- کتاب فہرست 188820
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں69
ادب اطفال2075
ڈرامہ1033 تعلیم375 مضامين و خاكه1553 قصہ / داستان1771 صحت109 تاریخ3584طنز و مزاح755 صحافت217 زبان و ادب1984 خطوط820
طرز زندگی28 طب1042 تحریکات299 ناول5030 سیاسی374 مذہبیات4992 تحقیق و تنقید7414افسانہ3055 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل120 تصوف2287نصابی کتاب571 ترجمہ4592خواتین کی تحریریں6347-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1488
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1351
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1668
- کہہ مکرنی7
- کلیات719
- ماہیہ21
- مجموعہ5388
- مرثیہ404
- مثنوی890
- مسدس62
- نعت607
- نظم1324
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا11
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
اختر اورینوی کا تعارف
جنوں بھی زحمت خرد بھی لعنت ہے زخم دل کی دوا محبت
حریم جاں میں طواف پیہم یہی ہے انداز عاشقانہ
اختر اورینوی اردو کے اہم افسانہ نگار، محقق، ناقد اور شاعر ہیں۔ وہ اردو کے ان افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے بالکل ابتدائی دور میں اس صنف میں دلچسپی لی اور اس کے صحیح خدوخال واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اختر اورینوی 1911 کو اورین ضلع مونگیر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید وزارت حسین تھا۔ انگریزی میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر اردو زبان وادب میں ایم اے و ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پٹنہ یونیورسٹی میں درس وتدریس کے فرائض انجام دئے۔ 30 مارچ 1977 کو وفات پائی۔
اختر اورینوی کی شخصیت خالص علمی ، ادبی اور تخلیقی تھی۔ انہوں اردو زبان وادب کی تاریخ بھی لکھی اور اقبال ونظیر کو بھی اپنے خاص مطالعے کا موضوع بنایا۔ ان کے کئی شعری اور افسانوی مجموعے بھی شائع ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں69
ادب اطفال2075
-
