Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Asghar Mahdi's Photo'

اصغر مہدی

ہجرت، احساس اور کلاسیکی شعری وقار کے شاعر

ہجرت، احساس اور کلاسیکی شعری وقار کے شاعر

اصغر مہدی کا تعارف

تخلص : 'نظمیؔ'

اصلی نام : سید اصغر مہدی

سید اصغر مہدی نظمیؔ اردو کے اُن ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر انگیز شاعری، زبان کی شائستگی اور تہذیبی شعور کے ذریعے ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ 1932ء میں بہرائچ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ معروف شاعر ساغرؔ مہدی ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد 1954ء میں پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔

نظمیؔ صاحب تمام اصنافِ سخن پر قدرت رکھتے تھے، تاہم غزل ان کی خاص شناخت بنی۔ ان کے کلام میں محبت، ہجرت، داخلی کرب، انسانی احساسات اور تہذیبی روایت کا گہرا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری سادگی، فکری گہرائی اور کلاسیکی رکھ رکھاؤ کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔

ان کی زندگی میں ان کا پہلا شعری مجموعہ خواب تیرے خیال کے (1983ء) شائع ہوا۔ بعد از وفات ان کے مزید مجموعے موج موج تشنگی (1992ء) اور مکمل مجموعۂ کلام کلیاتِ سخن (2020ء) کراچی سے منظرِ عام پر آئے۔ ان تصانیف نے اردو شاعری میں ان کی اہمیت کو مزید مستحکم کیا۔

سید اصغر مہدی نظمیؔ کی شاعری روایت اور جدید احساسات کے سنگم کی آئینہ دار ہے اور ان کا شمار اُن شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے تجربے کو شعری وقار عطا کیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے