Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

ڈاکٹر بشری رحمن

1940 - 2009 | گورکھپور, انڈیا

محقق اور نقاد

محقق اور نقاد

ڈاکٹر بشری رحمن کا تعارف

اصلی نام : بشریٰ خاتون صدیقی

پیدائش : 10 Jan 1940 | گورکھپور, اتر پردیش

شناخت: محقق، نقاد اور اردو سفرنامہ نگاری پر اہم تحقیقی کام کرنے والی ادیبہ

ڈاکٹر بشریٰ رحمن 10 جنوری 1940ء کو گورکھپور کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد حکیم عبد القدوس معروف معالج تھے، جبکہ ان کے بڑے بھائی پروفیسر نجات اللہ صدیقی عالمی شہرت یافتہ ماہرِ اقتصادیات اور اسلامی اسکالر تھے۔ علمی و ادبی ماحول نے بچپن ہی سے ان کی شخصیت اور ذوقِ مطالعہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ سے ہائی اسکول پاس کیا۔ 1960ء میں میجر صدیق الرحمن سے شادی ہوئی۔ گھریلو مصروفیات کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1968ء میں بی اے آنرز (اردو) اور پھر گورکھپور یونیورسٹی سے ایم اے اردو مکمل کیا۔ بعد ازاں پروفیسر محمود الٰہی کی نگرانی میں ’’اردو کے غیر مذہبی سفرنامے‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر 1986ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر بشریٰ رحمن کی سب سے اہم علمی خدمت ان کی تحقیقی تصنیف ’’اردو کے غیر مذہبی سفرنامے‘‘ ہے، جس میں انہوں نے اردو سفرنامہ نگاری کی روایت، اس کے ارتقا اور مختلف ادوار کے سفرناموں کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا۔ اس تحقیق کے لیے انہوں نے سیکڑوں کتابوں کا مطالعہ کیا اور اردو سفرنامے کے فنی و ادبی پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا۔

انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت، صحافت اور فکری خدمات پر بھی تحقیقی کام کیا۔ اس کے علاوہ مجنوں گورکھپوری کے کلام کو مرتب کیا نیز اس کی شخصیت اور فن پر باقاعدہ ایک کتاب تحریر کی۔ ان کی تحریروں میں سنجیدگی، تحقیقی دیانت اور شائستہ اسلوب نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے مضامین ’’نگار‘‘، ’’آج کل‘‘، ’’نیا دور‘‘ اور دیگر معتبر ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہے۔

وفات: 2009 میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے