ہو۔ یہ طریق فکری طور پر بہت کارآمد اور مکالمے کے لیے کبھی کبھی مہلک ثابت ہوتا ہے۔ ایسا نظریہ جس کے ذریعے اختلاف کی نفسی وجہ دریافت کی جا سکے، اپنے آپ کو رد کیے جانے سے خاصا محفوظ بنا لیتا ہے۔
لیکن فرائڈ کی تنہائی صرف دوسروں کی مزاحمت کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس کی شخصیت میں ایسا یقین بھی تھا جو آسان مصالحت قبول نہیں کرتا تھا۔ وہ اپنے بنیادی نظریات کو کسی مجلس کی مقبولیت کے لیے نرم کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ اسے علمی تحریک چاہیے تھی، مگر ایسی تحریک جو اپنے مرکز کو اس کی دریافتوں سے الگ نہ کرے۔ ساتھی مطلوب تھے، شریک بانی نسبتاً کم۔
1902 فرائڈ کی زندگی میں ایک عجیب سنگم کی طرح آیا۔ فلیس سے گہری دوستی ختم ہوئی۔ ویانا یونیورسٹی میں اسے نسبتاً نچلے درجے کا پروفیسری منصب ملا، جسے حاصل کرنے کے لیے علمی قابلیت کے علاوہ ذاتی کوششیں بھی درکار ہوئیں۔ جامعہ نے بالآخر دروازہ کھولا، مگر اتنا ہی کہ فرائڈ اندر داخل ہو سکے، تخت پر بیٹھنے کی غلط فہمی نہ پالے۔
اسی برس خزاں میں اس نے ولہلم سٹیکل کے مشورے پر ’’نفسیاتی بدھ کی شامیں‘‘ شروع کیں۔ ابتدا میں نفسی تجزیے میں دل چسپی رکھنے والے صرف چار قریبی احباب اس کے کلینک کے انتظار گاہ میں جمع ہوتے تھے۔ منظر خاصا معنی خیز ہے۔ دن کے وقت جس کمرے میں مریض اپنی باری کا انتظار کرتے تھے، شام کو وہاں ایک نئے علم کے پیروکار دنیا کی نفسی ساخت پر گفتگو کرنے بیٹھ جاتے۔ شاید کرسیاں وہی تھیں، صرف علامات بدل گئی تھیں۔
یہ چھوٹی سی مجلس بعد میں ایک بڑی تحریک کے ابتدائی بیجوں میں شمار ہوئی۔ لیکن اس وقت اس کی صورت کسی عالمی انقلاب سے زیادہ ایسے مطالعہ حلقے کی تھی جس کا بانی اپنے نظریے کے مخالفین سے کہیں زیادہ اپنے ساتھیوں کے سوالوں سے واقف تھا۔ ہر نئی تحریک ابتدا میں نہایت گھریلو معلوم ہوتی ہے۔ چند کرسیاں، کچھ کاغذات، ایک مقرر، دو اختلاف کرنے والے، اور ایک ایسا شخص جو کارروائی لکھنے کو تیار ہو۔ تاریخ بعد میں ان سب پر سنگ مرمر چڑھا دیتی ہے۔
بدھ کی شاموں میں فرائڈ تنہائی سے نکلتا بھی تھا اور اپنی مرکزیت کی نئی صورت بھی قائم کرتا تھا۔ اب وہ صرف الگ تھلگ مصنف نہیں رہا، وہ ایک حلقے کا استاد، میزبان اور فکری محور تھا۔ رفاقت اس کے دروازے تک آ گئی تھی، مگر یہ رفاقت مساوی ذہنوں کی آزاد مجلس سے زیادہ کسی نئے مکتب کی ابتدائی کلاس معلوم ہوتی تھی۔ استاد نے کتاب بھی لکھی تھی، کمرہ بھی اسی کا تھا اور نظریے کی بنیادی لغت بھی۔
