- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
آغا گل کا تعارف
آغا گل کا اصل نام آغا انور گل ہے۔ ان کی ولادت کوئٹہ، پاکستان میں 19 نومبر 1951ء کو ہوئی۔ آغاگل کے تقریباً 20 افسانوی مجموعے، 4 ناول اور 2 ناولٹ ہیں۔ انھوں نے ترجمے کا کام بھی کیا ہے۔ آغا گل ایک باصلاحیت اور تخلیقی اپج سے مالا مال تخلیق کار ہیں۔ وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے سب سے زیادہ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے دو مختصر ناول اوردو ناولٹ بھی منظر عام پر آچکے ہیں جبکہ وہ دیگر موضوعات پر بھی لکھتے آئے ہیں۔ ان کی دیگر تصانیف میں پارس لفظیں ، تاریخ کی گواہی اور شدرو مرجان وغیرہ ہیں ، یہ کتابیں تاریخی اور علمی نوعیت کی ہیں ۔ ان کے مختلف افسانوں کے ترجمے اردو سے بلوچی ، براہوی ، پشتو، ہندی اور انگریزی میں ہو چکے ہیں۔ بھارت سے شائع ہونے والے ’’بہترین عالمی ادب ۱۹۹۲ء‘‘ میں ان کے افسانے ’’دوسری بابری مسجد‘‘ کو سال کا بہترین عالمی افسانہ قرار دیا گیا تھا۔
آغا گل کے مطابق ”میرا تعلق بٹوارہ پر آنے والے گھرانوں سےہے۔ میں اب تک ملکی شہری نہیں، نان لوکل، ڈومی سائیل، آباد کار کا داغ لیے پھرتا ہوں۔ ادبی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ مجھے گوشۂ گمنامی میں دھکیلا جاتا ہے۔ بلوچستان کا اچھوت ، ہریجن ہوں۔ میں اپنے وطن کا نان لوکل ہوں۔“موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89106068
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
