- کتاب فہرست 182677
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں92
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم346 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3314طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1720 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4336 سیاسی355 مذہبیات4798 تحقیق و تنقید6638افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2044نصابی کتاب451 ترجمہ4269خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1290
- دوہا50
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4892
- مرثیہ387
- مثنوی750
- مسدس44
- نعت590
- نظم1218
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
بلراج مینرا کے اقوال
سلگتے سگریٹ اور دھڑکتے دل میں کتنی مماثلت ہے!
ہم سمبلز کے درمیان زندگی گزارتے ہیں۔ جو سمبلز ہماری زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں وہ حکمرانوں کے پیدا کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان سمبلز کے بوسیدہ مفاہیم کو چیلنج کیا جاتا ہے تو ظلم ٹوٹتا ہے۔
ہم نے جس سماج میں آنکھ کھولی ہے، اس سماج نے پیشتر اس کے کہ ہمیں اپنی سوجھ بوجھ کا علم ہوتا، ہماری کھوپڑی میں ایک مخصوص مذہب اور دیومالا اور ان کے حوالے سے ایک ملک اور اس کی تاریخ کا سارا کوڑا بھر دیا۔ اپنے آپ کو اس بلاخیز عہد میں جینے کے قابل بنانے کے لئے پہلے ہمیں اپنی کھوپڑی صاف کرنا پڑےگی۔
سماج اور فرد کی زندگی میں موجود تضادات کا احساس، ان کی واضح پہچان اور پھر ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش تخلیق کی جانب پہلا قدم ہے۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اردو کے بیشتر ادیب نہ جی رہے ہیں، نہ ادب لکھ رہے ہیں، بلکہ تنبولا کھیل رہے ہیں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں92
ادب اطفال1990
-
