Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تحریر کا خوف

محمد عامر حسینی

تحریر کا خوف

محمد عامر حسینی

MORE BYمحمد عامر حسینی

    انسانی تہذیب کی یادداشت تحریر کے بغیر نامکمل ہے۔ قوانین، مذہبی صحائف، فلسفیانہ متون، شاعری، تاریخ، سائنس اور اجتماعی تجربے کے بیشتر ذخائر تحریر ہی کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں۔ اس کے باوجود مغربی فلسفے کی ایک طویل روایت تحریر کو شک کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے۔ جس شے نے انسانی حافظے کو زمان و مکان کی حدود سے آزاد کیا، اسی کو مردہ، مصنوعی، بیرونی اور ناقابل اعتماد قرار دیا گیا۔ جس نے انسانی آواز کو اس کے بولنے والے کی موت کے بعد بھی باقی رکھا، اسی پر الزام آیا کہ اس میں زندہ آواز کی حرارت، ارادہ اور روح موجود نہیں۔

    یہ تضاد معمولی نہیں۔ فلسفہ تحریر سے فائدہ بھی اٹھاتا رہا اور اس سے خوف زدہ بھی رہا۔ فلسفی اپنے خیالات تحریر میں محفوظ کرتے تھے، لیکن تحریر کو زندہ کلام کی ثانوی نقل سمجھتے تھے۔ گویا تحریر ضروری تو تھی، مگر اسے اصل کا مرتبہ نہیں دیا جاسکتا تھا۔ وہ علم کی محافظ تھی، لیکن علم کا حقیقی سرچشمہ نہیں۔ وہ کلام کو دور تک پہنچاتی تھی، لیکن خود کلام نہیں تھی۔ وہ یادداشت کو محفوظ کرتی تھی، لیکن اسے زندہ حافظے کا بدل سمجھنا خطرناک تھا۔

    تحریر کے خلاف اس قدیم بدگمانی کی سب سے معروف صورت افلاطون کے مکالمے فیڈرس میں سامنے آتی ہے۔ اس مکالمے میں تحریر کو حافظے کی دوا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن بادشاہ تھاموس اسے حقیقی حافظے کا علاج تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ اس کے نزدیک تحریر انسانوں کو یاد رکھنے کے بجائے بیرونی نشانات پر انحصار کرنا سکھائے گی۔ لوگ علم کے حامل دکھائی دیں گے، مگر ان کے پاس علم کی زندہ باطنی کیفیت نہیں ہوگی۔ وہ بہت کچھ پڑھ چکے ہوں گے، لیکن ضروری نہیں کہ انھوں نے اسے سمجھا بھی ہو۔

    افلاطون کے ہاں تحریر کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ حافظے کو کمزور کرسکتی ہے۔ زیادہ بنیادی اعتراض یہ ہے کہ لکھی ہوئی عبارت اپنے لکھنے والے سے جدا ہوجاتی ہے۔ اگر اس سے سوال کیا جائے تو وہ ہر مرتبہ وہی الفاظ دہراتی ہے۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ کس شخص سے بات کرنی ہے اور کس سے خاموش رہنا ہے۔ وہ اپنے معنی کا دفاع نہیں کرسکتی، غلط تعبیر کی اصلاح نہیں کرسکتی اور اپنے قاری کو یہ نہیں بتاسکتی کہ اسے کس سیاق میں پڑھا جانا چاہیے۔

    بولنے والا شخص اپنی بات کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ وہ سوال کا جواب دے سکتا ہے، وضاحت کرسکتا ہے، لہجہ بدل سکتا ہے اور مخاطب کی استعداد کو دیکھ کر اپنے کلام کی صورت تبدیل کرسکتا ہے۔ تحریر میں یہ زندہ جواب دہی موجود نہیں ہوتی۔ ایک مرتبہ لکھے جانے کے بعد عبارت ایسے لوگوں کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے جن کے لیے اسے لکھا ہی نہیں گیا تھا۔ وہ اپنے باپ، یعنی مصنف، کی حفاظت سے محروم ہوجاتی ہے۔ افلاطون کے استعارے میں تحریر ایک ایسے بچے کی مانند ہے جو دنیا میں آ تو گیا ہے، مگر اپنی مدافعت کے لیے اپنے خالق کو پکارنے پر مجبور ہے۔

