- کتاب فہرست 179902
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
عوض سعید کے افسانے
دوسری موت
آج خلاف معمول ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی جوزف نے اپنے کمرے کا جائزہ لیا، ڈرائنگ روم کا چوبی دروازہ جس پر ہلکے آسمانی رنگ کا پینٹ چڑھا ہوتا تھا اس پر صلیب کے نشان کو کسی نے بے طرح کھرچ دیا تھا، عقبی کھڑکی کے دونوں شیشوں پر ہلکی ہلکی خراشیں آ گئی تھیں،
پہلی تنخواہ
عبدالصمد خیراتی ہاسپٹل میں کمپونڈر تھا۔ چھے سال پہلے وہ یہاں وارڈ بوائے کی حیثیت سے داخل ہوا تھا اور چھ سال کی مسلسل محنت کے بعد آج اس نے ترقی کی یہ جست لگائی تھی، اس کا تعلیمی پس منظر میٹرک کلاس ہی میں الجھ کر رہ گیا، وہ آگے نہ پڑھ سکا۔ وہ آگے
گنبدِ بے در
پروفیسر اکرام نے خودکشی کر لی! یہ ایک ہولناک خبر کسی بہت بڑے دھماکے کی طرح اس کے کانوں سے ٹکرائی، وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈرائینگ روم کی کھڑکی کے قریب آ کر ٹھہر گئی۔ وہ گزرتے جاڑوں کی ایک طویل خوبصورت رات تھی، سرما کی برفیلی ہوائیں سائیں سائیں
ریت کے محل
وہ عجیب آدمی تھا۔ اس کے جسم کے سارے کل پرزے مضحکہ خیز حد تک بگڑے ہوئے تھے، موٹی موٹی ابھری ابھری سی آنکھیں باہر یوں نکل آئی تھیں جیسے کسی نے اس کا گلا دبا کر چھوڑ دیا ہو۔ کدو کی طرح لمبوترا سر، دبی دبی سی پیشانی، چپٹی سی ناک، ہونٹ بھی عجیب طرح کے،
بیدل صاحب
میرے مکان کے برابر بیدل صاحب کا مکان تھا، بڑا خوبصورت کشادہ سا مکان جس کی چھتیں طوفانی بارش میں بھی ٹپکتی نہ تھیں۔ باہر دروازے کی چوڑی پیشانی پر ایک سیاہ تختی جھومر ی طرح لٹک رہی تھی جس پر جلی حروف میں ’’بیدل‘‘ لکھا تھا۔ شام ہوتے ہی وہ ہاتھ میں پانوں
سائے کا سفر
سہ پہر کی ساعتیں تیزی سے شام کے دھندلکے میں تبدیل ہو رہی تھیں اور فضا میں ایک سوگوار سی اداسی رچی بسی تھی۔ پوسٹ مین ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ بڑی بے چینی سے برآمدے میں ٹہل رہا تھا۔ گذشتہ ایک ہفتے سے وہ خط کے انتظار میں اپنی سدھ بدھ کھو چکا تھا، آج اسے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
