عارف شفیق کے اشعار
غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارفؔ
امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی
جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی
مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی
اپنے دروازے پہ خود ہی دستکیں دیتا ہے وہ
اجنبی لہجے میں پھر وہ پوچھتا ہے کون ہے
کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا
ٹوٹ گیا ہے ایک کھلونا مٹی کا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تجھے میں زندگی اپنی سمجھ رہا تھا مگر
ترے بغیر بسر میں نے زندگی کر لی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل
یہ زندگی بھی خواب ہے تو خواب سے نکل
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مجھ کو ویسا خدا ملا بالکل
میں نے عارفؔ کیا گماں جیسا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
عارفؔ حسین دھوکا سہی اپنی زندگی
اس زندگی کے بعد کی حالت بھی ہے فریب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اکثر سب کو رستہ دینے والے لوگ
میری طرح سے خود پیچھے رہ جاتے ہیں
عارف شفیقؔ ورثے میں اولاد کے لئے
میں جا رہا ہوں جرأت اظہار چھوڑ کر
کیا کبھی تو نے سچ نہیں بولا
تیرے شانوں پہ پھر یہ سر کیوں ہے
عارف شفیقؔ کوئی نہ آگے نکل سکا
میں نے ہر آنے والے کو خود راستہ دیا
آنکھوں میں جاگ اٹھے ہیں تنہا شجر کے دکھ
گلدان میں جو پھول سجے دیکھتا ہوں میں
اس شخص پر بھی شہر کے کتے جھپٹ پڑے
روٹی اٹھا رہا تھا جو کچرے کے ڈھیر سے
کسی کی آنکھ سے آنسو بھی پونچھ لیتا کبھی
غرور کرتا ہے جو شخص اپنے سجدوں پر
وہی ہیں لفظ پرانے جو لکھ رہے ہیں سب
معانی ان میں مری شاعری اتارتی ہے
وہاں ہر چیز تھی اک جنس وفا تھی نایاب
خاک ڈال آیا ترے شہر کے بازاروں پر
مجھے خدا نے وہ بخشا ہے شاعری کا ہنر
جو خواب دیکھتا ہوں وہ دکھا بھی سکتا ہوں
آنسو پونچھے دکھ بانٹے انسانوں کے
میں نے بھی تو ساری عمر عبادت کی
ہر ایک ہاتھ میں ہتھیار ہوں جہاں عارفؔ
مجھے قلم سے وہاں انقلاب لانا ہے
عارف وہ فیصلے کی گھڑی بھی عجیب تھی
دل کو سنبھالنا پڑا میزان کی طرح
اک فتویٰ پھر آیا ہے یہ غاروں سے
کافر کہہ کر مجھ کو مارا جا سکتا ہے
چند سکے نہ دے ہم کو خیرات میں
اپنی محنت کا پورا صلہ چاہیے
یقیں اب ہو گیا میں سچ ہوں عارف
جبھی دنیا مجھے جھٹلا رہی ہے
پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے کیوں مرا نام و نسب
سوچ لیں پیغمبروں سے سلسلہ مل جائے گا