    یہاں تحریر ایک غیاب کا نام بن جاتی ہے۔ عبارت موجود ہے، لیکن اسے لکھنے والا موجود نہیں۔ الفاظ سامنے ہیں، لیکن وہ آواز غائب ہے جس نے انھیں ادا کیا تھا۔ نشان باقی ہے، مگر اس نشان کی اصل نیت تک فوری رسائی ممکن نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تحریر فلسفے کے لیے خطرناک ہوجاتی ہے۔ وہ معنی کو اس شخص سے جدا کردیتی ہے جسے معنی کا مالک سمجھا جاتا تھا۔

    ارسطو نے تحریر کو افلاطون کی طرح یکسر مشکوک قرار نہیں دیا، لیکن اس کے ہاں بھی زبان کی ایک ایسی درجہ بندی ملتی ہے جس میں تحریر کو ثانوی مقام حاصل ہوتا ہے۔ ارسطو کے مطابق بولی ہوئی آوازیں ذہنی تاثرات یا تصورات کی علامت ہیں، جبکہ تحریری نشانات بولی ہوئی آوازوں کی علامت ہوتے ہیں۔ اس ترتیب میں خارجی اشیا ذہن میں تصورات پیدا کرتی ہیں، تصورات صوتی زبان میں ظاہر ہوتے ہیں، اور صوتی زبان بعد میں تحریر کی صورت اختیار کرتی ہے۔

    اس ترتیب کو غور سے دیکھا جائے تو تحریر معنی سے دو مرتبہ فاصلے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ وہ براہ راست ذہنی تصور کی علامت نہیں، بلکہ اس آواز کی علامت ہے جو خود ذہنی تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔ تحریر یوں نقل کی نقل بن جاتی ہے۔ اصل حقیقت سے اس کا تعلق براہ راست نہیں رہتا۔ وہ ایک بیرونی لباس ہے جسے زبان اپنے بدن پر پہن لیتی ہے، لیکن یہ لباس زبان کا زندہ جسم نہیں سمجھا جاتا۔

    یہ درجہ بندی محض لسانی نہیں تھی۔ اس کے پیچھے ایک پورا فلسفیانہ تصور کام کررہا تھا۔ آواز کو انسان کے اندر سے نکلنے والی شے سمجھا گیا۔ وہ سانس، بدن، شعور اور ارادے سے جڑی ہوئی تھی۔ بولنے والا اپنی آواز سنتا بھی ہے اور اسی لمحے یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا مفہوم اس کے سامنے حاضر ہے۔ تحریر اس کے برعکس باہر موجود ہوتی ہے۔ وہ کاغذ، پتھر، تختی یا کسی اور مادی سطح پر ثبت ہوتی ہے۔ اس لیے اسے روح کے مقابل بدن، باطن کے مقابل ظاہر اور اصل کے مقابل نقل کی طرف رکھا گیا۔

    قرون وسطیٰ کے مذہبی فلسفے میں تحریر کو ایک غیر معمولی تقدس حاصل ہوا، کیونکہ مقدس کتابیں مذہبی زندگی اور اجتماعی حافظے کی بنیاد تھیں۔ اس کے باوجود بنیادی امتیاز پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ الٰہی کلام کو اصل سمجھا گیا، جبکہ لکھا ہوا صحیفہ اس کلام کی ظاہری اور محفوظ صورت قرار پایا۔ تحریر مقدس تھی، مگر اس کا تقدس اس کلام سے اخذ کیا جاتا تھا جسے اس نے محفوظ کیا تھا۔ وہ سرچشمہ نہیں، سرچشمے کی حامل تھی۔

    یہاں ایک عجیب صورت پیدا ہوتی ہے۔ مذہبی روایت تحریر کے بغیر اپنی تعلیم، قانون، عبادت اور تاریخ محفوظ نہیں رکھ سکتی، لیکن وہ تحریر کو خود مختار بھی نہیں ہونے دیتی۔ تحریر کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ اپنے بل پر معنی پیدا کرتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کسی پہلے سے موجود، برتر اور زندہ کلام کو محفوظ رکھتی ہے۔ یوں تحریر بلند بھی ہوتی ہے اور تابع بھی رہتی ہے۔

    نشاۃ ثانیہ، روشن خیالی اور جدید سائنس کے عہد میں تحریر کی عملی اہمیت بے حد بڑھ گئی۔ کتابیں، انسائیکلوپیڈیائیں، سائنسی رپورٹیں، قانونی مجموعے، اخبارات اور تعلیمی ادارے تحریر کے وسیع نظام کے بغیر ممکن نہ تھے۔ علم کو منظم کرنے، منتقل کرنے اور نسلوں تک محفوظ رکھنے میں تحریر کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوگیا۔ اس کے باوجود زبان کے فلسفیانہ تصور میں تحریر کو اکثر بولی ہوئی زبان کی خدمت گار سمجھا جاتا رہا۔

    انیسویں صدی میں لسانیات ایک باقاعدہ علم کی صورت میں سامنے آئی تو زبان کو زندہ انسانی سرگرمی کے طور پر سمجھنے کا رجحان مضبوط ہوا۔ ولہلم فان ہمبولٹ نے زبان کو محض تیار شدہ شے کے بجائے مسلسل پیدا ہونے والی قوت اور عمل قرار دیا۔ زبان انسان کی زندہ تخلیقی سرگرمی تھی۔ اس تصور میں بھی صوتی زبان کو ایک خاص امتیاز حاصل رہا، کیونکہ زندہ زبان وہ تھی جو بولنے والوں کے درمیان عمل میں آتی تھی۔ تحریری متن اس زندہ حرکت کا محفوظ نقش تو ہوسکتا تھا، خود وہ حرکت نہیں۔

    تقابلی لسانیات نے قدیم زبانوں اور ان کی تاریخی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا، لیکن اس نے بھی تحریری متون کو اکثر اس بولی ہوئی زبان تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا جو براہ راست محفوظ نہیں رہ سکی تھی۔ قدیم نسخے قیمتی تھے، مگر ان کی قدر اس لیے تھی کہ ان کے ذریعے کسی گم شدہ صوتی زبان کی تشکیل نو کی جاسکتی تھی۔ تحریر یہاں بھی منزل نہیں، کسی دوسری حقیقت تک پہنچنے کا وسیلہ تھی۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں فرڈینان ڈی سوسئیر نے زبان کو نشانات کے ایک منظم نظام کے طور پر سمجھنے کی بنیاد فراہم کی۔ اس تبدیلی نے جدید لسانیات اور ساختیات پر گہرا اثر ڈالا۔ سوسئیر نے دکھایا کہ زبان میں کسی لفظ کا معنی اس کی فطری ماہیت سے نہیں، بلکہ دوسرے الفاظ سے اس کے اختلافی رشتوں سے پیدا ہوتا ہے۔ اس اہم انقلاب کے باوجود تحریر کے بارے میں اس کا رویہ بڑی حد تک روایتی رہا۔

    سوسئیر کے نزدیک زبان اور تحریر دو مختلف نشانی نظام ہیں، مگر تحریر کا بنیادی مقصد بولی ہوئی زبان کی نمائندگی کرنا ہے۔ اس کے مطابق لسانیات کا حقیقی موضوع بولی ہوئی زبان ہے، نہ کہ اس کی تحریری صورت۔ تحریر کو زیادہ اہمیت دینا زبان کی حقیقی ساخت پر پردہ ڈال سکتا ہے۔ لکھا ہوا لفظ اپنی بصری پائیداری کے باعث قاری پر ایسا اثر ڈالتا ہے جیسے وہ بولی ہوئی زبان سے زیادہ حقیقی ہو، حالاں کہ سوسئیر کے نزدیک یہ ایک فریب ہے۔

