- کتاب فہرست 180428
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1585 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4296 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6594افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
آغا گل کا تعارف
آغا گل کا اصل نام آغا انور گل ہے۔ ان کی ولادت کوئٹہ، پاکستان میں 19 نومبر 1951ء کو ہوئی۔ آغاگل کے تقریباً 20 افسانوی مجموعے، 4 ناول اور 2 ناولٹ ہیں۔ انھوں نے ترجمے کا کام بھی کیا ہے۔ آغا گل ایک باصلاحیت اور تخلیقی اپج سے مالا مال تخلیق کار ہیں۔ وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے سب سے زیادہ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دو مختصر ناول اوردو ناولٹ بھی منظر عام پر آچکے ہیں جبکہ وہ دیگر موضوعات پر بھی لکھتے آئے ہیں۔ ان کی دیگر تصانیف میں پارس لفظیں ، تاریخ کی گواہی اور شدرو مرجان وغیرہ ہیں ، یہ کتابیں تاریخی اور علمی نوعیت کی ہیں ۔ ان کے مختلف افسانوں کے ترجمے اردو سے بلوچی ، براہوی ، پشتو، ہندی اور انگریزی میں ہو چکے ہیں۔ بھارت سے شائع ہونے والے ’’بہترین عالمی ادب ۱۹۹۲ء‘‘ میں ان کے افسانے ’’دوسری بابری مسجد‘‘ کو سال کا بہترین عالمی افسانہ قرار دیا گیا تھا۔
آغا گل کے مطابق ”میرا تعلق بٹوارہ پر آنے والے گھرانوں سےہے۔ میں اب تک ملکی شہری نہیں، نان لوکل، ڈومی سائیل، آباد کار کا داغ لیے پھرتا ہوں۔ ادبی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ مجھے گوشۂ گمنامی میں دھکیلا جاتا ہے۔ بلوچستان کا اچھوت ، ہریجن ہوں۔ میں اپنے وطن کا نان لوکل ہوں۔“موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89106068
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
-