رفتہ رفتہ فرائڈ کی شہرت ویانا کی سرحدوں سے باہر جانے لگی۔ اس نے ’’روزمرہ زندگی کی نفسی مرضیات‘‘ میں زبان کی لغزشوں، بھول، غلطیوں اور روزمرہ کے بظاہر بے معنی واقعات کو لاشعور سے جوڑا۔ انسان چابی کہاں رکھ کر بھول گیا، کسی شخص کا نام کیوں یاد نہ آیا، زبان سے غلط لفظ کیوں نکلا—یہ سب معمولی حادثات نہ رہے۔ فرائڈ نے روزمرہ زندگی کو بھی مشتبہ بنا دیا۔ اس کے بعد آدمی غلط نام لے تو معذرت سے کام نہیں چلتا، حاضرین میں کوئی نفسی تجزیے کا شوقین ہو تو پورا بچپن زیر بحث آ سکتا ہے۔
1905 میں اس کی کئی اہم تحریریں سامنے آئیں: ہسٹیریا کے ایک مقدمے کا تجزیہ، مزاح اور لاشعور کا تعلق، اور جنسی نظریے پر تین مضامین۔ آخری کتاب نے اسے علمی شہرت سے زیادہ بدنامی عطا کی۔ بچپن کی جنسیت کے بارے میں اس کے تصورات نے مہذب معاشرے کو خاص طور پر ناراض کیا۔ بچے کو پاکیزگی کی ایسی علامت سمجھا جاتا تھا جس کے پاس جسم تو ہو مگر خواہش نہ ہو۔ فرائڈ نے اس تصویر میں ایسی دراڑ ڈالی جسے لوگ علم سے زیادہ بے ادبی سمجھتے تھے۔
یہاں اس کی شاندار تنہائی مزید گہری ہوگئی۔ وہ جس چیز کو بنیادی سائنسی دریافت سمجھتا تھا، بہت سے لوگ اسے اخلاقی خطرہ سمجھتے تھے۔ فرائڈ کے لیے جنس صرف بالغ انسان کے خفیہ اعمال کا نام نہیں تھی، وہ نفسی توانائی، خواہش اور شخصیت کی تشکیل میں ابتدا ہی سے موجود قوت تھی۔ مخالفین کو اس سے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس شخص نے تہذیب کے ڈرائنگ روم میں آکر قالین اٹھا دیا ہو اور نیچے کی دھول دکھانے پر مصر ہو۔
فرائڈ کے پاس اپنے مخالفین کے بارے میں ایک بڑی سہولت تھی: وہ انہیں غلط سمجھ سکتا تھا۔ مگر اس کے پاس ایک بڑی بے چینی بھی تھی: کہیں اس کی عمر بھر کی محنت کسی محدود ویانوی حلقے کی متنازع سرگرمی بن کر نہ رہ جائے۔ اسے ایسے ادارے، ایسے طبی مراکز اور ایسے باصلاحیت افراد درکار تھے جو اس نظریے کو جغرافیائی اور نسلی حدود سے باہر لے جائیں۔
ویانا کا ابتدائی حلقہ زیادہ تر یہودی اہل علم پر مشتمل تھا۔ یورپ کے یہود مخالف ماحول میں یہ صورت نفسی تجزیے کے مخالفوں کو اسے ’’یہودی علم‘‘ کہہ کر مسترد کرنے کا آسان موقع دیتی تھی۔ فرائڈ کو ایسا غیر یہودی، معتبر، ادارہ جاتی طور پر مضبوط اور ذہین نمائندہ درکار تھا جو تحریک کو وسیع علمی دنیا میں لے جا سکے۔ ابھی اس نے اس شخص کا نام نہیں لیا تھا، مگر اس کی ضرورت پیدا ہو چکی تھی۔
یہیں فرائڈ کی تنہائی ایک خاص نوع کی انتظار گاہ بن جاتی ہے۔ انتظار صرف کسی دوست کا نہیں، جانشین کا ہے۔ ایسا شخص جو اس کے نظریے کو سمجھے، اس کا دفاع کرے، سائنسی ادارے سے وابستہ ہو، نوجوان ہو، باصلاحیت ہو، اور ترجیحاً اتنا آزاد ہو کہ تحریک کو آگے لے جا سکے، مگر اتنا آزاد نہ ہو کہ اس کا رخ ہی بدل دے۔
