- کتاب فہرست 179667
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3315طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4313 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6667افسانہ2705 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1612
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4865
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
بلراج مینرا کے اقوال
سلگتے سگریٹ اور دھڑکتے دل میں کتنی مماثلت ہے!
ہم سمبلز کے درمیان زندگی گزارتے ہیں۔ جو سمبلز ہماری زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں وہ حکمرانوں کے پیدا کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان سمبلز کے بوسیدہ مفاہیم کو چیلنج کیا جاتا ہے تو ظلم ٹوٹتا ہے۔
ہم نے جس سماج میں آنکھ کھولی ہے، اس سماج نے پیشتر اس کے کہ ہمیں اپنی سوجھ بوجھ کا علم ہوتا، ہماری کھوپڑی میں ایک مخصوص مذہب اور دیومالا اور ان کے حوالے سے ایک ملک اور اس کی تاریخ کا سارا کوڑا بھر دیا۔ اپنے آپ کو اس بلاخیز عہد میں جینے کے قابل بنانے کے لئے پہلے ہمیں اپنی کھوپڑی صاف کرنا پڑےگی۔
سماج اور فرد کی زندگی میں موجود تضادات کا احساس، ان کی واضح پہچان اور پھر ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش تخلیق کی جانب پہلا قدم ہے۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اردو کے بیشتر ادیب نہ جی رہے ہیں، نہ ادب لکھ رہے ہیں، بلکہ تنبولا کھیل رہے ہیں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
