- کتاب فہرست 180334
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
فہیمہ خالد کا تعارف
شناخت:فہیمہ مرزا کی تحریروں میں انسانی جذبات، ہجرت، زندگی کے تجربات اور معاشرتی مشاہدات کی عکاسی نمایاں ہے۔
فہیمہ خالد ادبی دنیا میں فہیمہ مرزا کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی تاریخِ پیدائش 6 نومبر 1957 ہے۔ بچپن ہی سے شعر و ادب سے گہرا شغف تھا اور اسکول کے زمانے میں نظموں کی تخلیق اور مختلف تقریبات میں ان کی پیش کش کے ذریعے ادبی ذوق کو جِلا ملتی رہی۔ گھر کا ادبی ماحول بھی ان کی تخلیقی شخصیت کی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔ ان کے ماموں عظیم معاویہ معروف دانشور، استاد اور ادبی مفکر تھے، جن کے توسط سے نامور ادبی شخصیات کی آمد و رفت اور ادبی نشستوں سے قریب سے واقفیت حاصل ہوئی۔
فہیمہ مرزا کی زندگی اور تعلیم کا ایک بڑا حصہ کویت میں گزرا، جہاں محدود تعلیمی وسائل کے باوجود انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ کویت میں قیام کے دوران بھی شعری نشستوں میں شرکت اور ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 1990ء میں کویت، عراق جنگ کے دوران انہیں اچانک کویت چھوڑنا پڑا۔ اس ہجرت کے نتیجے میں ان کی زندگی بھر کی بیشتر تحریری یادداشتیں اور ادبی اثاثہ وہیں رہ گیا۔ پاکستان واپسی کے بعد انہیں اپنی زندگی اور ادبی سفر کو نئے سرے سے منظم کرنے میں کئی برس لگے۔
2023ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’انسان بے فروخت‘‘ شائع ہوا، جب کہ 2026ء کے اوائل میں ان کا ناول ’’شب گزیدہ آنکھیں‘‘ منظر عام پر آیا۔ ان کا سفرنامہ ’’زاخو کا آسمان‘‘ بھی اشاعت کے لیے تیار ہے، جس میں کویت سے زمینی راستے کے ذریعے روانگی کے بعد عراق، ترکی اور ایران میں پیش آنے والے تجربات، مشاہدات اور یادوں کو قلم بند کیا گیا ہے۔
ادب کے ساتھ ساتھ فہیمہ مرزا نے لندن سے فیشن ڈیزائننگ اور بیوٹیشن کی تربیت حاصل کی اور ایک عرصے تک اسے بطور پیشہ بھی اختیار کیا۔ تاہم شعر و ادب سے اپنی گہری وابستگی کے باعث بالآخر انہوں نے اپنی تمام تر توجہ ادبی تخلیق کے لیے وقف کر دی۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
