Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Dr. Zakir Husain's Photo'

ڈاکٹر ذاکر حسین

1897 - 1969 | دلی, انڈیا

صدرِ جمہوریہ ہند، دانشور، ماہرِ تعلیم، مجاہدِ آزادی، ادیب، مترجم

صدرِ جمہوریہ ہند، دانشور، ماہرِ تعلیم، مجاہدِ آزادی، ادیب، مترجم

ڈاکٹر ذاکر حسین کا تعارف

اصلی نام : ذاکر حسین

پیدائش : 08 Feb 1897 | حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 03 May 1969 | دلی, انڈیا

شناخت: تیسرے صدرِ جمہوریہ ہند، دانشور، ماہرِ تعلیم، مجاہدِ آزادی، ادیب، مترجم، خطیب اور منتظم

ڈاکٹر ذاکر حسین ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ہندوستان کی تعلیمی، سماجی اور قومی زندگی میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ ملک کی تعمیر اور تعلیم کے فروغ میں ان کا کردار نہایت اہم رہا۔ انہیں ہندوستان کا سب سے بڑا اعزاز ’’بھارت رتن‘‘ عطا کیا گیا۔

ڈاکٹر ذاکر حسین کی پیدائش 1897 کو حیدرآباد میں ہوئی جہاں ان کے والد فدا حسین خان بہ سلسلہ وکالت مقیم تھے۔ والد کے سات بیٹوں میں وہ تیسرے نمبر پر تھے۔ ان کے آبا و اجداد فریدی پٹھان تھے۔ آبائی وطن قائم گنج ضلع فرخ آباد تھا۔

ابتدائی تعلیم گھر پر ایک انگریز ٹیوٹر کے ذریعے حاصل کی۔ والد بیماری کے باعث قائم گنج واپس آئے اور وہیں انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد ذاکر صاحب کو اسلامیہ ہائی اسکول اٹاوہ بھیج دیا گیا جہاں سے ہائی اسکول مکمل کیا۔ اسی زمانے میں والدہ بھی طاعون کی وبا میں انتقال کر گئیں۔ جوانی میں صوفی درویش حسن شاہ کا ان پر گہرا اثر رہا۔

ایم اے او کالج علی گڑھ سے ایف اے کیا۔ لکھنؤ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا مگر بیماری کے باعث ترک کرنا پڑا۔ دوبارہ علی گڑھ آکر آرٹس کے مضامین سے بی اے کیا۔ اقتصادیات میں ایم اے اور ایل ایل بی کیا۔ بعد ازاں شعبہ اقتصادیات میں جونیر لیکچرر مقرر ہوئے۔ وہ ذہین طالب علم، عمدہ مقرر اور عالمی حالات سے باخبر رہنے والے شخص تھے۔

1920 میں مہاتما گاندھی اور مولانا محمد علی کی اپیل پر جنگِ آزادی میں شامل ہوئے۔ سرکاری امدادی ادارہ چھوڑ کر جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہوگئے جو اس وقت علی گڑھ میں قائم ہوئی تھی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی گئے جہاں فنونِ لطیفہ، موسیقی، مصوری، ڈرامہ اور فنِ تعمیر سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ اگرچہ مضمون اقتصادیات تھا مگر اصل دل چسپی علمِ تعلیم میں تھی۔ جرمنی کے جدید تعلیمی اداروں کا مشاہدہ کیا۔

1926 میں ڈاکٹر عابد حسین اور پروفیسر محمد مجیب کے ساتھ ہندوستان واپس آئے اور جامعہ کی بقا کے لیے کم تنخواہوں پر کام کیا۔ یہ تینوں ’’ارکانِ ثلاثہ‘‘ کہلائے۔ سیاسی و مالی بحران کے دور میں جامعہ کو سنبھالا اور بطور شیخ الجامعہ اسے مستحکم کیا۔ جامعہ کو ایک نمونۂ تعلیمی ادارہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

تقسیم کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بحران کا شکار تھی۔ نہرو اور مولانا آزاد کے اصرار پر 1948 میں وائس چانسلر بنے اور یونیورسٹی کی حالت سنبھالی۔ 1957 میں صحت کی خرابی پر استعفیٰ دیا۔ بعد ازاں بہار کے گورنر، نائب صدر جمہوریہ اور پھر صدرِ جمہوریہ ہند منتخب ہوئے۔

گاندھی جی کے بنیادی تعلیم کے منصوبے کو منظم نصاب کی شکل دی۔ جامعہ میں ابتدائی تعلیم اور تربیتِ اساتذہ کے جدید تجربات کیے۔ درسی کتب اور بچوں کے ادب پر غیر معمولی کام ہوا۔ مکتبہ جامعہ قائم ہوا جس نے کم قیمت پر معیاری کتابیں شائع کیں۔ بچوں کا رسالہ ’’پیامِ تعلیم‘‘ جاری ہوا۔

اپنی مرحومہ بیٹی ریحانہ رقیہ کے نام سے 17 کہانیاں لکھیں۔ دیگر کہانیوں میں: چھدو، پوری جو کڑھائی سے نکل بھاگی، آدمی کی کہانی ایک ستارے کی زبانی، عقاب، ابو خان کی بکری، گل عباس شامل ہیں۔

’کچھوا اور خرگوش‘ بظاہر بچوں کی کہانی ہے مگر اس میں تعلیمی، سماجی اور تہذیبی مسائل کی عکاسی ہے۔ انگریزی ادب سے ماخوذ دو ڈرامے بھی لکھے جو جامعہ میں اسٹیج ہوئے۔

ان کی تحریروں میں سادگی، گہرائی اور فکری حرارت پائی جاتی ہے۔ اہم کتب میں: فکرِ ذاکر، ذاکر حسین یادگاری خطبات، افکارِ ذاکر، اعلیٰ تعلیم، بنیادی قومی تعلیم، حالی محبِ وطن، ہندوستان میں تعلیم کی ازسرِ نو تنظیم (ترجمہ)، مشاہیر کے اولین صحیفے، تعلیمی خطبات، ذاکر صاحب کے خطوط، ذکرِ حسین، مبادی معاشیات (ترجمہ)، افلاطون اور ریاست (ترجمہ)، ابو خان کی بکری اور چودہ کہانیاں، کچھوا اور خرگوش، کھوٹا سونا اور دیانت (ڈرامے) شامل ہیں۔

1915 میں شاہ جہاں بیگم سے شادی ہوئی۔ تین بیٹیاں ہوئیں: رقیہ ریحانہ (بچپن میں وفات)، سعیدہ بیگم (شادی خورشید عالم خاں سے)، صفیہ بیگم (شادی پروفیسر ظل الرحمان خاں سے)۔

وفات: 3 مئی 1969 کو دہلی میں انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے