- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اشفاق احمد کے افسانے
گڈریا
یہ کہانی فارسی کے ایک سکھ ٹیچر کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے مسلم طالب علم کو نہ صرف مفت میں پڑھاتاہے، بلکہ اسے اپنے گھر میں بھی رکھتا ہے۔ پڑھائی کے بعد طالب علم نوکری کے لیے شہر چلا جاتا ہے۔ تقسیم کے دوران وہ واپس آتا ہے تو ایک جگہ کچھ مسلم نوجوانوں کو کھڑے ہوئے پاتا ہے۔ پاس جاکر کیا دیکھتا ہے کہ انہوں نے اس کے ٹیچر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ٹیچر ڈرا ہوا خاموش کھڑا ہے۔ وہ ان کے چنگل سے ٹیچر کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر نفرت کی آگ میں بھڑکی خون کی پیاسی بھیڑ کے سامنے بے بس ہوکر رہ جاتا ہے۔
امی
مفلسی میں پلے بڑھے ایک ایسے بچے کی کہانی، جو اسکول کے دنوں میں امی سے ملا تھا۔ اس کے بعد لاہور کے ایک بازار میں اس کی امی سے ملاقات ہوئی۔ تب وہ ایک دفتر میں نوکری کرنے لگا تھا اور جوا کھیلتا تھا۔ امی سے ملاقات کے بعد اسے اپنے دوست اور امی کے بیٹے کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ انگلینڈ میں پڑھتا ہے۔ امی سے اس کی ملاقات بڑھتی جاتی ہے اور وہ ان کے ساتھ ہی رہنے لگتا ہے۔ ایک بار وہ انگلینڈ سے آئے اپنے دوست کا خط پڑھتا ہے جس میں ان سے دو ہزار روپیے کی مانگ کی گئی تھی۔ امی کے پاس پیسے نہیں ہیں اور وہ ان کے لیے اپنے زیور بیچنے جاتی ہے۔ وہ ان کے پیچھے ان کے بیگ سے پچاس روپیے چرا لیتا ہے اور جوا کھیلنے چلا جاتا ہے۔
سفر در سفر
یہ ایک ایسے فرد کی کہانی ہے، جو ایک درویش کے پاس روحانی طاقت حاصل کرنے کا طریقہ پوچھنے کے لیے جاتا ہے۔ مگر جب وہاں اس کی پیر سے ملاقات ہوتی ہے وہ اسے روحانی طاقت سے ہٹاکر خدمت خلق کے فائدے بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ نماز کی قضا ہے، مگر خدمت کی قضا نہیں۔
ترقی کا ابلیسی ناچ
’’کہانی ترقی کے نسبت لوگوں کے بدلتے مزاج کے گرد گھومتی ہے۔ انسان مسلسل ترقی کرتا جا رہا ہے۔ ترقی کی اس رفتار میں وہ اکثر ان چیزوں کی ایجاد کر رہا ہے جن کی اسے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہمارے پاس کار، ٹیپ رکارڈر اور دوسری چیزیں ہیں۔ پھر وہ ان کے نئے نئے ورجن بنا رہا ہے اور اس چکر میں ہم اس علم کو چھوڑتے جا رہے ہیں جو ہمیں ہمارے اجداد سے ملا ہے اور جس کی ہم سبھی کو ضرورت ہے۔‘‘
پنجاب کا دوپٹہ
کہانی ایک ایسی پنجابی لڑکی کی ہے جو ایک منت کی درخواست لے کر ایک درگاہ پر کئی دن سے مسلسل کھڑی ہے۔ اس نے اپنا دوپٹہ درگاہ کی چوکھٹ سے باندھا ہوا ہے اور مسلسل کھڑے ہونے سے اس کے پیر سوج گئے ہے۔ یہ دوپٹہ محض ایک لڑکی کا ہی نہیں ہے، بلکہ یہ پنجاب اور سندھ کو آپس میں باندھنے والی ڈور کی علامت بھی ہے۔
بابا کی تعریف
افسانہ سماج اور خاندان میں بابا کے ہونے کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ بابا وہ لوگ ہوتے ہیں، جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ بابا ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ سڑکوں پر پھریں، یا گیروا اور ہرا کپڑا پہن کر مانگنے کھانے کے لیے نکل جائیں۔ ایک عام شخص بھی بابا ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے مصنف نے اپنے کالج کے زمانے کے ایک دوست کا ذکر کیا ہے، جس نے اس دور میں کئی مصیبت زدہ لوگوں کی بنا کسی غرض کے مدد کی تھی اور ان لوگوں نے اسے جی بھر کر دعاؤں سے نوازا تھا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
