- کتاب فہرست 182622
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3288طنز و مزاح611 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط745
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4315 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6621افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1282
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4877
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1207
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
دارا شکوہ کا تعارف
شناخت: مغل شہزادہ، صوفی منش دانشور، مترجم، مذہبی رواداری کے علمبردار اور ’’مجمع البحرین‘‘ کے مصنف
دارا شکوہ 20 مارچ 1615ء کو اجمیر، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ وہ مغل بادشاہ شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز محل کے سب سے بڑے بیٹے اور سلطنتِ مغلیہ کے نامزد ولی عہد تھے۔ مغل دربار میں انہیں ’’شاہِ بلند اقبال‘‘ اور ’’پادشاہ زادۂ بزرگ مرتبۃ‘‘ جیسے القابات سے نوازا گیا۔ اپنی غیر معمولی ذہانت، وسیع المطالعہ طبیعت، صوفیانہ مزاج اور مذہبی کشادہ نظری کے باعث وہ دربار اور اہلِ علم دونوں حلقوں میں بے حد مقبول تھے۔ ان کی بڑی بہن جہان آرا بیگم سے بھی ان کا گہرا روحانی و فکری تعلق تھا۔
دارا شکوہ نے فارسی، عربی، ہندی اور سنسکرت زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کی طبیعت ابتدا ہی سے فلسفہ، تصوف اور روحانی علوم کی طرف مائل تھی۔ وہ قادری سلسلے کے صوفیہ، خصوصاً میاں میر، ملا شاہ بدخشانی اور آرمینی نژاد صوفی سرمد کاشانی سے گہرے متاثر تھے۔ اسی عقیدت کے اظہار کے طور پر انہوں نے ’’قادری‘‘ تخلص اختیار کیا اور فارسی شاعری میں بھی قابلِ ذکر کام کیا۔ ان کے فارسی دیوان میں غزلیں، رباعیات اور قصائد شامل ہیں۔
دارا شکوہ کی اصل شہرت اسلامی تصوف اور ہندو فلسفۂ ویدانت کے درمیان فکری ہم آہنگی تلاش کرنے کی کوششوں کے باعث ہے۔ انہوں نے سنسکرت سے پچاس اوپنشادوں کا فارسی ترجمہ ’’سرِّ اکبر‘‘ کے نام سے کیا، تاکہ مسلم علما اور فارسی داں طبقہ ہندوستانی فلسفے سے واقف ہوسکے۔ انہوں نے اپنے مقدمے میں یہاں تک لکھا کہ قرآن میں مذکور ’’کتابِ مکنون‘‘ سے مراد اوپنشاد بھی ہوسکتے ہیں۔
ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’مجمع البحرین‘‘ برصغیر میں بین المذاہب فکری مکالمے کی ایک اہم دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ اس مختصر مگر اہم رسالے میں انہوں نے اسلامی تصوف اور ویدانت کی اصطلاحات، تصورات اور روحانی مباحث کے درمیان مماثلتوں کو واضح کیا۔ اس کے علاوہ ’’سفینۃ الاولیاء‘‘، ’’سکینۃ الاولیاء‘‘، ’’رسالۂ حق نما‘‘، ’’حسنات العارفین‘‘ اور ’’اکسیرِ اعظم‘‘ بھی ان کی اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہیں۔
دارا شکوہ فنونِ لطیفہ، مصوری، خطاطی اور فنِ تعمیر کے بھی بڑے سرپرست تھے۔ ان کے ذوقِ جمالیات کا اندازہ ’’دارا شکوہ البم‘‘ سے ہوتا ہے، جس میں مصوری اور خطاطی کے نادر نمونے شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ نادرہ بانو بیگم کے لیے یہ البم مرتب کروایا تھا۔ لاہور میں نادرہ بانو بیگم کا مقبرہ، میاں میر کا مزار، دہلی کی دارا شکوہ لائبریری اور کشمیر میں بعض عمارات بھی ان کی سرپرستی سے منسوب ہیں۔
1657ء میں شاہ جہاں کی علالت کے بعد مغل سلطنت میں جانشینی کی جنگ شروع ہوئی۔ دارا شکوہ کو اپنے بھائی اورنگزیب کا سامنا کرنا پڑا، جو مذہبی اعتبار سے زیادہ سخت گیر اور سیاسی و عسکری حکمتِ عملی میں زیادہ مضبوط ثابت ہوئے۔ متعدد جنگوں میں شکست کے بعد دارا شکوہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر الحاد اور دینی انحراف کے الزامات عائد کیے گئے۔
وفات: 30 اگست 1659ء کو اورنگزیب کے حکم پر انہیں قتل کردیا گیا۔ بعد ازاں انہیں دہلی میں مقبرۂ ہمایوں کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Dara_Shikoh
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
