- کتاب فہرست 180334
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
دیپک بدکی کا تعارف
تخلص : 'دیپک بدکی'
اصلی نام : دیپک کمار بدکی
پیدائش : 15 Feb 1950 | سری نگر, جموں و کشمیر
LCCN :no00092652
شناخت: ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد
دیپک کمار بدکی 15 فروری 1950ء کو سری نگر (جموں و کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پانچویں جماعت تک کی تعلیم اپنے گھر کے قریب واقع 'جبری اسکول' (گاڈنی آٹ منز) سے حاصل کی۔
پانچویں کے بعد گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول نواکدل اور پھر ڈی اے وی ہائیر سیکنڈری اسکول امیر اکدل سے گیارہویں پاس کی۔ بارہویں سری پرتاپ کالج سے کی اور وہیں سے آنرز ان باٹنی (B.Sc. Hon's) کی ڈگری لی۔ اس کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے 1968-70ء کے دوران ایم ایس سی (باٹنی) اور 1971ء میں گاندھی میموریل کالج سے بی ایڈ مکمل کیا۔ انہوں نے محض 21 سال کی عمر میں ایم ایس سی، بی ایڈ اور 'ادیبِ ماہر' کے امتحانات پاس کر کے ملازمت کا آغاز کر دیا تھا۔
ادبی دنیا میں وہ دیپک بدکی کے نام سے معروف ہیں اور ان کا شمار ہند و پاک کے ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا کینواس بہت وسیع ہے، جس میں انہوں نے کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں کے سیاسی، سماجی مسائل، غریب عوام کے استحصال اور عورتوں کی نفسیات کو نہایت سلیقے اور گہرے مشاہدے کے ساتھ برتا ہے۔
وہ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں گزشتہ چالیس برسوں سے لکھ رہے ہیں۔ ان کی زبان سادہ، بیانیہ مربوط اور اندازِ تحریر میں ایک خاص روانی و جاذبیت پائی جاتی ہے، جو قاری کو سحر زدہ کر کے حقیقت کے قریب لے جاتی ہے۔
افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ وہ تنقیدی و تحقیقی بصیرت کے بھی مالک ہیں۔ انہوں نے ہم عصر ادیبوں اور اردو فکشن کی صورتِ حال پر گراں قدر تنقیدی مضامین لکھے۔
ان کے اہم افسانوی مجموعوں میں ’’ادھورے چہرے‘‘، ’’چنار کے نیچے‘‘، ’’زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی‘‘، ’’ریزہ ریزہ حیات‘‘، ’’روح کا کرب‘‘ اور ’’مٹھی بھر ریت‘‘ شامل ہیں۔
تنقید میں ان کی دو کتابیں ’’عصری تحریریں‘‘ اور ’’عصری شعور‘‘ منظرِ عام پر آ کر داد حاصل کر چکی ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے ’’اپنا اپنا سچ‘‘ اور ’’آزادی‘‘ کے نام سے ناول بھی تحریر کیے، جبکہ ان کی خود نوشت سوانح حیات ’’لوحِ حیات‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no00092652
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
