- کتاب فہرست 187940
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں54
ادب اطفال2067
ڈرامہ1025 تعلیم376 مضامين و خاكه1511 قصہ / داستان1707 صحت106 تاریخ3553طنز و مزاح747 صحافت215 زبان و ادب1967 خطوط811
طرز زندگی24 طب1031 تحریکات300 ناول5017 سیاسی370 مذہبیات4854 تحقیق و تنقید7302افسانہ3046 خاکے/ قلمی چہرے292 سماجی مسائل118 تصوف2271نصابی کتاب567 ترجمہ4555خواتین کی تحریریں6351-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار69
- دیوان1489
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح209
- گیت63
- غزل1319
- ہائیکو12
- حمد53
- مزاحیہ37
- انتخاب1652
- کہہ مکرنی7
- کلیات712
- ماہیہ20
- مجموعہ5305
- مرثیہ400
- مثنوی881
- مسدس60
- نعت598
- نظم1308
- دیگر78
- پہیلی16
- قصیدہ199
- قوالی18
- قطعہ71
- رباعی306
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا10
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
عبدالصمد کے افسانے
نجات
’’یہ کہانی بچوں میں سیکس ایجوکیشن کے بارے میں بات کرتی ہے۔ اگر بچوں کو سیکس کے بارے میں پتہ نہیں ہوگا تو وہ عمر کے ساتھ اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں نہیں جان سکیں گے۔ اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ پورا کنبہ ایک کمرے کے گھر میں رہتا تھا اور اس کمرے میں رات کے اندھیرے میں جو کچھ بھی ہوتا تھا، اس کے بارے میں وہ سب جانتی تھی۔ لیکن اس کا مطلب اسے نہیں معلوم تھا۔ پھر ایک دن اس کے بھائی کا ایک دوست اسے اپنی بانہوں میں بھر لیتا ہے تو اسے اپنے جسم میں چینٹیا سی رینگتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ جن سے وہ چاہ کر بھی نجات حاصل نہیں کر پاتی۔‘‘
دم
فسادات میں گھرے ایک خاندان کی کہانی۔ وہ تین بھائی تھے۔ تینوں میں سے دو گھر پر تھے اور ایک کہیں باہر گیا ہواتھا۔ جب وہ لوٹ کر آیا تو اس نے روتی ہوئی اپنی ماں کو بتایا کہ وہ تین کو ٹھکانے لگاکر آیا ہے۔ ماں اس سے ہر بات کو تفصیل سے پوچھتی ہے۔ باہر گلیوں میں پولس گشت کر رہی ہے اور دونوں گروہ نعرہ لگا رہے ہوتے ہیں۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ نعرے تو محلے کا پاگل آدمی لگا رہا ہے۔ نعرے سن کر پولس بھی اس گھر میں گھس آتی ہے۔ لیکن پولس پاگل کو پکڑنے کے بجائے گھر والوں کو پکڑ کر لے جاتی ہے۔
میوزیکل چیئر
’’یہ کچھ دوستوں کی کہانی ہے، جو معمول کے مطابق ملتے ہیں۔ جس دوست کے یہاں وہ لوگ ملتے ہیں وہاں چار کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔ وہ چاروں کرسیاں اس دیوار کے نیچے رکھی ہیں جس پر وقت بتانے کی گھڑی ٹنگی ہوئی ہے۔ اس گھڑی کی دو ریشمی ڈوریاں ہیں اور ان میں ایک ڈوری ایک دوست پکڑ لیتا ہے، کہ وہ ڈوری کھینچ کر وقت کو روک دینا چاہتا ہے۔ اس کے باقی سارے دوست اسے ڈوری سے کھینچنے روکنے کے لیے منع کرتے ہیں اور طرح طرح کی دلیلیں دیتے ہیں۔‘‘
دیر سے رکی ہوئی گاڑی
