- کتاب فہرست 179643
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
آفتاب احمد آفاقی کا تعارف
پروفیسر آفتاب احمد آفاقی (پ:10 ؍جنوری 1965ئ) کاآبائی وطن کبرا خرد،موجودہ جھارکھنڈ ہے ۔نانھال اور دادیہال کی علمی فضا میں پرورش و پرداخت ہوئی۔گاؤں کے اردو میڈل اسکول میں ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ان کی ذہنی و فکری تربیت میں نانا،والدہ اوراردو، فارسی ، عربی اور انگریزی کے جید عالم استادگرامی مولوی شرف الدین صاحب کا کردار کلیدی رہا ۔جنھوں نے بچپن میں ہی اردو بحیثیتِ مادری زبان کی اہمیت بتائی تھی اور اس کے علمی ،ادبی ، تہذیبی نیز مذہبی سرمائے سے واقف کرایا تھا۔ گھر میں اردو کا چلن تھا داستان ’امیر حمزہ‘ بپچپن میں پڑھ لی تھی ۔اس کے علاوہ راشدالخیری کی تصانیف موصوف کے مطالعے میں رہیں۔ بچپن میں بچوں کا رسالہ ’غنچہ ‘ اور’ مدینہ‘ اخبار پابندی سے پڑھتے۔ انھوں نے ثانوی درجہ تک تعلیم رحمانیہ ہائی اسکول ،تارا پلاموں سے پاس کیا۔بی اے ،ایم اے اور پی ایچ ڈی تک کی تعلیم رانچی یونیورسٹی رانچی سے حاصل کی ،جہاں انھیں ممتاز اساتذہ کی شاگردی نصیب ہوئی ان میں پروفیسر وہاب اشرفی، پروفیسر ش ۔اختر ،پروفیسر ابوذرعثمانی، پروفیسر احمد سجاد ، پروفیسر سمیع الحق ،پروفیسر صدیق مجیبی کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔
اسی درمیان اسٹاف سلیکشن کمیشن ،نئی دہلی کے زیرِ اہتمام کمپٹیشن میں کامیاب ہوگئے اور دہلی کارپوریشن کے اسکول میں1993ء میں بحیثیتِ اردو ٹیچر تقرری عمل میں آگئی اور تقریباً بارہ برس تک وہیں قیام رہا۔وہاں کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں براہِ راست شمولیت ہوئی۔سیمینار،مذاکرے کا حصہ بننے لگے۔بڑی شخصیتوں سے ملاقاتیں،تبادلۂ خیال کا موقع میسر آیا، بالخصوص پروفیسرقمر رئیس مرحوم انھیں بے حد عزیز رکھتے تھے۔ خلیق انجم صاحب نے ادبی کاموں کو سراہا،تنویر احمد علوی سے قربت اور پروفیسر عبدالحق ،پروفیسر عتیق اللہ کی شاگردی نصیب ہوئی توساتھ ہی رشید حسن خاں اورتنویر احمد علوی جیسے بلند پایا محققین سے براہِ راست سیکھنے کا موقع ملا۔ دہلی یونیورسٹی میں بحیثیت رسرچ ایسوسی ایٹ بھی وابستہ ہوئے اور درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا۔
2003 ء میں شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی میں بحیثیت لکچرر تقرر ہوا اور ترقی کرتے ہوئے 2018 میںپروفیسر اور صدر شعبہ اردو ہوئے اور تا حال بطور صدر شعبہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی ادارت میں ششماہی ریسرچ جرنل ’’دستک‘‘ بڑی پابندی سے شایع ہورہا ہے ۔اب تک پندرہ خصوصی شمارے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں ۔یہ ادبی رسالہ اپنے معیار اور موضوعات کے اعتبار سے قومی و بین الاقوامی سطح پرحوالہ جاتی مجلے کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکا ہے۔ متعدد قومی و بین الاقوامی سیمینار، ویبنار، ورک شاپ اور مذاکرے کے اہتمام کے ساتھ شعبہ اردو کو ایک وسیع جگہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ پروفیسر آفاقی کا شمار اردو ادب کے سنجیدہ قلم کاروں میں ہوتا ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین، موقر رسائل جرائد میں شائع ہو تے رہے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں ’ مولود شریف حالی : تعارف و تحشیہ ‘ (جنوری2001ئ)، ’کلاسیکی نثر کے اسالیب‘ ایڈیشن( 2003اور 2010ئ)،’محمد علی جوہر: شخص اور شاعر‘(2004 )،’معنی شناسی‘ (2007ئ)، ’شکست کی آواز :نئے اطراف کی طرف‘ (2015ئ)،’قاضی عبدالودو : مونوگراف‘(قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، 2016ئ)،’مضامینِ چکبست: ترتیب و تالیف ‘(قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،2016ئ)،’ اردو ہندی محاورے‘ (2018ئ)، ’سلام مچھلی شہری: مونو گراف‘ ( ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی،2022ئ)،’امداد امام اثر : مونو گراف‘( اردو ڈائرکٹریٹ، پٹنہ، 2023ئ)،فن کار سے فن تک( ایجوکیشنل پبلی کیشن ہاؤس، نئی دہلی2024ئ)وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ ’ اردو نثر میں حالی کے کارنامے‘، ’تاریخِ تحقیق و تدوین‘،’اردو ہندی کی ساجھی وراثت ( ہندی)‘، ’تذکرۂ شاعراتِ اردو‘ زیرِ طبع تصانیف ہیں۔یہ ایک درجن سے زائد مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں کے بورڈ آف اسٹڈیز کے ممبرہیں۔ انھیں مختلف ادبی کارناموں کے لیے مختلف اداروں سے اعزاز و اکرام سے بھی نوازا جا چکا ہے ان میں اتر پردیش اردو اکادمی ، بہار اردو اکادمی ، دہلی اردو اکیڈمی بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
