Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abdussalam Nadvi's Photo'

عبد السلام ندوی

1883 - 1956 | اعظم گڑہ, انڈیا

دبستان شبلی کے نامور محقق، مؤرخ اور سوانح نگار

دبستان شبلی کے نامور محقق، مؤرخ اور سوانح نگار

عبد السلام ندوی کا تعارف

اصلی نام : عبدالسلام

پیدائش : 16 Feb 1883 | اعظم گڑہ, اتر پردیش

وفات : 04 Oct 1956 | اعظم گڑہ, اتر پردیش

LCCN :n84230663

شناخت: ممتاز محقق، مؤرخ، ادیب اور تلمیذِ شبلی

مولانا عبدالسلام ندوی اردو دنیا کے اُن جلیل القدر علما اور مصنفین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ، سیرت، ادب اور تراجم کے میدان میں گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اولین فضلا میں سے تھے، علامہ شبلی نعمانی کے چہیتے شاگرد اور دارالمصنفین شبلی اکیڈمی کے بانیان اراکین میں شامل تھے۔

مولانا عبدالسلام ندوی 16 فروری 1883ء کو اعظم گڑھ کے گاؤں علاء الدین پٹی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ دین محمد فارسی، ہندی اور قدیم حساب کے ماہر اور دینی علوم سے واقف تھے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی، پھر عربی تعلیم کے لیے کانپور، آگرہ اور غازی پور گئے۔ 1906ء میں 23 برس کی عمر میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا۔ 1910ء میں فراغت کے بعد وہیں عربی ادب کے استاد مقرر ہوئے۔

زمانۂ طالب علمی ہی سے لکھنے پڑھنے کا ذوق تھا۔ 1906ء میں تناسخ پر لکھا گیا ان کا مضمون علامہ شبلی نعمانی کو اس قدر پسند آیا کہ بغیر اصلاح رسالہ “الندوہ” میں شائع کیا اور انعام بھی دیا۔ بعد ازاں “الندوہ” کی ادارت سے بھی وابستہ رہے۔ علامہ شبلی نے سیرت النبی کی تالیف کے دوران انہیں اپنا معاون بنایا۔

1912ء میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ کلکتہ جا کر اخبار “الہلال” سے وابستہ ہوئے۔ 1914ء میں الہلال کی بندش اور شبلی نعمانی کی وفات کے بعد دارالمصنفین شبلی اکیڈمی سے وابستہ ہوگئے اور تاحیات وہیں علمی و تصنیفی خدمات انجام دیتے رہے۔ سید سلیمان ندوی کے ساتھ مل کر ادارے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔

وہ نہایت سادہ مزاج، گوشہ نشین اور شہرت سے بے نیاز تھے۔ زندگی بھر تصنیف و تحقیق میں مصروف رہے۔ سیاست، عہدوں اور مادی منفعت سے دور رہے۔ ان کا ظاہر و باطن ایک تھا اور حقوق العباد کے معاملے میں انتہائی محتاط تھے۔

ان کی تصانیف تاریخ، ادب اور تراجم پر مشتمل ہیں۔ اسوۂ صحابہ (2 جلدیں)، اسوۂ صحابیات، سیرت عمر بن عبدالعزیز، حکمائے اسلام، تاریخ اخلاق اسلام، امام رازی، شعر الہند (2 جلدیں)، اقبال کامل، تاریخ فقہ اسلامی (ترجمہ)، ابن خلدون (ترجمہ)، انقلاب الامم، القضاء فی الاسلام، اسلامی قانون فوجداری، تاریخ الحرمین الشریفین، شعر العرب وغیرہ شامل ہیں۔

خاص طور پر اسوۂ صحابہ کو اس لیے تاریخی اہمیت حاصل ہے کہ یہ اردو میں اپنے موضوع کی اولین مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اقبال کامل کی بنا پر انہیں ابتدائی ماہرینِ اقبالیات میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

ان کی نثر علمی گہرائی، سادگی اور ادبی چاشنی کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے اپنے استاد شبلی نعمانی کے علمی منصوبوں کی تکمیل اور توسیع میں نمایاں کردار ادا کیا۔

وفات: 4 اکتوبر 1955ء کو میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے