- کتاب فہرست 179576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3317طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6666افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
اشفاق احمد کے افسانے
گڈریا
یہ کہانی فارسی کے ایک سکھ ٹیچر کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے مسلم طالب علم کو نہ صرف مفت میں پڑھاتاہے، بلکہ اسے اپنے گھر میں بھی رکھتا ہے۔ پڑھائی کے بعد طالب علم نوکری کے لیے شہر چلا جاتا ہے۔ تقسیم کے دوران وہ واپس آتا ہے تو ایک جگہ کچھ مسلم نوجوانوں کو کھڑے ہوئے پاتا ہے۔ پاس جاکر کیا دیکھتا ہے کہ انہوں نے اس کے ٹیچر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ٹیچر ڈرا ہوا خاموش کھڑا ہے۔ وہ ان کے چنگل سے ٹیچر کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر نفرت کی آگ میں بھڑکی خون کی پیاسی بھیڑ کے سامنے بے بس ہوکر رہ جاتا ہے۔
امی
مفلسی میں پلے بڑھے ایک ایسے بچے کی کہانی، جو اسکول کے دنوں میں امی سے ملا تھا۔ اس کے بعد لاہور کے ایک بازار میں اس کی امی سے ملاقات ہوئی۔ تب وہ ایک دفتر میں نوکری کرنے لگا تھا اور جوا کھیلتا تھا۔ امی سے ملاقات کے بعد اسے اپنے دوست اور امی کے بیٹے کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ انگلینڈ میں پڑھتا ہے۔ امی سے اس کی ملاقات بڑھتی جاتی ہے اور وہ ان کے ساتھ ہی رہنے لگتا ہے۔ ایک بار وہ انگلینڈ سے آئے اپنے دوست کا خط پڑھتا ہے جس میں ان سے دو ہزار روپیے کی مانگ کی گئی تھی۔ امی کے پاس پیسے نہیں ہیں اور وہ ان کے لیے اپنے زیور بیچنے جاتی ہے۔ وہ ان کے پیچھے ان کے بیگ سے پچاس روپیے چرا لیتا ہے اور جوا کھیلنے چلا جاتا ہے۔
سفر در سفر
یہ ایک ایسے فرد کی کہانی ہے، جو ایک درویش کے پاس روحانی طاقت حاصل کرنے کا طریقہ پوچھنے کے لیے جاتا ہے۔ مگر جب وہاں اس کی پیر سے ملاقات ہوتی ہے وہ اسے روحانی طاقت سے ہٹاکر خدمت خلق کے فائدے بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ نماز کی قضا ہے، مگر خدمت کی قضا نہیں۔
ترقی کا ابلیسی ناچ
’’کہانی ترقی کے نسبت لوگوں کے بدلتے مزاج کے گرد گھومتی ہے۔ انسان مسلسل ترقی کرتا جا رہا ہے۔ ترقی کی اس رفتار میں وہ اکثر ان چیزوں کی ایجاد کر رہا ہے جن کی اسے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہمارے پاس کار، ٹیپ رکارڈر اور دوسری چیزیں ہیں۔ پھر وہ ان کے نئے نئے ورجن بنا رہا ہے اور اس چکر میں ہم اس علم کو چھوڑتے جا رہے ہیں جو ہمیں ہمارے اجداد سے ملا ہے اور جس کی ہم سبھی کو ضرورت ہے۔‘‘
پنجاب کا دوپٹہ
کہانی ایک ایسی پنجابی لڑکی کی ہے جو ایک منت کی درخواست لے کر ایک درگاہ پر کئی دن سے مسلسل کھڑی ہے۔ اس نے اپنا دوپٹہ درگاہ کی چوکھٹ سے باندھا ہوا ہے اور مسلسل کھڑے ہونے سے اس کے پیر سوج گئے ہے۔ یہ دوپٹہ محض ایک لڑکی کا ہی نہیں ہے، بلکہ یہ پنجاب اور سندھ کو آپس میں باندھنے والی ڈور کی علامت بھی ہے۔
بابا کی تعریف
افسانہ سماج اور خاندان میں بابا کے ہونے کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ بابا وہ لوگ ہوتے ہیں، جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ بابا ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ سڑکوں پر پھریں، یا گیروا اور ہرا کپڑا پہن کر مانگنے کھانے کے لیے نکل جائیں۔ ایک عام شخص بھی بابا ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے مصنف نے اپنے کالج کے زمانے کے ایک دوست کا ذکر کیا ہے، جس نے اس دور میں کئی مصیبت زدہ لوگوں کی بنا کسی غرض کے مدد کی تھی اور ان لوگوں نے اسے جی بھر کر دعاؤں سے نوازا تھا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
