دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب

عارف شفیق

دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب

عارف شفیق

MORE BYعارف شفیق

    دوزخ بھی کیا گمان ہے جنت بھی ہے فریب

    ان وسوسوں میں میری عبادت بھی ہے فریب

    دریا و دشت اور سمندر بھی ہیں سراب

    دن کا اجالا رات کی ظلمت بھی ہے فریب

    تیرا ہر اک خیال بھی اک خوشنما گمان

    دنیا ہی کیا خود اپنی حقیقت بھی ہے فریب

    پرچھائیں کے سوا تو نہیں ہیں ہم اور کچھ

    یہ رنگ و نور اور یہ نکہت بھی ہے فریب

    روز ازل کا لمحۂ موجود بھی ہے عکس

    یعنی گزرتے وقت کی ساعت بھی ہے فریب

    وہم و گماں کے سائے ہیں سورج بھی چاند بھی

    اندھی ہے سوچ اور بصارت بھی ہے فریب

    ہے یہ نگار خانہ جو خواب و خیال سا

    اس آئینے میں میری یہ صورت بھی ہے فریب

    عارفؔ حسین دھوکا سہی اپنی زندگی

    اس زندگی کے بعد کی حالت بھی ہے فریب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY