- کتاب فہرست 180372
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
عادل رشید کا تعارف
اصلی نام : سید منظورالحق
پیدائش : 20 Nov 1920 | الہٰ آباد, اتر پردیش
شناخت: مقبولِ عام ادب کے ممتاز ناول نگار، زود نویس، افسانہ نگار، مدیر
اردو ادب کی تاریخ میں مقبولِ عام ادب (Popular Literature) ہمیشہ سے قارئین کی توجہ کا مرکز رہا ہے، لیکن ناقدین کی سرد مہری کا شکار رہا۔ اسی صنف کے ایک ایسے ہی قد آور قلمکار عادل رشید تھے، جن کے ناول ایک دور میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے، مگر وقت کی گرد نے ان کے فن کو وہ مقام نہ دیا جس کے وہ مستحق تھے۔
عادل رشید کا اصل نام سید منظور الحق تھا۔ وہ 20 نومبر 1920 کو اپنے ننھیال نارہ (ضلع الہ آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک جاگیردار اور علمی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سید محمد فضل الحق علاقے کے متمول زمیندار تھے جبکہ دادا اور پردادا ماہر حکیم تھے۔ عادل رشید کی والدہ امۃ الفاطمہ انہیں ادیب یا بیرسٹر بنانا چاہتی تھیں، لیکن جب عادل محض 8 برس کے تھے تو وہ انتقال کر گئیں۔ قدرت نے والدہ کی یہ تمنا پوری کی اور عادل رشید اردو کے ایک عظیم قلمکار کے طور پر ابھرے۔
عادل رشید نے محض 15 سال کی عمر میں اپنا پہلا افسانہ ’قرض‘ تحریر کیا جو کانپور کے رسالے ’مستورات‘ میں شائع ہوا۔ ابتدا میں وہ ’سید محمد منظور الحق میئوی‘ کے نام سے لکھتے تھے، بعد ازاں شاعری میں ’عادل‘ تخلص اختیار کیا اور پھر عادل رشید کے نام سے شہرت پائی۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت رہی؛ کم عمری میں والدین کی جدائی، گھریلو حالات کی تبدیلی اور معاش کی تلاش انہیں دہلی اور پھر ممبئی لے گئی۔
ممبئی میں انہوں نے فلمی کہانی کار کے طور پر سخت محنت کی۔ اگرچہ انہیں اے آر کاردار جیسے فلمسازوں کے جھوٹے وعدوں کے باعث فاقہ کشی بھی کرنی پڑی، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ وہ ’شاہد‘ اور ’حجاب‘ جیسے معتبر رسائل کے مدیر بھی رہے۔ ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو دوسروں کی مدد کرنا تھا۔ انہوں نے ہاجرہ مسرور جیسے نامور ادیبوں کو متعارف کرایا اور کرشن چندر جیسے دوستوں کی معاشی مدد کے لیے اپنے کام سے دستبردار ہوئے۔
عادل رشید ایک زود نویس ادیب تھے۔ انہوں نے لگ بھگ 150 ناول، متعدد افسانے اور تذکرے لکھے۔ ان کا پہلا ناول ’میر صاحب‘ (1944) بے حد مقبول ہوا۔ ان کے دیگر مشہور ناولوں میں ’لرزتے آنسو‘، ’دلہن‘، ’سشما‘، اور ’چودھویں کا چاند‘ شامل ہیں۔ ناولوں کے علاوہ ان کی اہم خدمات میں شامل ہیں:
رپورتاژ: ’خزاں کے پھول‘ (1949)، جو ادبی کانفرنسوں کی ایک اہم دستاویز ہے۔
تذکرہ نگاری: ’فلمی مہرے‘، جس میں 44 فلمی شخصیات (دلیپ کمار، نرگس، راج کپور وغیرہ) کے خاکے اور حالات درج ہیں۔
خاکہ نگاری: ’آئیے‘ کے نام سے لکھے گئے خاکے۔
بچوں کا ادب: بچوں کے لیے ’چوہوں کی حکومت‘ اور ’ایران کی شہزادی‘ جیسی کہانیاں۔
عادل رشید کا اسلوب سادہ مگر پرکشش تھا، اسی لیے ان کے ناول نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان میں بھی بے حد مقبول تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے بھی وابستہ رہے اور سماجی حقائق کو اپنا موضوع بنایا۔
وفات: 3 جنوری 1972 کو ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | http://www.bio-bibliography.com/authors/view/11414
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
