فاروق انجینئر کے اشعار
پچھلا برس تو خون رلا کر گزر گیا
کیا گل کھلائے گا یہ نیا سال دوستو
برس رہی ہے اداسی تمام آنگن میں
وہ رت جگوں کی حویلی بڑے عذاب میں ہے
کچھ تو محفوظ رکھیے سینے میں
زندگانی کھلی کتاب نہ ہو
اس لیے کاٹتا ہوں یہ گھڑیاں
وقت کی چال کامیاب نہ ہو
-
موضوع : وقت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