- کتاب فہرست 180580
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1572 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ڈاکٹر بشری رحمن کا تعارف
شناخت: محقق، نقاد اور اردو سفرنامہ نگاری پر اہم تحقیقی کام کرنے والی ادیبہ
ڈاکٹر بشریٰ رحمن 10 جنوری 1940ء کو گورکھپور کے ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد حکیم عبد القدوس معروف معالج تھے، جبکہ ان کے بڑے بھائی پروفیسر نجات اللہ صدیقی عالمی شہرت یافتہ ماہرِ اقتصادیات اور اسلامی اسکالر تھے۔ علمی و ادبی ماحول نے بچپن ہی سے ان کی شخصیت اور ذوقِ مطالعہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ سے ہائی اسکول پاس کیا۔ 1960ء میں میجر صدیق الرحمن سے شادی ہوئی۔ گھریلو مصروفیات کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1968ء میں بی اے آنرز (اردو) اور پھر گورکھپور یونیورسٹی سے ایم اے اردو مکمل کیا۔ بعد ازاں پروفیسر محمود الٰہی کی نگرانی میں ’’اردو کے غیر مذہبی سفرنامے‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر 1986ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر بشریٰ رحمن کی سب سے اہم علمی خدمت ان کی تحقیقی تصنیف ’’اردو کے غیر مذہبی سفرنامے‘‘ ہے، جس میں انہوں نے اردو سفرنامہ نگاری کی روایت، اس کے ارتقا اور مختلف ادوار کے سفرناموں کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا۔ اس تحقیق کے لیے انہوں نے سیکڑوں کتابوں کا مطالعہ کیا اور اردو سفرنامے کے فنی و ادبی پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا۔
انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت، صحافت اور فکری خدمات پر بھی تحقیقی کام کیا۔ اس کے علاوہ مجنوں گورکھپوری کے کلام کو مرتب کیا نیز اس کی شخصیت اور فن پر باقاعدہ ایک کتاب تحریر کی۔ ان کی تحریروں میں سنجیدگی، تحقیقی دیانت اور شائستہ اسلوب نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے مضامین ’’نگار‘‘، ’’آج کل‘‘، ’’نیا دور‘‘ اور دیگر معتبر ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہے۔
وفات: 2009 میں انتقال ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
