بینا گوئندی کے اشعار
کچھ تو کم ہوتے شب کے اندھیارے
دل کا دیپک جلا لیا ہوتا
اشک بیناؔ بکھر ہی جاتا ہے
تو نے موتی بنا لیا ہوتا
-
موضوع : آنسو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