- کتاب فہرست 179742
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6670افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5901-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1304
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4860
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
انیس اشفاق کے ذریعے کیے گئے تراجم
زندگی یہاں اور وہاں
دو کرداروں کی مدد سے اس کہانی میں دکھ اور سکھ کے فلسفہ کو بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا کردار کہتا ہے کہ کیا کوئی ایسی چیز ہے جس پر انگلی رکھ کر کہا جا سکے کہ یہ سکھ ہے، یہ تشفی ہے۔ ایک جگہ کہتا ہے کہ دکھ میں کوئی ڈر نہیں ہوتا لیکن ہم جسے سکھ کہتے ہیں وہ ہمیشہ خطروں سے بھرا رہتا ہے۔ کرداروں کی ناسٹیلجائی کیفیت کہانی کو معنوی طور پر اور دبیز بناتی ہے۔
دوسری دنیا
کئی برس پہلے میں ایک ایسی لڑکی کو جانتا تھا جو دن بھر پارک میں کھیلا کرتی تھی۔ اس پارک میں بہت سے پیڑ تھے جن میں سے بہت کم کو میں پہچانتا تھا۔ سارا دن لائبریری میں رہنے کے بعد شام کو جب میں لوٹتا تو وہ پیڑوں کے بیچ بیٹھی دکھائی دیتی۔ بہت دنوں تک ہم ایک
صبح کی سیر
اس کہانی میں انسان کے خالی پن، ماضی کی یادوں اور رشتوں کی معنویت کو بیان کیا گیا ہے۔ نہال چند ایک ریٹائرڈ کرنل ہیں جن کا بیٹا بیرون ملک رہتا ہے۔ بیوی کا انتقال ہو چکا ہے اور وہ ایک نوکر کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ صبح کی سیر کے لیے نکلتے ہیں تو رات تک واپس آتے ہیں اور دن بھر جنگل میں یہاں وہاں گزارتے ہیں۔ ایک دن جنگل میں انہیں ایک پیڑ سے لٹکی ہوئی رسی نظر آتی ہے، ان کا تصور و تخیل انہیں اس رسی کے سہارے ماضی میں لے جاتا ہے اور پھر وہ اسی رسی سے جھولتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔
آدمی اور لڑکی
اس نے دکان کا دروازہ کھولا تو گھنٹی کی آواز ہوئی۔ ٹن۔۔۔جب وہ اندر آیا اور خود کار دروازہ بند ہو گیا تو گھنٹی پھر بجی۔ اس مرتبہ دوبار۔ ٹن۔ ٹن۔۔۔ اس بار آواز کافی دیر تک گونجتی رہی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ کوئی اندر آیا ہے۔ دکان میں کوئی نہیں
دھوپ کا ایک ٹکڑا
اس کہانی میں بیتے ہوئے وقت اور یادوں کے بیچ کے خلا کو عمدہ پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک شادی شدہ عورت جب ایک رات اپنے شوہر کے اس رد عمل کو محسوس نہیں کرتی جس کی وہ طالب ہے تو وہ اسے چھوڑ کر باہر چلی آتی ہے۔ اور پھر ایک پارک میں صبح سے شام تک بیٹھنا اس کے معمول میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ پارک میں اس جگہ بیٹھتی ہے جہاں سے گرجا گھر صاف نظر آتا ہے، یہ وہی گرجا گھر ہے جہاں پندرہ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
