Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Baba Jamal Bahraichi's Photo'

بابا جمال بہرائچی

1901 - 1982 | بہرائچ, انڈیا

ممتاز استاد شاعر، عالمِ دین اور مجاہدِ آزادی

ممتاز استاد شاعر، عالمِ دین اور مجاہدِ آزادی

بابا جمال بہرائچی کا تعارف

تخلص : 'جمال'

اصلی نام : مولانا جمال الدین

پیدائش :بہرائچ, اتر پردیش

وفات : 14 Feb 1982 | بہرائچ, اتر پردیش

بابا جمالؔ بہرائچی کا اصل نام مولانا جمال الدین احمد تھا۔ 1901ء میں بہرائچ میں پیدا ہوئے اور 14 فروری 1982ء کو وہیں وفات پائی۔ آپ ایک نامور عالمِ دین، خوش مزاج شاعر اور سرگرم مجاہدِ آزادی تھے۔ ابتدائی تعلیم جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ میں حاصل کی، جو اس زمانے میں تحریکِ آزادی کا ایک اہم مرکز تھا۔ شاعری میں حکیم سید ولایت حسین وصلؔ نیوتنوی ثم بہرائچی سے اصلاح لی۔

بابا جمالؔ بہرائچی اردو کے قادرالکلام اور ممتاز استاد شاعر شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے شاگردوں میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ عنبر بہرائچی، شاعر جمالی، رزمی بہرائچی اور نعمت بہرائچی جیسے معروف شعرا شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں حب الوطنی، اخلاقی اقدار اور کلاسیکی شعری روایت کی خوبصورت آمیزش ملتی ہے۔

ان کا شعری مجموعہ "صدائے وطن" ان کی وفات کے طویل عرصے بعد اگست 2022ء میں جنید احمد نور کی ترتیب سے شائع ہوا، جس نے ان کے شعری سرمایے کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

Recitation

بولیے