یہ آخری شرط ہر بانی کی پوشیدہ خواہش ہوتی ہے۔ اسے ایسا وارث چاہیے جو اس کی سلطنت بڑھائے، اس کا آئین دوبارہ نہ لکھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ واقعی باصلاحیت وارث صرف سلطنت نہیں بڑھاتے، وہ نقشہ بھی دیکھتے ہیں، سرحدوں پر سوال بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی دارالحکومت بدلنے کا خیال بھی دل میں لے آتے ہیں۔
فرائڈ کو ابھی معلوم نہ تھا کہ زیورخ میں ایک نوجوان معالج اس کی ’’تعبیرِ خواب‘‘ کو دوسری مرتبہ اٹھا چکا ہے۔ پہلی بار کتاب اس کی سمجھ میں پوری طرح نہ آئی تھی۔ دوسری بار اسے اپنے خیالات کی گونج سنائی دی۔ برگ ہولزلی ہسپتال میں فرائڈ کے کام کا ذکر ہونے لگا تھا۔ بلویلر، ژونگ اور ان کے ساتھی ایسے مریضوں کے ساتھ کام کر رہے تھے جن تک ویانا کی نجی کلینک کی دنیا کم پہنچتی تھی۔
فرائڈ کی شاندار تنہائی میں دور سے ایک دروازہ کھل رہا تھا۔ ابھی دونوں نے ایک دوسرے کو باقاعدہ خط نہیں لکھا تھا، مگر نظریات پہلے ہی سفر شروع کر چکے تھے۔ کتابیں اپنے مصنفوں سے زیادہ بے صبر ہوتی ہیں۔ وہ سرحد، زبان، ادارہ اور ذاتی تعارف کا انتظار نہیں کرتیں۔ ’’تعبیرِ خواب‘‘ ویانا سے نکل کر زیورخ پہنچ چکی تھی اور ایک ایسے قاری کے ہاتھ میں تھی جو پہلے اسے چھوڑ چکا تھا، پھر واپس آیا تھا۔
شاید فرائڈ کو صرف ایسا ہی قاری درکار تھا: جو پہلی قرأت میں اختلاف یا بے فہمی کے باعث کتاب بند کر دے، مگر اس سے مکمل نجات نہ پا سکے۔ عظیم اثر ہمیشہ فوری اطاعت سے پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی کتاب قاری کے ذہن میں ایک کانٹے کی طرح رہ جاتی ہے۔ وہ اسے نکالنے کے لیے دوبارہ کتاب کھولتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ کانٹا اب جڑ بن چکا ہے۔
فرائڈ اپنی تنہائی میں بیٹھا انسانی خوابوں کی زبان لکھ رہا تھا۔ ژونگ ایک ہسپتال میں ان ذہنی بیماریوں کی دنیا سے گزر رہا تھا جن کے بارے میں فرائڈ کا طریق اسے نئی روشنی دیتا تھا۔ دونوں کو ابھی معلوم نہ تھا کہ ان کی ملاقات صرف دو آدمیوں کی ملاقات نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ استاد اور شاگرد، باپ اور بیٹا، بانی اور جانشین، جنس اور اسطورہ، سائنس اور روحانیت، وفاداری اور آزادی بھی ایک ہی کمرے میں داخل ہوں گے۔
مگر ہر المیہ ابتدا میں المیہ معلوم نہیں ہوتا۔ ابتدا میں صرف ایک تنہا آدمی ہے، ایک دور افتادہ قاری، ایک کتاب اور وہ مختصر سا فاصلہ جسے ڈاک کا ایک لفافہ طے کر سکتا ہے۔
ویانا کے مکین نے اپنی تنہائی کو شاندار کہہ کر سنبھال رکھا تھا۔ زیورخ سے آنے والی پہلی دستک کے بعد اسے معلوم ہونا تھا کہ رفاقت تنہائی کا خاتمہ ضرور کرتی ہے، مگر بعض اوقات اس سے زیادہ پیچیدہ مسئلے پیدا کر دیتی ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.