- کتاب فہرست 187953
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں55
ادب اطفال2070
ڈرامہ1025 تعلیم377 مضامين و خاكه1518 قصہ / داستان1720 صحت107 تاریخ3564طنز و مزاح747 صحافت215 زبان و ادب1973 خطوط813
طرز زندگی24 طب1031 تحریکات300 ناول5019 سیاسی370 مذہبیات4874 تحقیق و تنقید7319افسانہ3047 خاکے/ قلمی چہرے294 سماجی مسائل118 تصوف2279نصابی کتاب567 ترجمہ4567خواتین کی تحریریں6352-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار69
- دیوان1493
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح209
- گیت63
- غزل1323
- ہائیکو12
- حمد53
- مزاحیہ37
- انتخاب1653
- کہہ مکرنی7
- کلیات714
- ماہیہ21
- مجموعہ5326
- مرثیہ400
- مثنوی881
- مسدس60
- نعت599
- نظم1315
- دیگر78
- پہیلی16
- قصیدہ200
- قوالی18
- قطعہ71
- رباعی306
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا10
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
الما لطیف شمسی کا تعارف
اصلی نام : الما لطیف شمسی
پیدائش : 21 May 1936 | دلی
الما لطیف شمسی کا آبائی وطن قصبہ کاکو، ضلع جہان آباد(بہار) ہے۔ پیدائش 21 مئی 1936نئی دہلی کی ہے۔ ان کے والد جناب احمد داؤد شمسی واسرائے ہند لارڈ وویل اور لارڈ لن لتھ گو کے پرائیوٹ سکریٹری تھے۔ دادا مولوی عبد العزیز شمسی کاکو(بہار) کے مشہور رئیس اور زمیندار تھے۔ علم و حشمت دونوں اعتبار سے ان کا خاندان صوبہ بہار میں مشہور ومعروف خاندان ہے۔ قاضی عبدالودود، پروفیسر اختر اورینوی ،عطا الرحمن عطا کاکوی، پروفیسر مسلم عظیم آبادی، شاہ طہٰ اشرف امتھوی، عبد الباری ساقی، ڈاکٹر محمد محسن، پروفیسر محمد حسنین، شفیع مشہدی، یہ تمام مشہور شخصیات کا تعلق اور رشتہ داری اس خاندان سے رہی ہیں۔
شمسی صاحب کی عصری تعلیم جامعہ ملیہ اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہوئی ہے۔پالٹیکل سائنس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ آپ کے والد احمد داؤد شمسی صاحب نے سبھاش چندر بوس کے ساتھ لندن سے ICS کیا تھا۔ دوران ملازمت ان کی ملاقات ہندوستان کی کئی عظیم شخصیات سے ہوئی۔ رادھا کرشنن، ذاکر حسین، نواب لیاقت علی خان وغیرہ سے دوستانہ مراسم تھے۔ داؤد شمسی صاحب نے بیشک حکومت برطانیہ کی ملازمت کی لیکن ان کا دل ہمیشہ حب الوطنی سے سرشار رہا۔ آفس میں سوٹ پہنتے اور گھر میں کھادی زیب تن کیا کرتے۔ملازمت کی پابندی کی وجہِ سے آزادی کی کسی تحریک میں شامل تو نہ ہوئے لیکن اس خواہش کو الما لطیف شمسی نے پورا کیا۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد میدان سیاست میںجناب لطیف شمسی 30 سال تک ایک معمار قوم کی حیثیت سے فعال رہے لیکن آپ نے کبھی کوئی پنشن یا مراعات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ جگجیون رام، رام منوہر لوہیا، اٹل بہاری واجپائی، وغیرہ سے گہرے مراسم تھے۔ شعر و ادب میں بھی اعلی مقام حاصل کیا۔ علی گڑھ کے مشاعرے سے لیکر لال قلعہ کے مشاعرے تک انہیں سراہا گیا۔ ابھی آپ کی ایک تاریخی کتاب ''کاکو کی کہانی الما کی زبانی'' اہل ذوق میں پذیرائی کی نظر سے دیکھی جارہی ہے۔آپ نے اپنی ایک سوانح حیات بھی ترتیب دی ہے۔ ''علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور میری داستان حیات''۔ یہ کتاب بھی کافی دلچسپ اور انوکھی ہے۔ یہاں ہم تاریخ کے کئی ادوار سے گزرتے ہیں۔ اہل قلم نے الما لطیف شمسی صاحب کی ذات وصفات پر بہت کچھ لکھا ہے اورانھیں کئی مشہور اعزازات وتوصیفی اسناد سے نوازا بھی گیا ہے۔join rekhta family!
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
-
کارگزاریاں55
ادب اطفال2070
-
