- کتاب فہرست 189032
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2092
ڈرامہ1034 تعلیم392 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1804 صحت110 تاریخ3633طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1970 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5048 سیاسی378 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2303نصابی کتاب563 ترجمہ4620خواتین کی تحریریں6299-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1687
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5420
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ71
- واسوخت29
عادل رشید کا تعارف
اصلی نام : سید منظورالحق
پیدائش : 20 Nov 1920 | الہٰ آباد, اتر پردیش
شناخت: مقبولِ عام ادب کے ممتاز ناول نگار، زود نویس، افسانہ نگار، مدیر
اردو ادب کی تاریخ میں مقبولِ عام ادب (Popular Literature) ہمیشہ سے قارئین کی توجہ کا مرکز رہا ہے، لیکن ناقدین کی سرد مہری کا شکار رہا۔ اسی صنف کے ایک ایسے ہی قد آور قلمکار عادل رشید تھے، جن کے ناول ایک دور میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے، مگر وقت کی گرد نے ان کے فن کو وہ مقام نہ دیا جس کے وہ مستحق تھے۔
عادل رشید کا اصل نام سید منظور الحق تھا۔ وہ 20 نومبر 1920 کو اپنے ننھیال نارہ (ضلع الہ آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک جاگیردار اور علمی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سید محمد فضل الحق علاقے کے متمول زمیندار تھے جبکہ دادا اور پردادا ماہر حکیم تھے۔ عادل رشید کی والدہ امۃ الفاطمہ انہیں ادیب یا بیرسٹر بنانا چاہتی تھیں، لیکن جب عادل محض 8 برس کے تھے تو وہ انتقال کر گئیں۔ قدرت نے والدہ کی یہ تمنا پوری کی اور عادل رشید اردو کے ایک عظیم قلمکار کے طور پر ابھرے۔
عادل رشید نے محض 15 سال کی عمر میں اپنا پہلا افسانہ ’قرض‘ تحریر کیا جو کانپور کے رسالے ’مستورات‘ میں شائع ہوا۔ ابتدا میں وہ ’سید محمد منظور الحق میئوی‘ کے نام سے لکھتے تھے، بعد ازاں شاعری میں ’عادل‘ تخلص اختیار کیا اور پھر عادل رشید کے نام سے شہرت پائی۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت رہی؛ کم عمری میں والدین کی جدائی، گھریلو حالات کی تبدیلی اور معاش کی تلاش انہیں دہلی اور پھر ممبئی لے گئی۔
ممبئی میں انہوں نے فلمی کہانی کار کے طور پر سخت محنت کی۔ اگرچہ انہیں اے آر کاردار جیسے فلمسازوں کے جھوٹے وعدوں کے باعث فاقہ کشی بھی کرنی پڑی، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ وہ ’شاہد‘ اور ’حجاب‘ جیسے معتبر رسائل کے مدیر بھی رہے۔ ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو دوسروں کی مدد کرنا تھا۔ انہوں نے ہاجرہ مسرور جیسے نامور ادیبوں کو متعارف کرایا اور کرشن چندر جیسے دوستوں کی معاشی مدد کے لیے اپنے کام سے دستبردار ہوئے۔
عادل رشید ایک زود نویس ادیب تھے۔ انہوں نے لگ بھگ 150 ناول، متعدد افسانے اور تذکرے لکھے۔ ان کا پہلا ناول ’میر صاحب‘ (1944) بے حد مقبول ہوا۔ ان کے دیگر مشہور ناولوں میں ’لرزتے آنسو‘، ’دلہن‘، ’سشما‘، اور ’چودھویں کا چاند‘ شامل ہیں۔ ناولوں کے علاوہ ان کی اہم خدمات میں شامل ہیں:
رپورتاژ: ’خزاں کے پھول‘ (1949)، جو ادبی کانفرنسوں کی ایک اہم دستاویز ہے۔
تذکرہ نگاری: ’فلمی مہرے‘، جس میں 44 فلمی شخصیات (دلیپ کمار، نرگس، راج کپور وغیرہ) کے خاکے اور حالات درج ہیں۔
خاکہ نگاری: ’آئیے‘ کے نام سے لکھے گئے خاکے۔
بچوں کا ادب: بچوں کے لیے ’چوہوں کی حکومت‘ اور ’ایران کی شہزادی‘ جیسی کہانیاں۔
عادل رشید کا اسلوب سادہ مگر پرکشش تھا، اسی لیے ان کے ناول نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان میں بھی بے حد مقبول تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے بھی وابستہ رہے اور سماجی حقائق کو اپنا موضوع بنایا۔
وفات: 3 جنوری 1972 کو ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | http://www.bio-bibliography.com/authors/view/11414
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2092
-
