- کتاب فہرست 180372
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6484افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5757-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
امرتا پریتم کا تعارف
شناخت: بیسویں صدی کی نامور پنجابی اور ہندی ادیبہ، ناول نگار، ممتاز شاعرہ اور تقسیمِ ہند کے دکھوں کو زبان دینے والی عالمی شہرت یافتہ شخصیت
امرتا پریتم 31 اگست 1919ء کو گوجرانوالہ (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کا پیدائشی نام امرت کور تھا۔ ان کے والد کرتار سنگھ ہتکاری ایک شاعر، عالم اور ادبی رسالے کے مدیر تھے، جن کے زیرِ اثر امرتا نے بچپن سے ہی لکھنا شروع کیا۔ ابتدائی زندگی کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ لاہور منتقل ہوئیں، جہاں ان کی ادبی تربیت ہوئی اور وہیں سے ان کے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 11 سال کی عمر میں والدہ کے انتقال کے بعد وہ تنہائی کا شکار ہوئیں اور شاعری کو اپنا سہارا بنایا۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ 'امرت لہران' 1936ء میں محض 16 سال کی عمر میں شائع ہوا۔ اسی سال ان کی شادی پریتم سنگھ سے ہوئی، جس کے بعد وہ امرت کور سے امرتا پریتم بن گئیں۔
تقسیمِ ہند امرتا کی زندگی اور ادب کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوا۔ وہ لاہور سے ہجرت کر کے دہلی منتقل ہوئیں، لیکن اس ہجرت کے کرب نے انہیں وہ تاریخی الفاظ دیے جو آج بھی سرحد کے دونوں پار گونجتے ہیں۔
اج اکھاں وارث شاہ نوں: تقسیم کے فسادات اور عورتوں پر ہونے والے مظالم پر لکھی گئی یہ نظم ان کی پہچان بن گئی۔ اس میں انہوں نے 18ویں صدی کے عظیم شاعر وارث شاہ کو مخاطب کر کے پنجاب کے دکھوں کا نوحہ لکھا۔
پنجر (ناول): ان کا یہ ناول خواتین پر ہونے والے تشدد اور انسانیت کے زوال کی ایک المناک داستان ہے، جس پر 2003ء میں ایوارڈ یافتہ فلم بھی بنائی گئی۔
خودنوشت: ان کی آپ بیتی 'رسیدی ٹکٹ' اردو اور پنجابی ادب میں سچائی اور بے باکی کی ایک اعلیٰ مثال سمجھی جاتی ہے۔
امرتا نے اپنے سفر کا آغاز رومانوی شاعری سے کیا، لیکن جلد ہی وہ ترقی پسند مصنفین کی تحریک سے وابستہ ہو گئیں۔ ان کی تحریروں میں سماجی ناانصافیوں، خاص طور پر خواتین کے استحصال کے خلاف ایک توانا آواز ملتی ہے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ روحانیت اور تصوف کی طرف مائل ہو گئی تھیں اور اوشو (Osho) کے خیالات سے بھی متاثر رہیں۔
امرتا پریتم کی زندگی محبت اور جدوجہد کا حسین امتزاج رہی۔ ساحر لدھیانوی کے لیے ان کی ادھوری محبت کے قصے 'رسیدی ٹکٹ' میں رقم ہیں۔ اپنی زندگی کے آخری 40 سال انہوں نے مصور اور ادیب امروز کے ساتھ گزارے، جو ان کی وفات تک ان کے ساتھ رہے۔ ان کی اس انوکھی رفاقت پر 'امرتا امروز: ایک لو اسٹوری' کے نام سے کتاب بھی لکھی گئی۔
امرتا پریتم وہ پہلی خاتون تھیں جنہیں 1956ء میں پنجابی ادب پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ملا۔ انہیں بھارت کے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ (1982ء) کے علاوہ پدم وبھوشن (2004ء) سے بھی نوازا گیا۔ وہ راجیہ سبھا کی رکن بھی رہیں۔
وفات: 31 اکتوبر 2005ء کو نئی دہلی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Amrita_Pritam
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