    سوسئیر کو خدشہ تھا کہ تحریر زبان کی خادم رہنے کے بجائے اس پر حاکم بن سکتی ہے۔ املا، حروف اور لکھے ہوئے الفاظ زبان کی اصل صوتی حرکت کو چھپا سکتے ہیں۔ لوگ زبان کو اس طرح سمجھنے لگتے ہیں جیسے وہ بنیادی طور پر لکھی ہوئی نشانیوں کا نظام ہو۔ سوسئیر کے لیے یہ صورت ایک طرح کی غاصبانہ مداخلت تھی، کیونکہ نمائندگی کرنے والا نظام اس شے کی جگہ لینے لگتا ہے جس کی نمائندگی کے لیے اسے بنایا گیا تھا۔

    یہاں فلسفیانہ روایت کی پرانی بے چینی ایک نئی علمی زبان میں واپس آتی ہے۔ تحریر سے خوف اس لیے نہیں کہ وہ ناکام ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ضرورت سے زیادہ کامیاب ہوسکتی ہے۔ وہ جس آواز کو محفوظ کرتی ہے، اسی کی جگہ لے سکتی ہے۔ جو وسیلہ ہونا چاہیے تھا، وہ منزل بن سکتا ہے۔ جو نقل سمجھی جاتی تھی، وہ اصل سے زیادہ پائیدار اور موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ تحریر کا خطرہ اس کی کمزوری نہیں، اس کی قوت ہے۔

    سوسئیر کے بعد ساختیات نے زبان، اسطورہ، ادب اور ثقافت کو نشانات کے نظام کے طور پر پڑھا۔ رومان یاکوبسن، کلود لیوی اسٹراس، رولان بارت اور دوسرے مفکرین نے ساختی رشتوں کو انفرادی ارادے پر فوقیت دی۔ اس کے باوجود صوت اور تحریر کی قدیم درجہ بندی پوری طرح ختم نہ ہوئی۔ تحریر کو اب بھی اکثر بولی ہوئی زبان کی بصری صورت یا اس کی نمائندہ پرت سمجھا گیا۔ نشان کا تصور بدل رہا تھا، مگر تحریر کا مرتبہ بڑی حد تک وہی رہا۔

    ژاک دریدا اسی مقام پر مغربی فلسفے اور جدید لسانیات سے سوال کرتا ہے۔ وہ صرف یہ نہیں پوچھتا کہ تحریر کو کمتر کیوں سمجھا گیا۔ اس کا سوال زیادہ گہرا ہے: وہ کون سا تصوراتی نظام ہے جو آواز کو اصل، حاضر، زندہ اور خود کفیل قرار دیتا ہے، جبکہ تحریر کو نقل، غیاب، فاصلہ اور زوال سے جوڑتا ہے؟

    دریدا اس نظام کو لوگوس مرکزیت اور صوت مرکزیت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ لوگوس مرکزیت اس یقین کا نام ہے کہ معنی کے پیچھے کوئی آخری اصل، مرکز، کلام یا خود حاضر حقیقت موجود ہے۔ صوت مرکزیت اس یقین کی لسانی صورت ہے۔ اس میں آواز کو معنی کے سب سے قریب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بولنے والا اپنی آواز کے ساتھ حاضر دکھائی دیتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ کہنا چاہتا ہے، وہ اسی لمحے اس کی آواز میں موجود ہے۔

    تحریر اس خواب کو پریشان کرتی ہے۔ وہ دکھاتی ہے کہ نشان اپنے پیدا کرنے والے سے الگ ہوسکتا ہے۔ وہ نئے سیاق میں داخل ہوسکتا ہے۔ وہ ایسے شخص تک پہنچ سکتا ہے جسے مصنف نہیں جانتا۔ اس کا مفہوم مصنف کی نیت سے زیادہ، کم یا مختلف ہوسکتا ہے۔ لیکن دریدا کا فیصلہ یہ نہیں کہ تحریر کو صوت کی جگہ نیا مرکز بنا دیا جائے۔ وہ صرف روایتی درجہ بندی کو الٹ کر محکوم کو حاکم نہیں بناتا۔

    اس کی بنیادی بصیرت یہ ہے کہ جن خصوصیات کو فلسفے نے صرف تحریر سے وابستہ کیا تھا، وہ کسی نہ کسی صورت میں بولی ہوئی زبان کے اندر بھی کام کرتی ہیں۔ آواز بھی قابل تکرار ہے۔ ایک ہی لفظ مختلف موقعوں پر بولا جاسکتا ہے۔ ہر تکرار نئے سیاق میں ہوتی ہے۔ بولنے والا بھی اپنے الفاظ کے تمام ممکنہ مفاہیم پر اختیار نہیں رکھتا۔ گفتگو میں بھی غلط فہمی، فاصلہ، غیاب اور معنی کا التوا موجود ہوتا ہے۔

    یہیں سے تحریر کا مفہوم رسم الخط کی حدود سے باہر نکلنے لگتا ہے۔ تحریر اب صرف کاغذ پر ثبت حروف نہیں رہتی۔ وہ نشان کی وہ عمومی ساخت بننے لگتی ہے جس میں معنی کبھی مکمل طور پر اپنے اندر بند نہیں ہوتا۔ ہر نشان دوسرے نشان کی طرف بھیجتا ہے۔ ہر موجود معنی میں کسی غیر حاضر نسبت کا نقش شامل رہتا ہے۔ معنی بنتا ہے، مگر اسی وقت کسی آئندہ قرأت، نئے سیاق اور مزید فرق کے لیے کھلا بھی رہتا ہے۔ دریدا اسی حرکت کو زیرِ التواء فرق (ڈیفرانس) کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

    اس مقام پر تحریر کے خلاف صدیوں پرانی بدگمانی کا ایک دوسرا مفہوم سامنے آتا ہے۔ فلسفہ تحریر سے اس لیے خوف زدہ نہیں تھا کہ وہ محض مردہ اور بے جان ہے۔ وہ اس لیے بھی خوف زدہ تھا کہ تحریر معنی کو کسی ایک آواز، ایک ارادے، ایک لمحے اور ایک مرکز کی ملکیت نہیں رہنے دیتی۔ تحریر جہاں جاتی ہے، وہاں معنی کے ساتھ غیریت، فاصلہ اور امکان بھی لے جاتی ہے۔

    مغربی فلسفے نے تحریر کو حاشیے پر رکھا، کیونکہ اسے مرکز کی حفاظت مطلوب تھی۔ لیکن حاشیے پر رکھی ہوئی یہی تحریر ظاہر کرتی ہے کہ مرکز کبھی اتنا خود کفیل نہیں تھا جتنا اسے سمجھا گیا۔ زندہ آواز بھی تکرار، فرق اور فاصلے کے بغیر معنی پیدا نہیں کرسکتی۔ اصل بھی اس چیز کی محتاج ہے جسے وہ اپنی نقل کہتی ہے۔

    تحریر کا خوف، آخرکار، کسی بیرونی وسیلے کا خوف نہیں۔ یہ اس امکان کا خوف ہے کہ معنی اپنے سرچشمے کے قابو میں نہ رہے، لفظ اپنے بولنے والے سے آگے نکل جائے، نشان اس مقام پر بھی کام کرتا رہے جہاں اس کا خالق موجود نہ ہو اور یہ کہ جس حضور کو فلسفے نے ابتدا سمجھا تھا، اس کے اندر پہلے ہی کسی غیر حاضر دوسرے کا نقش موجود ہو۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے