- کتاب فہرست 180318
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1678 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4761 تحقیق و تنقید6488افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4196خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
عبد السلام ندوی کا تعارف
شناخت: ممتاز محقق، مؤرخ، ادیب اور تلمیذِ شبلی
مولانا عبدالسلام ندوی اردو دنیا کے اُن جلیل القدر علما اور مصنفین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ، سیرت، ادب اور تراجم کے میدان میں گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اولین فضلا میں سے تھے، علامہ شبلی نعمانی کے چہیتے شاگرد اور دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے بانیان اراکین میں شامل تھے۔
مولانا عبدالسلام ندوی 16 فروری 1883ء کو اعظم گڑھ کے گاؤں علاء الدین پٹی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ دین محمد فارسی، ہندی اور قدیم حساب کے ماہر اور دینی علوم سے واقف تھے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی، پھر عربی تعلیم کے لیے کانپور، آگرہ اور غازی پور گئے۔ 1906ء میں 23 برس کی عمر میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا۔ 1910ء میں فراغت کے بعد وہیں عربی ادب کے استاد مقرر ہوئے۔
زمانۂ طالب علمی ہی سے لکھنے پڑھنے کا ذوق تھا۔ 1906ء میں تناسخ پر لکھا گیا ان کا مضمون علامہ شبلی نعمانی کو اس قدر پسند آیا کہ بغیر اصلاح رسالہ “الندوہ” میں شائع کیا اور انعام بھی دیا۔ بعد ازاں “الندوہ” کی ادارت سے بھی وابستہ رہے۔ علامہ شبلی نے سیرت النبی کی تالیف کے دوران انہیں اپنا معاون بنایا۔
1912ء میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ کلکتہ جا کر اخبار “الہلال” سے وابستہ ہوئے۔ 1914ء میں الہلال کی بندش اور شبلی نعمانی کی وفات کے بعد دارالمصنفین شبلی اکیڈمی سے وابستہ ہوگئے اور تاحیات وہیں علمی و تصنیفی خدمات انجام دیتے رہے۔ سید سلیمان ندوی کے ساتھ مل کر ادارے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
وہ نہایت سادہ مزاج، گوشہ نشین اور شہرت سے بے نیاز تھے۔ زندگی بھر تصنیف و تحقیق میں مصروف رہے۔ سیاست، عہدوں اور مادی منفعت سے دور رہے۔ ان کا ظاہر و باطن ایک تھا اور حقوق العباد کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے۔
ان کی تصانیف تاریخ، ادب اور تراجم پر مشتمل ہیں۔ اسوۂ صحابہ (2 جلدیں)، اسوۂ صحابیات، سیرت عمر بن عبدالعزیز، حکمائے اسلام، تاریخ اخلاق اسلام، امام رازی، شعر الہند (2 جلدیں)، اقبال کامل، تاریخ فقہ اسلامی (ترجمہ)، ابن خلدون (ترجمہ)، انقلاب الامم، القضاء فی الاسلام، اسلامی قانون فوجداری، تاریخ الحرمین الشریفین، شعر العرب وغیرہ شامل ہیں۔
خاص طور پر اسوۂ صحابہ کو اس لیے تاریخی اہمیت حاصل ہے کہ یہ اردو میں اپنے موضوع کی اولین مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اقبال کامل کی بنا پر انہیں ابتدائی ماہرینِ اقبالیات میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
ان کی نثر علمی گہرائی، سادگی اور ادبی چاشنی کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے اپنے استاد شبلی نعمانی کے علمی منصوبوں کی تکمیل اور توسیع میں نمایاں کردار ادا کیا۔
وفات: 4 اکتوبر 1955ء کو میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Abdul_Salam_Nadwi
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84230663
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
