Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Faheema Khalid's Photo'

فہیمہ خالد

1957 | لاہور, پاکستان

شاعرہ اور ناول نگار

شاعرہ اور ناول نگار

فہیمہ خالد کا تعارف

تخلص : 'فہیمہ مرزا'

اصلی نام : فہیمہ خالد

پیدائش : 06 Nov 1957 | لاہور, پنجاب

شناخت:فہیمہ مرزا کی تحریروں میں انسانی جذبات، ہجرت، زندگی کے تجربات اور معاشرتی مشاہدات کی عکاسی نمایاں ہے۔

فہیمہ خالد ادبی دنیا میں فہیمہ مرزا کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی تاریخِ پیدائش 6 نومبر 1957 ہے۔ بچپن ہی سے شعر و ادب سے گہرا شغف تھا اور اسکول کے زمانے میں نظموں کی تخلیق اور مختلف تقریبات میں ان کی پیش کش کے ذریعے ادبی ذوق کو جِلا ملتی رہی۔ گھر کا ادبی ماحول بھی ان کی تخلیقی شخصیت کی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔ ان کے ماموں عظیم معاویہ معروف دانشور، استاد اور ادبی مفکر تھے، جن کے توسط سے نامور ادبی شخصیات کی آمد و رفت اور ادبی نشستوں سے قریب سے واقفیت حاصل ہوئی۔

فہیمہ مرزا کی زندگی اور تعلیم کا ایک بڑا حصہ کویت میں گزرا، جہاں محدود تعلیمی وسائل کے باوجود انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ کویت میں قیام کے دوران بھی شعری نشستوں میں شرکت اور ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 1990ء میں کویت، عراق جنگ کے دوران انہیں اچانک کویت چھوڑنا پڑا۔ اس ہجرت کے نتیجے میں ان کی زندگی بھر کی بیشتر تحریری یادداشتیں اور ادبی اثاثہ وہیں رہ گیا۔ پاکستان واپسی کے بعد انہیں اپنی زندگی اور ادبی سفر کو نئے سرے سے منظم کرنے میں کئی برس لگے۔

2023ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’انسان بے فروخت‘‘ شائع ہوا، جب کہ 2026ء کے اوائل میں ان کا ناول ’’شب گزیدہ آنکھیں‘‘ منظر عام پر آیا۔ ان کا سفرنامہ ’’زاخو کا آسمان‘‘ بھی اشاعت کے لیے تیار ہے، جس میں کویت سے زمینی راستے کے ذریعے روانگی کے بعد عراق، ترکی اور ایران میں پیش آنے والے تجربات، مشاہدات اور یادوں کو قلم بند کیا گیا ہے۔

ادب کے ساتھ ساتھ فہیمہ مرزا نے لندن سے فیشن ڈیزائننگ اور بیوٹیشن کی تربیت حاصل کی اور ایک عرصے تک اسے بطور پیشہ بھی اختیار کیا۔ تاہم شعر و ادب سے اپنی گہری وابستگی کے باعث بالآخر انہوں نے اپنی تمام تر توجہ ادبی تخلیق کے لیے وقف کر دی۔

موضوعات

Recitation

بولیے