’’یہ ایک ٹرین اور اس میں سوار لوگوں کی کہانی ہے، ٹرین چلتے چلتے اچانک رک جاتی ہے۔ ٹرین کو رکے ہوئے جب کافی دیر ہو جاتی ہے تو لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اور ٹرین کے رکنے کی وجہ جاننے کے لیے بیچین ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی لوگ ٹرین کے یوں رک جانے سے نظام، ملک اور دوسری پریشانیوں کے بارے میں بحث کرنے لگتے ہیں۔‘‘
گومڑ
’’ایک ایسے شخص کی کہانی، جسے اس بات کا وہم ہو جاتا ہے کہ اس کے سر میں گومڑ نکل آیا ہے۔ وہ اسے چھپانے کے لیے ٹوپی پہننا شروع کر دیتا ہے۔ ٹوپی کو لے کر اس کے دوست اس کا مذاق بھی اڑاتے ہیں لیکن وہ کسی کی پروا نہیں کرتا۔ گومڑ کی وجہ سے جب وہ کافی زیادہ پریشان ہو جاتا ہے تو وہ ایک ماہر نفسیات کے پاس جاتا ہے اور اس سے علاج کراتا ہے۔ علاج کے بعد جب وہ اپنے ایک دوست سے ملتا ہے تو اس کا دوست کہتا ہے کہ تمہارے سر میں گومڑ سا نکل آیا ہے۔‘‘
سدباب
’’دیار غیر میں بسے ایک ایسے شخص کی کہانی، جو اپنے گاؤں میں دیکھے گئے بھوت کو لے کر پریشان ہو جاتا ہے۔ اس کا ذکر وہ اپنی بیوی سے بھی کرتا ہے، مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اس بھوت سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے وہ انہیں فون کرتا ہے اور پھر اچانک غائب ہو جاتا ہے۔ اس کی بیوی ہر ممکن اس کی تلاش کی کوشش کرتی ہے، لیکن کامیاب نہیں ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ شخص خود ہی واپس آ جاتا ہے اور اس کے غائب ہو جانے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔‘‘
ثواب جاریہ
’’کہانی ایک مسلم محلے اور اس میں بنی مسجد کی ہے، جس کی انتظامیہ کمیٹی میں شامل کچھ لوگوں کے کردار سے عام لوگوں کو شکایت ہے۔ انہیں انتظامیہ کمیٹی سے ہٹانے کے لیے وہ لوگ جہاد کا اعلان کرتے ہیں۔ جس دن ان لوگوں کو جہاد کرنا ہوتا ہے، اسی دن پتہ چلتا ہے کہ اس انتظامیہ کے لوگوں نے تو اپنی ایک الگ مسجد بنا لی ہے۔‘‘
نشان والے
’’افسانہ ایک ایسے شادی شدہ جوڑے کی کہانی بیان کرتا ہے، جو ایک مخصوص نشان والوں سے بچنے کے لیے ساری دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ پھر وہ ایک نئے مکان میں آکر رہنے لگتے ہیں۔ انہیں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ اس مخصوص نشان والوں کے پڑوس میں ہی آکر بس گئے ہیں۔ بیوی کے کہنے پر وہ پڑوسیوں سے میل جول بھی کرتا ہے۔ ملنے پر وہ پڑوسی اسے اچھے لگتے ہیں۔ ایک روز وہ پڑوسی انہیں اپنے گھر میں چھپانے کے لیے ایک ایسی چیز دے کر جاتا ہے جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘
شرط
کہانی ہمارے معاشرے میں ابھرتے متوسط طبقے اور اس کے نوجوانوں کی خواہشات کو بیان کرتی ہے۔ اس نے بی۔ اے پاس کر لیا تھا لیکن وہ بے روز گار تھا۔ وہ ایک شاندار سوٹ پہن کر بازار میں نکل جاتا ہے اور کتابوں، کپڑوں اور دوسری دکانوں پر جاتا ہے لیکن خریدتا کچھ بھی نہیں۔ بھوک لگنے پر وہ ایک سیٹھ کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شامل ہو جاتا ہے۔ لیکن وہاں کے لوگوں کی نظروں کو بھانپ کر بغیر کچھ کھائے پیے ہی واپس نکل آتا ہے۔ وہاں سے آکر وہ سوچتا ہے کہ زندگی اتنی دشوار بھی نہیں ہے۔۔۔ بشرطیکہ!
join rekhta family!
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
-
کارگزاریاں54
ادب اطفال2067
-
