- کتاب فہرست 180581
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4195خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
آغا گل کے افسانے
مشین گردی
پوسٹل کالونی میں کر یم کا ڈھابہ لٹ خانہ کہلاتا تھا۔ دنیا جہاں کے بے کار، ملازمت کے متلاشی درختوں کی چھاؤں میں پاؤں پسارے اونگھنے والے غرضیکہ سب ہی چلے آتے۔ لاٹھی ٹیکتے پینشنر بھی جوانی کی یادیں تازہ کرنے مہینے میں ایک بار ضرور زیارت کے لیے آتے۔ یہاں
اکیلا چٹان
”سلامتی کا انتظار تھا۔ پر کچھ فائدہ نہ ہوا۔ اور شفا کے وقت کا پر دیکھو، دہشت اس کے گھوڑوں کے فرّانے کی آواز دان سے سنائی دیتی ہے۔ اس کے جنگی گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سے تمام زمین کانپ گئی۔ کیوں کہ وہ آ پہنچے ہیں۔ اور زمین کو اورسب کچھ جو اس میں ہے اور
مرزا ظاہر بیگ
بچپن سے ہی سلیم تعریفی الفاظ کو بے معنیٰ لیا کرتا۔ اس کے والد کی جہاں جہاں پوسٹنگ ہوتی لوگ اُسے سر آنکھوں پہ بٹھاتے۔ اس کی موجودگی میں باہم گفتگو میں اس کے والد کی تعریف کے سہ غزلے بیان کر ڈالتے۔ چائے پینے پر مجبور کرتے۔ لیکن والد کی ٹرانسفر کسی اور
پریمی
بہت دنوں سے جمال مکان بنانے کا سوچ رہا تھا۔ کیونکہ مشترکہ خاندان کا نظام ٹوٹا جا رہا تھا۔ کچھوے کی طرح سبھی اپنے اپنے خول میں بند ہوئے جاتے تھے۔ گنگا جمنی نظام ڈوبا تو امیر غریب الگ الگ ہو کر بٹتے ہی چلے گئے۔ خالہ ماسی والا محلہ کلچر ٹانگے کی طرح غائب
مچ اسٹیشن
بہت دنوں بعد رشید گھر لوٹا تو علاقہ بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یوں تو مسجد فاتحہ لینے جوتے چرانے کے کام بھی آتی مگر ہمدردوں کا ہجوم اتنا تھا کہ قریبی مسجد میں سبھی جا بیٹھے مبارکبادوں کے ڈونگرے برسانے لگے۔رشید البتہ گھائیل تھا۔ گُمشدگی کے دنوں میں
گیدان کا اجالا
بڑے میاں کی شخصیت قابل توجہ نہ تھی - یوں توعام سے بوڑھے انسان تھے۔ بالکل ہی دبلے پتلے چہرہ جیسے کچھ کی دڑ دڑ، لکیریں، شیلے، گڑھے، کمر میں ذرا ساخم چونکہ لکھنو سے فرار ہو کر آئے تھے۔ وہی لکھنوی ٹھاٹھ، ایک چپکی ہوئی سیاہ اچکن، سر پر لکھنوی دو پلی ٹوپی،
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
