- کتاب فہرست 177272
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6602افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5833-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عبدالقوی دسنوی کا تعارف
اصلی نام : سید عبدالقوی
پیدائش : 01 Nov 1930 | نالندہ, بہار
وفات : 07 Jul 2011 | بھوپال, مدھیہ پردیش
شناخت: نامور اردو ادیب، استاد، نقاد، محقق
پروفیسر عبدالقوی دسنوی یکم نومبر 1930ء کو بہار کے ضلع نالندہ کے مشہور گاؤں 'دسنہ' کے ایک معزز علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ نامور مؤرخ اور سیرت نگار علامہ سید سلیمان ندوی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد سید محمد سعید رضا سینٹ زیوئرز کالج، ممبئی میں اردو، عربی اور فارسی کے پروفیسر تھے۔ دسنوی صاحب نے ابتدائی تعلیم بہار میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم (بی اے اور ایم اے) سینٹ زیوئرز کالج، ممبئی سے مکمل کی۔ ان کی پوری علمی زندگی اردو ادب کی ترویج اور تحقیق کے لیے وقف رہی۔ وہ فروری 1961ء میں سیفیہ پوسٹ گریجویٹ کالج، بھوپال کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوئے اور طویل عرصے تک اس کے صدر رہے۔ ان کی نگرانی میں درجنوں طلبہ نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور آج اردو دنیا کے کئی نامور شعراء اور ادباء ان کے شاگردوں میں شامل ہیں۔
اردو ادب میں عبدالقوی دسنوی کی پہچان ایک مستند محقق اور ماہرِ کتابیات کے طور پر ہے۔ انہوں نے اردو ادب کے تین ستونوں یعنی مرزا غالب، علامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد پر غیر معمولی تحقیقی کام کیا۔ ان کی 50 سے زائد تصانیف منظرِ عام پر آئیں، جن میں 'بھوپال اور غالب'، 'تلاشِ آزاد'، 'حیاتِ ابوالکلام آزاد'، 'مطالعہ خطوطِ غالب' اور 'اقبالیات کی تلاش' جیسی کتب اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے غالب کے 'نسخہ بھوپال' پر بھی اہم کام کیا۔ ان کی علمی قد و قامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اندرا گاندھی، ڈاکٹر شنکر دیال شرما، ڈاکٹر ذاکر حسین، مولوی عبدالحق، کرشن چندر اور کیفی اعظمی جیسی قد آور شخصیات ان سے خط و کتابت رکھتی تھیں۔
دسنوی نے کئی اہم انتظامی عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں، جن میں سیکرٹری مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس (برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال) اور ممبر مجلسِ عام انجمن ترقی اردو (ہند) شامل ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں یکم نومبر 2017ء کو گوگل نے ان کی 87 ویں سالگرہ پر ایک خصوصی 'گوگل ڈوڈل' (Google Doodle) جاری کر کے ان کو خراجِ عقیدت پیش کی۔ انہوں نے بھوپال کو اپنی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور وہیں سے اردو تحقیق کے نئے دریچے کھولے۔
وفات: 7 جولائی 2011ء کو بھوپال میں انتقال ہوا اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Abdul_Qavi_Desnavi
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
