- کتاب فہرست 180767
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3352طنز و مزاح603 صحافت202 زبان و ادب1142
خطوط725 طرز زندگی30 طب978 تحریکات268 ناول4284 سیاسی349 مذہبیات4784 تحقیق و تنقید6711افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2017نصابی کتاب441 ترجمہ4197-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1269
- ہائیکو11
- حمد61
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات572
- ماہیہ20
- مجموعہ4886
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت592
- نظم1214
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ68
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
فہیمہ خالد کا تعارف
شناخت:فہیمہ مرزا کی تحریروں میں انسانی جذبات، ہجرت، زندگی کے تجربات اور معاشرتی مشاہدات کی عکاسی نمایاں ہے۔
فہیمہ خالد ادبی دنیا میں فہیمہ مرزا کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی تاریخِ پیدائش 6 نومبر 1957 ہے۔ بچپن ہی سے شعر و ادب سے گہرا شغف تھا اور اسکول کے زمانے میں نظموں کی تخلیق اور مختلف تقریبات میں ان کی پیش کش کے ذریعے ادبی ذوق کو جِلا ملتی رہی۔ گھر کا ادبی ماحول بھی ان کی تخلیقی شخصیت کی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔ ان کے ماموں عظیم معاویہ معروف دانشور، استاد اور ادبی مفکر تھے، جن کے توسط سے نامور ادبی شخصیات کی آمد و رفت اور ادبی نشستوں سے قریب سے واقفیت حاصل ہوئی۔
فہیمہ مرزا کی زندگی اور تعلیم کا ایک بڑا حصہ کویت میں گزرا، جہاں محدود تعلیمی وسائل کے باوجود انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ کویت میں قیام کے دوران بھی شعری نشستوں میں شرکت اور ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 1990ء میں کویت، عراق جنگ کے دوران انہیں اچانک کویت چھوڑنا پڑا۔ اس ہجرت کے نتیجے میں ان کی زندگی بھر کی بیشتر تحریری یادداشتیں اور ادبی اثاثہ وہیں رہ گیا۔ پاکستان واپسی کے بعد انہیں اپنی زندگی اور ادبی سفر کو نئے سرے سے منظم کرنے میں کئی برس لگے۔
2023ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’انسان بے فروخت‘‘ شائع ہوا، جب کہ 2026ء کے اوائل میں ان کا ناول ’’شب گزیدہ آنکھیں‘‘ منظر عام پر آیا۔ ان کا سفرنامہ ’’زاخو کا آسمان‘‘ بھی اشاعت کے لیے تیار ہے، جس میں کویت سے زمینی راستے کے ذریعے روانگی کے بعد عراق، ترکی اور ایران میں پیش آنے والے تجربات، مشاہدات اور یادوں کو قلم بند کیا گیا ہے۔
ادب کے ساتھ ساتھ فہیمہ مرزا نے لندن سے فیشن ڈیزائننگ اور بیوٹیشن کی تربیت حاصل کی اور ایک عرصے تک اسے بطور پیشہ بھی اختیار کیا۔ تاہم شعر و ادب سے اپنی گہری وابستگی کے باعث بالآخر انہوں نے اپنی تمام تر توجہ ادبی تخلیق کے لیے وقف کر دی۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
