- کتاب فہرست 180561
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1575 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4191خواتین کی تحریریں5754-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
بلراج مینرا کے اقوال
سلگتے سگریٹ اور دھڑکتے دل میں کتنی مماثلت ہے!
ہم سمبلز کے درمیان زندگی گزارتے ہیں۔ جو سمبلز ہماری زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں وہ حکمرانوں کے پیدا کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان سمبلز کے بوسیدہ مفاہیم کو چیلنج کیا جاتا ہے تو ظلم ٹوٹتا ہے۔
ہم نے جس سماج میں آنکھ کھولی ہے، اس سماج نے پیشتر اس کے کہ ہمیں اپنی سوجھ بوجھ کا علم ہوتا، ہماری کھوپڑی میں ایک مخصوص مذہب اور دیومالا اور ان کے حوالے سے ایک ملک اور اس کی تاریخ کا سارا کوڑا بھر دیا۔ اپنے آپ کو اس بلاخیز عہد میں جینے کے قابل بنانے کے لئے پہلے ہمیں اپنی کھوپڑی صاف کرنا پڑےگی۔
سماج اور فرد کی زندگی میں موجود تضادات کا احساس، ان کی واضح پہچان اور پھر ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش تخلیق کی جانب پہلا قدم ہے۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اردو کے بیشتر ادیب نہ جی رہے ہیں، نہ ادب لکھ رہے ہیں، بلکہ تنبولا کھیل رہے ہیں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
