- کتاب فہرست 182641
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3305طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1715 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4332 سیاسی355 مذہبیات4775 تحقیق و تنقید6629افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2041نصابی کتاب451 ترجمہ4263خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1286
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4888
- مرثیہ387
- مثنوی749
- مسدس44
- نعت587
- نظم1215
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عبدالقادر سروری کا تعارف
اصلی نام : عبدالقادر
پیدائش : 19 Aug 1906 | حیدر آباد, تلنگانہ
وفات : 11 Mar 1971 | سری نگر, جموں و کشمیر
شناخت: اردو کے ممتاز محقق، نقاد، ماہرِ دکنیات، مخطوطہ شناس
عبد القادر سروری 19 اگست 1906ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حاجی محمد سرور خزانہ عامرہ میں ملازم تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مولوی محمد جعفری سے حاصل کی اور جامعہ عثمانیہ سے 1927ء میں ایم اے اور 1929ء میں ایل ایل بی کیا۔ دورانِ تعلیم ان کو وحید الدین سلیم پانی پتی اور مولوی عبد الحق جیسے جلیل القدر اساتذہ سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔
ان کا تدریسی کیریئر وحید الدین سلیم کی سفارش پر جامعہ عثمانیہ میں بحیثیت لکچرار شروع ہوا۔ 1942ء میں وہ میسور یونیورسٹی میں پروفیسر اور صدرِ شعبہ اردو مقرر ہوئے۔ 1948ء میں دوبارہ حیدرآباد واپس آئے اور جامعہ عثمانیہ کے صدرِ شعبہ اردو کی حیثیت سے 1961ء میں سبکدوش ہوئے۔ اپنی وفات سے قبل وہ سری نگر (کشمیر) میں پوسٹ گریجویٹ شعبہ اردو سے بھی وابستہ رہے۔
عبد القادر سروری کا علمی کام متنوع اور ہمہ گیر ہے: ان کو اردو فکشن کے ابتدائی اور اہم نقادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی کتاب "دنیائے افسانہ" (1929ء) اس موضوع پر بنیادی حوالہ ہے۔ انہوں نے چینی، جاپانی، انگریزی اور فرانسیسی افسانوں کو اردو میں منتقل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی تصنیف "جدید اردو شاعری" (1932ء) کو مالک رام نے حالی کے 'مقدمہ شعر و شاعری' کا تتمہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ "اردو مثنوی کا ارتقا" اور "اردو کی ادبی تاریخ" اہم کتابیں ہیں۔
انہوں نے قدیم دکنی ادب کی بحالی کے لیے گراں قدر کام کیا۔ ابن نشاطی کی 'پھول بن' اور صنعتی کی 'قصہ بے نظیر' کو مرتب کر کے شائع کیا۔ سراج اورنگ آبادی کی شاعری پر بھی انہوں نے تحقیقی کام کیا۔
وہ ڈاکٹر محی الدین قادری زور کے ساتھ مل کر 'ادارہ ادبیاتِ اردو' (حیدرآباد) کے بانیوں میں شامل تھے۔ اس ادارے نے اردو تحقیق اور قدیم مخطوطات کی اشاعت میں تاریخی کردار ادا کیا۔
وفات: 9 مارچ 1970ء میں سری نگر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://www.dawn.com/news/1539630
join rekhta family!
-
کارگزاریاں88
ادب اطفال1990
-
