76
Favorite

باعتبار

حوصلہ سب نے بڑھایا ہے مرے منصف کا

تم بھی انعام کوئی میری سزا پر لکھ دو

اب مجھ سے سنبھلتی نہیں یہ درد کی سوغات

لے تجھ کو مبارک ہو سنبھال اپنی یہ دنیا

اب اس مقام پہ ہے موسموں کا سرد مزاج

کہ دل سلگنے لگے اور دماغ جلنے لگے

یوں بھی کیا ہے ہم نے حق دلبری ادا

اپنی ہی جیت اپنے ہی ہاتھوں سے ہار دی

متاع درد مآل حیات ہے شاید

دل شکستہ مری کائنات ہے شاید

عام ہے اذن کہ جو چاہو ہوا پر لکھ دو

عشق زندہ ہے ذرا دست صبا پر لکھ دو

ہیں ان میں بند کسی عہد رستخیز کے عکس

یہ میری آنکھیں عجائب گھروں میں رکھ آنا

عکس کچھ نہ بدلے گا آئنوں کو دھونے سے

آذری نہیں آتی پتھروں پہ رونے سے

ہوں واردات کا عینی گواہ میں مجھ سے

یہ میری موت سے پہلے مرا بیاں لے لو

انہیں گماں کہ مجھے ان سے ربط ہے سالمؔ

مجھے یہ وہم انہیں التفات ہے شاید

ہے میری آنکھوں میں عکس نوشتہ دیوار

سمجھ سکو تو مرا نطق بے زباں لے لو

تجھے خبر ہی نہیں ہے یہ قصۂ کوتاہ

جہاں پہ بت نہ گرے کب وہاں حرم اترا

شوق بے حد نے کسی گام ٹھہرنے نہ دیا

ورنہ کس گام مرا خون تمنا نہ ہوا