- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3301طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1711 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4326 سیاسی355 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت586
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ڈاکٹر اسرار احمد کا تعارف
شناخت: اسلامی مفکر اور مفسرِ قرآن
ڈاکٹر اسرار احمد 26 اپریل 1932ء کو ضلع حصار (موجودہ ہریانہ، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو کر لاہور میں آباد ہوا۔ 1954ء میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور کچھ عرصہ طبابت سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں 1965ء میں جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ایم اے کیا۔ طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے اور بعد میں جماعتِ اسلامی میں شامل ہوئے، تاہم انتخابی سیاست سے اختلاف کے باعث 1957ء میں جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔
ڈاکٹر اسرار احمد کا شمار برصغیر کے معروف اسلامی مفکرین، مفسرینِ قرآن اور داعیانِ دین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 1971ء میں طبابت ترک کر کے دعوت و اشاعتِ اسلام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ 1972ء میں انجمن خدام القرآن قائم کی، 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کی بنیاد رکھی اور 1991ء میں تحریکِ خلافت پاکستان کا آغاز کیا۔ وہ قرآن و سنت کی بنیاد پر اسلامی معاشرے کے قیام، نظامِ خلافت کی بحالی اور امتِ مسلمہ کی فکری و اخلاقی اصلاح کے داعی تھے۔ 1981ء میں جنرل ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی رہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد نے قرآنِ مجید کے درس اور تفہیم کو عوام تک پہنچانے میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کے قرآنی دروس اور خطابات نے انہیں وسیع شہرت دلائی، جبکہ ان کے سینکڑوں آڈیو اور ویڈیو بیانات دنیا بھر میں نشر ہوئے اور متعدد زبانوں میں ترجمہ کیے گئے۔ پاکستان، بھارت، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ میں ان کے دروسِ قرآن اور خطابات کو بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔
انہوں نے اسلام، قرآن، پاکستان، اقبال اور اسلامی فکر پر متعدد کتابیں تصنیف کیں، جن میں سے کئی کتابوں کا انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ ان کی معروف تصانیف میں "قرآن کے ہم پر پانچ حقوق"، "اسلام اور پاکستان"، "علامہ اقبال اور ہم"، "استحکامِ پاکستان"، "مسلمان امتوں کا ماضی، حال اور مستقبل"، "اصلاحِ معاشرہ کا قرآنی تصور"، "نبی اکرم سے ہمارے تعلق کی بنیادیں"، "توبہ کی عظمت اور تاثیر"، "حقیقت و اقسامِ شرک" اور "ملفوظاتِ ڈاکٹر اسرار احمد" شامل ہیں۔
اسلامی فکر اور دینی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1981ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔
وفات: ڈاکٹر اسرار احمد کا انتقال 14 اپریل 2010ء کو لاہور میں ہوا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
