- کتاب فہرست 180695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4275 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6695افسانہ2671 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4185-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ386
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
دیپک بدکی کا تعارف
تخلص : 'دیپک بدکی'
اصلی نام : دیپک کمار بدکی
پیدائش : 15 Feb 1950 | سری نگر, جموں و کشمیر
LCCN :no00092652
شناخت: ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد
دیپک کمار بدکی 15 فروری 1950ء کو سری نگر (جموں و کشمیر) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پانچویں جماعت تک کی تعلیم اپنے گھر کے قریب واقع 'جبری اسکول' (گاڈنی آٹ منز) سے حاصل کی۔
پانچویں کے بعد گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول نواکدل اور پھر ڈی اے وی ہائیر سیکنڈری اسکول امیر اکدل سے گیارہویں پاس کی۔ بارہویں سری پرتاپ کالج سے کی اور وہیں سے آنرز ان باٹنی (B.Sc. Hon's) کی ڈگری لی۔ اس کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے 1968-70ء کے دوران ایم ایس سی (باٹنی) اور 1971ء میں گاندھی میموریل کالج سے بی ایڈ مکمل کیا۔ انہوں نے محض 21 سال کی عمر میں ایم ایس سی، بی ایڈ اور 'ادیبِ ماہر' کے امتحانات پاس کر کے ملازمت کا آغاز کر دیا تھا۔
ادبی دنیا میں وہ دیپک بدکی کے نام سے معروف ہیں اور ان کا شمار ہند و پاک کے ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا کینواس بہت وسیع ہے، جس میں انہوں نے کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں کے سیاسی، سماجی مسائل، غریب عوام کے استحصال اور عورتوں کی نفسیات کو نہایت سلیقے اور گہرے مشاہدے کے ساتھ برتا ہے۔
وہ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں گزشتہ چالیس برسوں سے لکھ رہے ہیں۔ ان کی زبان سادہ، بیانیہ مربوط اور اندازِ تحریر میں ایک خاص روانی و جاذبیت پائی جاتی ہے، جو قاری کو سحر زدہ کر کے حقیقت کے قریب لے جاتی ہے۔
افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ وہ تنقیدی و تحقیقی بصیرت کے بھی مالک ہیں۔ انہوں نے ہم عصر ادیبوں اور اردو فکشن کی صورتِ حال پر گراں قدر تنقیدی مضامین لکھے۔
ان کے اہم افسانوی مجموعوں میں ’’ادھورے چہرے‘‘، ’’چنار کے نیچے‘‘، ’’زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی‘‘، ’’ریزہ ریزہ حیات‘‘، ’’روح کا کرب‘‘ اور ’’مٹھی بھر ریت‘‘ شامل ہیں۔
تنقید میں ان کی دو کتابیں ’’عصری تحریریں‘‘ اور ’’عصری شعور‘‘ منظرِ عام پر آ کر داد حاصل کر چکی ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے ’’اپنا اپنا سچ‘‘ اور ’’آزادی‘‘ کے نام سے ناول بھی تحریر کیے، جبکہ ان کی خود نوشت سوانح حیات ’’لوحِ حیات‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no00092652
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
