- کتاب فہرست 180561
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1575 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4191خواتین کی تحریریں5754-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
احمد کفیل کا تعارف
احمد کفیل ، اسسٹنٹ پروفیسر(اردو) ، ڈپارٹمنٹ آف انڈین لینگویجز ،اسکول آف لنگویجز اینڈ لٹریچر ، سنٹرل یونیورسٹی آف ساؤتھ بہار، گیا کو مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے سال 2018کا اردو تنقید کے پر وقار انعام "خواجہ الطاف حسین حالی ایوارڈ" سے نوازا ہے-
ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ والد محترم اور دادا جان حضرت مولانا محمد ابراہیم اور چھوٹے دادا حضرت مولانا محمد صدیق بیدل سے اردو اور فارسی کی نہ صرف الف بے سیکھی بلکہ اچھی سمجھ اور شعور پیدا کیا۔ اپنے گاؤں کے گورنمنٹ اردو اسکول سے پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد مولانا آزاد اردو ہائی اسکول، خیروا سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور علاقے میں اول مقام حاصل کیا۔ پھر منشی سنگھ کالج، موتیہاری سے انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ موتیہاری کے دوران قیام اقرا اسکول اور اس کے نظریات کی تدریس و تشہیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ جشن اقرا کے سالانہ پروگرام میں عالم ارواح کا مشاعرہ ان کی ہی کوششوں کا نتیجہ تھا جو عوام اور اہل ادب میں بہت مشہور ہوا۔ انھوں نے مسلسل کئی برسوں تک عالم ارواح کے مشاعرے کی اسکرپٹ لکھی اور ہدایت کاری کی۔
پٹنہ یونیورسٹی سے پی.جی(گولڈ میڈلسٹ) کرنے کے بعد انھوں نے جے.این.یو. سے ایم.فل. اور پی.ایچ.ڈی. کیا – دہلی میں رہتے ہوئے انھوں نے قومی اردو کونسل کے رسائل"اردو دنیا" اور "فکروتحقیق" کی مجلس ادارت میں بھی ریسرچ اسسٹنٹ کی حیثیت سے ملازمت کی- چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے شعبہ اردو میں بھی گیسٹ فیکلٹی رہے - جے.این.یو. کے شعبۂ اردو میں گیسٹ فیکلٹی کی حیثیت سے یو.جی.،پی.جی. کے طلبہ کو پڑھایا-سمینار، مذاکرے اور انڈین ڈیلی گیشن میں انھیں کئی اعزازات و انعامات سے نوازا جا چکا ہے-ان کے سو سے زاید مضامین،تبصرے،اور تراجم رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں-اب تک ان کی تین کتابیں "کلیات حسن نعیم" 2006میں اور "حسن نعیم اور نئی غزل"2013میں قومی اردو کونسل ،وزارت ترقی انسانی وسائل،حکومت ہند کی جانب سے اشاعت کے بعد "حرف کے اجالے" 2018میں براؤن بک پبلی کیشن سے منظر عام پر آئی ہے جس پر مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے انھیں اردو تنقید کے پر وقار اعزاز سے نوازا ہے- احمد کفیل کی تنقید میں وضاحت اور قطعیت ہوتی ہے،وہ ایک اچھے مقرر بھی ہیں جن کا اہل ادب اعتراف کرتے ہیں-فارسی اور کلاسیکی ادب پر انھیں عبور ہے- یوں تو ادب کے طالب علم ہونے کے ناتے ادب کی ہر صنف کے مطالعے سے انھیں دلچسپی ہے،تاہم شاعری کی تنقید، اردو لسانیات،اور اردو ادب کی تاریخ ان کا اصل میدان ہے-ادب اور سیاست اور ادب اور سماج کے شعبوں میں خصوصی لیکچر کے لیے وہ اکثر بلائے جاتے ہیں- جدید اردو مرثیہ : روایت و انحراف ، کلیات اختر اورینوی،اور کبیر مونوگراف پر ان کا آزادانہ کام جاری ہے.
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
