- کتاب فہرست 178092
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1374 قصہ / داستان1578 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4285 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6589افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5855-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1254
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4836
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت575
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
افسر عباس زیدی کا تعارف
شناخت: ممتاز منقبتی شاعر اور خطیب تھے جنہوں نے لاہور کی مذہبی و ادبی محفلوں میں اپنے قطعات اور مناقب کے ذریعے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
افسر عباس زیدی 2 فروری 1928 کو دہلی کے قدیم محلے سوئی والاں (جامع مسجد کے اطراف) میں مولانا اکبر عباس زیدی اور امیر بانو بیگم کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور مذہبی روایت رکھنے والے خاندان سے تھا۔ ابتدائی تعلیم فتح پوری مسلم ہائی اسکول دہلی سے حاصل کی اور 1945 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں وہ اینگلو عربک کالج اجمیری گیٹ میں زیر تعلیم تھے کہ برصغیر کے سیاسی حالات اور معاشی ذمہ داریوں کے باعث محکمہ ٹیلی فون و ٹیلی گراف میں ملازمت اختیار کر لی۔
تقسیمِ ہند کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے ملازمت کے ساتھ تعلیم جاری رکھی۔ 1954 میں انہوں نے University of the Punjab سے فارسی میں منشی فاضل کی سند حاصل کی، بعد ازاں ایف اے، بی اے اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔
افسر عباس زیدی نے شاعری کا آغاز غزل سے کیا لیکن جلد ہی رثائی اور منقبتی شاعری کی طرف متوجہ ہو گئے۔ لاہور کی مذہبی محفلوں میں ان کے قطعات اور مناقب کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی اور انہیں پنجاب بھر کی محافل میں مدعو کیا جاتا تھا۔ اہلِ بیت کی مدح میں کہے گئے ان کے قطعات عوام و خواص میں بے حد مقبول ہوئے اور انہیں "افسر الشعراء" کے لقب سے بھی یاد کیا جانے لگا۔
ان کے شعری مجموعوں میں ہدیۂ تبریک، خراجِ عقیدت، احادیثِ کساء (منظوم)، محرابِ حرم، قرطاس و قلم، محشرِ خاموش، نقطۂ پرکارِ حق اور اذنِ وجدان شامل ہیں۔ ان میں محشرِ خاموش کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ وہ ایک عرصے تک Imamia Mission Pakistan کے سیکرٹری رہے اور اس کے رسالے پیامِ محفل کی ادارت بھی کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے عربی اور فارسی کے متعدد علمی متون کے اردو تراجم بھی کیے۔
افسر عباس زیدی کی شاعری کا مرکزی موضوع حضرت علی اور اہلِ بیت سے عقیدت و محبت تھا۔
وفات: وہاب اشرفی کا انتقال 06 اگست 2004ء کو لاہور میں ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
