- کتاب فہرست 180356
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1361 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب971 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4198خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
دارا شکوہ کا تعارف
شناخت: مغل شہزادہ، صوفی منش دانشور، مترجم، مذہبی رواداری کے علمبردار اور ’’مجمع البحرین‘‘ کے مصنف
دارا شکوہ 20 مارچ 1615ء کو اجمیر، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ وہ مغل بادشاہ شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز محل کے سب سے بڑے بیٹے اور سلطنتِ مغلیہ کے نامزد ولی عہد تھے۔ مغل دربار میں انہیں ’’شاہِ بلند اقبال‘‘ اور ’’پادشاہ زادۂ بزرگ مرتبۃ‘‘ جیسے القابات سے نوازا گیا۔ اپنی غیر معمولی ذہانت، وسیع المطالعہ طبیعت، صوفیانہ مزاج اور مذہبی کشادہ نظری کے باعث وہ دربار اور اہلِ علم دونوں حلقوں میں بے حد مقبول تھے۔ ان کی بڑی بہن جہان آرا بیگم سے بھی ان کا گہرا روحانی و فکری تعلق تھا۔
دارا شکوہ نے فارسی، عربی، ہندی اور سنسکرت زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کی طبیعت ابتدا ہی سے فلسفہ، تصوف اور روحانی علوم کی طرف مائل تھی۔ وہ قادری سلسلے کے صوفیہ، خصوصاً میاں میر، ملا شاہ بدخشانی اور آرمینی نژاد صوفی سرمد کاشانی سے گہرے متاثر تھے۔ اسی عقیدت کے اظہار کے طور پر انہوں نے ’’قادری‘‘ تخلص اختیار کیا اور فارسی شاعری میں بھی قابلِ ذکر کام کیا۔ ان کے فارسی دیوان میں غزلیں، رباعیات اور قصائد شامل ہیں۔
دارا شکوہ کی اصل شہرت اسلامی تصوف اور ہندو فلسفۂ ویدانت کے درمیان فکری ہم آہنگی تلاش کرنے کی کوششوں کے باعث ہے۔ انہوں نے سنسکرت سے پچاس اوپنشادوں کا فارسی ترجمہ ’’سرِّ اکبر‘‘ کے نام سے کیا، تاکہ مسلم علما اور فارسی داں طبقہ ہندوستانی فلسفے سے واقف ہوسکے۔ انہوں نے اپنے مقدمے میں یہاں تک لکھا کہ قرآن میں مذکور ’’کتابِ مکنون‘‘ سے مراد اوپنشاد بھی ہوسکتے ہیں۔
ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’مجمع البحرین‘‘ برصغیر میں بین المذاہب فکری مکالمے کی ایک اہم دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ اس مختصر مگر اہم رسالے میں انہوں نے اسلامی تصوف اور ویدانت کی اصطلاحات، تصورات اور روحانی مباحث کے درمیان مماثلتوں کو واضح کیا۔ اس کے علاوہ ’’سفینۃ الاولیاء‘‘، ’’سکینۃ الاولیاء‘‘، ’’رسالۂ حق نما‘‘، ’’حسنات العارفین‘‘ اور ’’اکسیرِ اعظم‘‘ بھی ان کی اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہیں۔
دارا شکوہ فنونِ لطیفہ، مصوری، خطاطی اور فنِ تعمیر کے بھی بڑے سرپرست تھے۔ ان کے ذوقِ جمالیات کا اندازہ ’’دارا شکوہ البم‘‘ سے ہوتا ہے، جس میں مصوری اور خطاطی کے نادر نمونے شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ نادرہ بانو بیگم کے لیے یہ البم مرتب کروایا تھا۔ لاہور میں نادرہ بانو بیگم کا مقبرہ، میاں میر کا مزار، دہلی کی دارا شکوہ لائبریری اور کشمیر میں بعض عمارات بھی ان کی سرپرستی سے منسوب ہیں۔
1657ء میں شاہ جہاں کی علالت کے بعد مغل سلطنت میں جانشینی کی جنگ شروع ہوئی۔ دارا شکوہ کو اپنے بھائی اورنگزیب کا سامنا کرنا پڑا، جو مذہبی اعتبار سے زیادہ سخت گیر اور سیاسی و عسکری حکمتِ عملی میں زیادہ مضبوط ثابت ہوئے۔ متعدد جنگوں میں شکست کے بعد دارا شکوہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر الحاد اور دینی انحراف کے الزامات عائد کیے گئے۔
وفات: 30 اگست 1659ء کو اورنگزیب کے حکم پر انہیں قتل کردیا گیا۔ بعد ازاں انہیں دہلی میں مقبرۂ ہمایوں کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Dara_Shikoh
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
