- کتاب فہرست 177595
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1581 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6592افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5840-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4841
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ابوالکلام آزاد
مضمون 4
اشعار 2
بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے
ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا
اس کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگ محفل ہو گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل 3
کتاب 429
تصویری شاعری 1
ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے اور ان کی اداؤں میں مزا اور ہی کچھ ہے یہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے دل آئینہ ہے جلوہ_نما اور ہی کچھ ہے ہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے بے_خود بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں دیکھنے والے ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے آزادؔ ہوں اور گیسوئے_پیچاں میں گرفتار کہہ دو مجھے کیا تم نے سنا اور ہی کچھ ہے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
